Back to: 12th Class Urdu Notes JKBOSE | Chapterwise Notes
- نظم: اے شریف انسانو!
- شاعر: ساحر لدھیانوی
نظم اے شریف انسانو کی تشریح
| خون اپنا ہو یا پرایا ہو نسل آدم کا خون ہے آخر جنگ مشرق میں ہو یا مغرب میں امن عالم کا خون ہے آخر |
تشریح:
1.”خون اپنا ہو یا پرایا ہو، نسل آدم کا خون ہے آخر”
اس مصرعے میں شاعر اس بات کو واضح کرتا ہے کہ چاہے خون کسی بھی قوم یا فرد کا ہو، آخر کار وہ انسان کا خون ہے۔ نسل اور قومیت کی تقسیم کو بالائے طاق رکھ کر یہ کہنا کہ ہر خون کا بہنا انسانیت کے خلاف ہے، شاعر کی انسانیت دوستی اور عالمی بھائی چارے کی فکر کو ظاہر کرتا ہے۔
2. “جنگ مشرق میں ہو یا مغرب میں، امن عالم کا خون ہے آخر”
اس مصرعے میں شاعر بیان کرتا ہے کہ جنگ کسی بھی خطے میں ہو، چاہے وہ مشرق ہو یا مغرب، اس کا نقصان عالمی امن کو ہوتا ہے۔ جنگ کی تباہ کاریوں سے صرف ایک ملک یا خطہ متاثر نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔
| بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے زیست فاقوں سے تلملاتی ہے |
تشریح:
1. “بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر، روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے”
اس مصرعے میں شاعر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ چاہے بم عام لوگوں کے گھروں پر گریں یا جنگی سرحدوں پر، دونوں صورتوں میں نقصان انسانیت اور تعمیر و ترقی کا ہوتا ہے۔ جنگ کے دوران جو بھی تباہی ہوتی ہے، اس کا اثر صرف فوج یا سپاہیوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری انسانی تہذیب اور معاشرتی ڈھانچے پر ہوتا ہے۔ “روحِ تعمیر” یعنی ترقی اور تعمیر کی روح کو زخم پہنچتا ہے، اور انسانی فلاح و بہبود کا راستہ مسدود ہو جاتا ہے۔
2. “کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے، زیست فاقوں سے تلملاتی ہے”
اس مصرعے میں شاعر جنگ کی معاشی تباہ کاریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ چاہے کھیت اپنے ہوں یا دوسروں کے، ان کی بربادی کا نتیجہ ہر حال میں بھوک اور فاقوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ جنگ کی وجہ سے خوراک کی کمی اور قحط پیدا ہوتا ہے، جس سے عام لوگ شدید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کسانوں کی محنت ضائع ہوتی ہے، اور پوری قوم کی زندگی غربت اور بھوک میں ڈوب جاتی ہے۔
| ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ زندگی میتوں پہ روتی ہے |
تشریح:
1. ساحر لدھیانوی کی یہ نظم جنگ کی بربادیوں اور اس کے سماجی و معاشرتی اثرات کو اجاگر کرتی ہے۔ پہلے مصرعے “ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں، کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے” میں شاعر اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں کہ چاہے جنگ میں ٹینک آگے بڑھیں یا پیچھے ہٹیں، اس کا نتیجہ ہمیشہ زمین کی بربادی کی صورت میں نکلتا ہے۔ جنگ زمین کو بنجر کر دیتی ہے، زراعت اور قدرتی وسائل تباہ ہو جاتے ہیں، اور انسانیت کے لئے خوشحالی کا خواب ماند پڑ جاتا ہے۔
دوسرے مصرعے “فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ، زندگی میتوں پہ روتی ہے” میں شاعر جنگ کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان کو بیان کرتے ہیں۔ چاہے جنگ جیتی جائے یا ہاری جائے، دونوں صورتوں میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے، اور زندگی غم و ماتم میں ڈوبی رہتی ہے۔ اس مصرعے میں زندگی کے تلخ حقائق کی عکاسی کی گئی ہے کہ جنگ کی فتح یا شکست میں خوشی کا کوئی پہلو نہیں، صرف انسانی جانوں کی تباہی اور دکھ ہی حاصل ہوتا ہے۔
| جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی آگ اور خون آج بخشے گی بھوک اور احتیاج کل دے گی |
تشریح:
ساحر لدھیانوی ان اشعار میں جنگ کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جنگ بذات خود ایک مسئلہ ہے، اور یہ مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید مشکلات پیدا کرتی ہے۔ “جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے، جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی” اس مصرع میں شاعر یہ بیان کرتا ہے کہ جنگ سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ “آگ اور خون آج بخشے گی، بھوک اور احتیاج کل دے گی” میں وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جنگ فوری طور پر تباہی، خونریزی اور موت لاتی ہے، لیکن اس کے دور رس نتائج اور بھی خطرناک ہوتے ہیں، جیسے بھوک، غربت اور معاشی بدحالی۔ اس طرح، جنگ انسانی زندگی اور معاشرتی ڈھانچے کو مکمل طور پر برباد کر دیتی ہے۔
| اس لئے اے شریف انسانو! جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں شمع جلتی رہے تو بہتر ہے |
تشریح:
ساحر لدھیانوی کی نظم میں شاعر نے انسانیت کے نام پر جنگ سے گریز کی تلقین کی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جنگ کے نتائج تباہ کن ہوتے ہیں اور اس سے انسانی زندگی، خوشیاں اور سکون برباد ہو جاتے ہیں۔ شاعر اس بات پر زور دیتا ہے کہ جنگوں کو روکنا ہی بہتر ہے تاکہ معاشروں میں امن و خوشحالی قائم رہ سکے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہر انسان کے گھر میں امید کی شمع جلتی رہے اور خوف و تباہی کی جگہ محبت اور بھائی چارے کا ماحول ہو۔ اس طرح نظم میں جنگ کی مخالفت اور امن کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
| برتری کے ثبوت کی خاطر خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے گھر کی تاریکیاں مٹانے کو گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے |
تشریح:
ساحر لدھیانوی کی اس نظم میں شاعر برتری اور اقتدار کی ہوس پر سوال اٹھاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کسی قوم یا فرد کی برتری ثابت کرنے کے لیے خون بہانا یعنی جنگ و جدل میں جانیں لینا ضروری نہیں ہے۔ اسی طرح، وہ مزید تشبیہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ جیسے گھر کی تاریکیاں دور کرنے کے لیے گھر کو جلا دینا دانشمندی نہیں، ویسے ہی مسائل کو حل کرنے کے لیے تباہی اور بربادی ضروری نہیں۔ شاعر امن، سمجھداری اور انسانی فلاح پر زور دیتا ہے اور ظلم و جنگ کی مخالفت کرتا ہے۔
| جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں صرف میدان کشت و خوں ہی نہیں حاصلِ زندگی خرد بھی ہے حاصلِ زندگی جنوں ہی نہیں |
تشریح:
ساحر لدھیانوی اس نظم میں جنگ اور تشدد کے روایتی تصورات کو چیلنج کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جنگ کے لیے اور بھی بہت سے میدان ہیں، صرف خونریزی اور قتل و غارت گری کے نہیں۔ زندگی کا مقصد صرف جنون، شدت یا جنگی فتوحات نہیں، بلکہ عقل و شعور (خرد) بھی ہے۔ شاعر اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں تشدد سے ہٹ کر عقل و دانش کے میدان میں بھی آگے بڑھنا چاہیے۔ وہ امن، فکر و دانش اور انسانیت کی قدروں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے، جنگ اور تباہی کی مخالفت کرتے ہیں۔
| آو اس تیرہ بخت دنیا میں فکر کی روشنی کو عام کریں امن کو جن سے تقویت پہنچے ایسی جنگوں کا اہتمام کریں |
تشریح:
