Back to: 12th Class Urdu Notes JKBOSE | Chapterwise Notes
کتاب: “بہارستانِ اردو برائے بارہویں جماعت
صنف: خاکہ
سبق کا نام: مینا کماری
مصنف کا نام: خواجہ احمد عباس
مشق:
خواجہ احمد عباس کے حالات زندگی اور ادبی خدمات تحریر کیجئے۔
خواجہ احمد عباس جون ۱۹۱۴ ء کو پانی پت میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کا تعلق مولانا الطاف حسین حالی کے ساتھ تھا۔ ان کے دادا خواجہ غلام عباس ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں شہید ہوئے تھے۔ خواجہ احمد عباس کے والد کا نام غلام سبطین تھا۔ اُن کی والدہ مسرور خاتون سجادحسین کی بیٹی تھی۔ خواجہ صاحب نے ابتدائی تعلیم مسلم ہائی ا سکول پانی پت میں حاصل کی۔ پندرہ برس کی عمر میں دسویں کا امتحان پاس کیا ۱۹۳۳ ء میں بی۔اے اور پھر ۱۹۳۵ءمیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔
خواجہ احمد عباس نے اپنی تخلیقی زندگی کا آغاز ایک صحافی کی حیثیت سے کیا۔ طالبِ علمی کے زمانے میں ہی وہ نئی دہلی کے ایک اخبار “نیشنل کال” سے وابستہ ہو گئے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے ۱۹۳۵ میں “بمبئی کرانیکل” میں کام شروع کیا۔ اُن کی دلچسی فلمی دنیا سے بہت زیادہ تھی۔ ۱۹۳۶ء میں وہ “بمبئی ٹائمیز” سے وابستہ ہو گئے۔ ۱۹۳۱ء میں انہوں نے پہلا فلمی اسکرپٹ ”نیا سنسار” لکھا۔
اس کے بعد فلمی دنیا میں اُن کی پہچان ایک اسکرپٹ رائٹ کے طور پر بن گئی۔ ۱۹۴۵ء میں انہوں نے قحط بنگال پر بنائی گئی فلم میں ہدایت کار کا کام انجام دیا۔ ۱۹۵۱ء میں انہوں نے ”’نیا سنسار” کے نام سے اپنی کمپنی بنائی۔ اس کمپنی نے ہندوستانی سینما کو بہت مشہور فلمیں دیں۔ ۱۹۱۴ میں ان کی بنائی گی فلم “شہراور سپنا ” کوقومی ایوار سے نوازا گیا۔ ان کی ایک اورفلم “سات ہندوستانی “کو نرگس دت ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اس کے علاوہ بھی فلمی دنیا میں ان کی “میرا نام جوکر ” ، “بوبی” اور “دو بوند پانی” جیسی اہم فلمیں شامل ہیں۔اگر ان کی ادبی خدمات کی بات کی جائے تو خواجہ احمد عباس ایک ہمہ جہت اور ترقی پسند ادیب تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی فلم انڈسٹری میں گزاری۔ انہوں نے کئی فلموں کے اسکرپٹ لکھے اور کئی فلموں میں ہدایت کار کا کام انجام دیا۔ ان کی فلمیں بھی ترقی پسند خیالات کی حامل ہوتی تھیں۔
انہوں نے انگریزی، اردو اور ہندی میں 73 کتا بیں تصنیف کیں، جو اپنے اندر ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ انہیں اردو افسانے کی جدید روشنی بھی کہا جاتاہے ان کا شاہ کار افسانہ “انقلاب” ہے۔ یه افسانہ فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق ہے۔ انہوں نے دنیا کی کئی عظیم ہستیوں کے انٹرویو بھی کئے ہیں جن میں روسی وزیر اعظم خروشیف، امریکی صدر روز ویلٹ، اداکار چارلی چپلن اور چینی لیڈر ماؤ زی تونک خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
افسانہ، ناول، صحافت سفرنامہ ، خا کہ ، فلم غرض یہ کہ ہر میدانِ ادب میں اپنے قلم کے جوہر دکھائے۔ انہوں نے کئی لوگوں کے شاندار خاکے لکھے۔ فلم انڈسٹری سے وابستہ اداکاروں اور دوسرے لوگوں کے جیتے جاگتے مرقع بہترین انداز میں پیش کئے ہیں۔خواجہ احمد عباس کا اسلوب عام فہم اور رواں ہے۔ وہ مشکل الفاظ اور تراکیب استعمال نہیں کرتے۔ سیدھی بات کہنے کا فن اُن کو خوب آتا ہے۔