ساحر لدھیانوی اس نظم میں انسانیت کو دعوت دیتے ہیں کہ دنیا کی بدقسمتی اور تاریکی کو فکر و دانش کی روشنی سے دور کیا جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ ایسی جنگوں کا اہتمام کریں جو تشدد کے بجائے امن کو فروغ دیں۔ یہاں شاعر “جنگ” کا لفظ استعارتی طور پر استعمال کرتا ہے، جس سے مراد ایسی جدوجہد ہے جو علم، شعور اور انسانیت کی بھلائی کے لیے ہو۔ ان کا پیغام ہے کہ اصل جنگ وہ ہے جو جہالت، نفرت اور ظلم کے خلاف لڑی جائے، تاکہ دنیا میں امن، محبت اور روشنی کا بول بالا ہو۔
۲ مشقی سوالات۔
۱۔ اُردو نظم کی مختلف ہیتوں کے بارے میں اپنی واقفیت کا اظہار کریں۔
اُردو نظم کی کئی ہیتیں ہیں، جو اپنے موضوع اور انداز بیان کی بنا پر مختلف ہوتی ہیں:
آزاد نظم:
اس میں قافیے اور ردیف کی پابندی نہیں ہوتی، خیال کی روانی پر زور دیا جاتا ہے۔
نظمِ معریٰ:
اس میں قافیہ نہیں ہوتا لیکن بحر کی پابندی ہوتی ہے۔
نظمِ مسدس:
ہر بند چھ مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے اور عام طور پر قومی یا اصلاحی موضوعات کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
نظمِ مثنوی:
دو مصرعوں میں ایک ہی قافیہ اور ردیف ہوتی ہے، یہ طویل قصے بیان کرنے کے لیے موزوں ہے۔
نظمِ ثلاثی:
اس میں تین مصرعے ہوتے ہیں اور عموماً مختصر موضوعات کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
رباعی:
چار مصرعوں پر مشتمل مختصر نظم ہے، جس میں فلسفہ اور حکمت کے موضوعات عام ہیں۔
قطعہ:
دو یا زیادہ مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں ایک خاص خیال یا موضوع کو بیان کیا جاتا ہے۔
حمد و نعت:
مذہبی نظم کی اقسام ہیں، جو خدا اور پیغمبر کی تعریف کے لیے لکھی جاتی ہیں۔
مرثیہ:
اس میں کسی کی موت یا سانحے پر غم کا اظہار کیا جاتا ہے، خاص طور پر امام حسینؓ کی شہادت کے لیے معروف ہے۔
غزل:
اگرچہ بنیادی طور پر نظم نہیں، مگر غزل میں بھی شاعری کی ایک مخصوص ہیت ہوتی ہے جس میں ہر شعر مکمل ہوتا ہے۔
۲. ساحر لدھیانوی کے حالات زندگی اور نظم نگاری کی خصوصیات قلمبند کیجئے۔
جواب: ساحر لدھیانوی کی ولادت 8 مارچ 1921 میں لدھیانہ کے کریم پور اعلاقہ میں ہوئی۔ ان کا اصل نام عبدالحہ تھا۔ ان کے دادا کا نام فاتح محمد اور والد کا نام فضل محمد تھا۔ساحر نے اردو اور فارسی میں ابتدائی تعلیم مولانا فیاض ہریانوی سےسیکھی۔ انھوں نے خالہ ہائی اسکول لدھیانہ سے تعلیم حاصل کی۔ وہ ایک ذہین اور محنتی طالب علم تھے۔ 1937 میں میٹرک کے امتحان کے بعد انھوں نے لدھیانہ کی ایس سی دھون گورمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔
لیکن ان کی بے راہ روی کی وجہ سے انھیں برخاست کر دیا گیا۔ بعد ازاں 1943 میں ساحر لاہور پہنچے جہاں انھوں نے دیال سنگھ کالج میں داخلہ لیا۔ یہاں انھیں پہلی مرتبہ کامیابی ملی اور انھیں اسٹوڈنٹ فیڈریشن کا صدر منتخب کیا گیا۔ ساحر طالب علمی کے زمانے سے اپنی نظموں اور غزلوں کے لیے مشہور تھے۔ اور یہی انھوں نے اپنی پہلی نظموں کی کتاب تلخیاں 1945 میں جاری کی۔ جس کی اشاعت نے انھیں مقبول بنادیا۔ ساحر 1948 میں شاہکار ،ادبِ لطیف اور سویر اوغیرہ اردو میگزینوں کے منتظم بنے۔
ہندوستان کے بٹوارے کے بعد 1949 میں ساحر لاہور سے دہلی اور پھر بمبئی پہنچے۔ انھیں تلخیاں کی وجہ سے مقبولیت حاصل تھی لیکن کافی جد و جہد کے بعد بھی انھیں فلموں میں کام کرنے کا موقع نہیں ملا۔ آخر کار 1949 میں آزادی کی راہ پر نامی فلم کے ذریعے انھوں نے نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ اس فلم میں انھوں نے چار نغمے لکھے۔ لیکن اس فلم کو خاص کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ البتہ 1951 وہ سال تھا جس نے ساحر کو کامیابی کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ انھوں نے فلم نوجوان میں ٹھنڈی ہوائیں لہرا کے آئیں نغمہ کے بول لکھے۔
ساحر نے بالی وڈ کی فلموں میں متعدد مشہور نغمے لکھے ہیں۔ جن میں توہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا ، میں پل دو پل کا شاعر ہوں، اے میری ظہر اجبین، کبھی کبھی میرے دل میں اور ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر وغیرہ شامل ہیں۔ وہ ایک طویل عرصے تک کامیاب نغمہ نگار کے طور پر نغمے لکھتے رہے۔ انھوں نے مشہور موسیقی سازوں مثلا ایس ڈی بر من مدن موہن ، روشن ، اور کنہیا روی کے ساتھ 1950 سے 1960 کے دوران کام کیا۔ وہ گرودت کی ٹیم کا حصہ تھے اور الیس ڈی برمن کے ساتھ مل کر بہت سے مشہور نغمے تکمیل دیے۔
ساحر نے فلمی نغموں کو فضول الفاظ کے جنگل سے باہر نکال کر با مقصدشاعری سے آشنا کرایا۔ روشن کے ساتھ مل کر ساحر نے بہت سی فلموں کے لیے شاندار نغمے لکھے ، جس میں تاج محل بھی شامل ہے۔ اس فلم کے نغموں کے لیے انھیں بہترین نغمہ نگار کا فلم فئیر ایوارڈ ملا۔ 1970 کے دوران انھوں نے یش چوپڑا کی فلموں کے لیے نغمے لکھے۔ کبھی کبھی فلم کی نغمہ نگاری کے لیے انھیں ان کا دوسرا فلم فئیر ایوارڈ ملا۔ بعد ازاں 1971 میں انھیں حکومت ہند کی جانب سے پدما شری کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔
۳. نظم “اے شریف انسانو” کے مرکزی خیال کی وضاحت کیجئے۔
مرکزی خیال: نظم “اے شریف انسانو” کا مرکزی خیال انسانیت کے اعلیٰ اخلاقی اور سماجی اصولوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ شاعر انسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے سوال کرتا ہے کہ وہ اپنی اصل انسانیت کو کیوں بھول گئے ہیں۔ وہ ان سے توقع رکھتا ہے کہ وہ انصاف، بھائی چارہ، محبت، ہمدردی، اور مساوات جیسے اصولوں کو اپنائیں۔
شاعر دنیا میں پھیلی ناانصافی، ظلم، جنگ اور نفرت پر تنقید کرتا ہے اور انسانوں کو یاد دلاتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر شریف اور نیک فطرت ہیں۔ نظم میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اگر انسان اپنی اخلاقی ذمے داریوں کو پہچان لیں اور ان پر عمل کریں تو دنیا میں امن اور خوشحالی قائم ہو سکتی ہے۔
یعنی، نظم کا مقصد انسانوں کو ان کے بھولے ہوئے فرائض کی یاد دہانی کرانا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لا سکیں اور دوسروں کے لیے بہتر مثال بن سکیں۔
۴. اس نظم میں جنگ اور امن سے پیدا ہونے والے حالات کا نقشہ کھینچا گیاہے۔ نظم کو ذہن میں رکھ کر امن انسانی بقا کا ضامن ہے“ کے عنوان پر ڈیڑھ سوالفاظ کا مضمون لکھیے۔
مضمون: امن انسانی بقا کا ضامن ہے
دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جنگ و جدل نے ہمیشہ انسانی زندگی کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا ہے۔ جنگوں نے نہ صرف معصوم انسانوں کی جانیں لیں بلکہ معاشرتی ڈھانچے، معیشت، اور انسانی رشتے بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے۔ اسی تناظر میں، شاعر نے نظم “اے شریف انسانو” میں جنگ کے اثرات اور انسانیت کی بربادی کو بیان کیا ہے۔ شاعر کا پیغام واضح ہے کہ جنگیں انسانوں کی خوشحالی اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، جبکہ امن ہی وہ واحد راستہ ہے جو انسانی بقا اور ترقی کو ممکن بناتا ہے۔
امن، معاشرتی ترقی، خوشحالی، اور انسانوں کے درمیان محبت و بھائی چارے کا ضامن ہے۔ امن کے ماحول میں انسان آزادانہ طور پر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتا ہے، سائنسی ایجادات، علمی تحقیق، اور تہذیبی ترقی ممکن ہوتی ہے۔ جنگ کے دوران انسانوں کی زندگی بے یقینی اور خوف کا شکار ہو جاتی ہے، جبکہ امن کے دور میں ایک خوشحال اور مستحکم معاشرہ پروان چڑھتا ہے۔
امن انسانی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ انسان کی بقا اور ترقی کا انحصار باہمی احترام، انصاف، اور محبت پر ہے۔ اگر دنیا میں امن قائم ہو تو وسائل کی تقسیم منصفانہ ہوگی، اور تمام انسانوں کو ان کے بنیادی حقوق مل سکیں گے۔ شاعر نے بھی اپنی نظم میں انسانوں کو ان کے اصلی فطری شرف کی یاد دلاتے ہوئے جنگ سے دور رہنے اور امن کی طرف راغب ہونے کی تلقین کی ہے۔
آخرکار، امن وہ قیمتی نعمت ہے جس کے بغیر انسانی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم دنیا کو جنگ سے پاک کریں اور امن کو فروغ دیں تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک بہتر اور محفوظ دنیا چھوڑی جا سکے۔
۳۔ مختصر جواب طلب سوالات۔
۱ جنگ کس کا خون ہے؟
جواب: جنگ امن عالم کا خون ہے۔
۲ کھیتوں کے جلنے سے کیا ہوتا ہے؟
جواب: اس کی وجہ سے خوراک کی کمی اور قحط پیدا ہوتا ہے، جس سے عام لوگ شدید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کسانوں کی محنت ضائع ہوتی ہے، اور پوری قوم کی زندگی غربت اور بھوک میں ڈوب جاتی ہے۔
۳.” ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں “
جواب: اس میں شاعر اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں کہ چاہے جنگ میں ٹینک آگے بڑھیں یا پیچھے ہٹیں، اس کا نتیجہ ہمیشہ زمین کی بربادی کی صورت میں نکلتا ہے۔
۴. کو کھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے۔
جواب: اس میں شاعر کہتا ہے کہ جنگ زمین کو بنجر کر دیتی ہے، زراعت اور قدرتی وسائل تباہ ہو جاتے ہیں، اور انسانیت کے لئے خوشحالی کا خواب ماند پڑ جاتا ہے۔
۵. درج ذیل الفاظ جن اشعار میں استعمال ہوئے ہیں ان کی وضاحت کیجئے۔
| تعمیر: | روحِ تعمیر” یعنی ترقی اور تعمیر کی روح کو زخم پہنچتا ہے، اور انسانی فلاح و بہبود کا راستہ مسدود ہو جاتا ہے۔ |
| زیست: | اس مصرعے میں شاعر جنگ کی معاشی تباہ کاریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ چاہے کھیت اپنے ہوں یا دوسروں کے، ان کی بربادی کا نتیجہ ہر حال میں بھوک اور فاقوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ جنگ کی وجہ سے خوراک کی کمی اور قحط پیدا ہوتا ہے، جس سے عام لوگ شدید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کسانوں کی محنت ضائع ہوتی ہے، اور پوری قوم کی زندگی غربت اور بھوک میں ڈوب جاتی ہے۔ |
| شریف: | ساحر لدھیانوی کی نظم میں شاعر نے انسانیت کے نام پر جنگ سے گریز کی تلقین کی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جنگ کے نتائج تباہ کن ہوتے ہیں اور اس سے انسانی زندگی، خوشیاں اور سکون برباد ہو جاتے ہیں۔ شاعر اس بات پر زور دیتا ہے کہ جنگوں کو روکنا ہی بہتر ہے تاکہ معاشروں میں امن و خوشحالی قائم رہ سکے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہر انسان کے گھر میں امید کی شمع جلتی رہے اور خوف و تباہی کی جگہ محبت اور بھائی چارے کا ماحول ہو۔ اس طرح نظم میں جنگ کی مخالفت اور امن کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ |
| کشت و خون: | وہ کہتے ہیں کہ جنگ کے لیے اور بھی بہت سے میدان ہیں، صرف خونریزی اور قتل و غارت گری کے نہیں۔ |
| خرد: | زندگی کا مقصد صرف جنون، شدت یا جنگی فتوحات نہیں، بلکہ عقل و شعور (خرد) بھی ہے۔ شاعر اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں تشدد سے ہٹ کر عقل و دانش کے میدان میں بھی آگے بڑھنا چاہیے۔ |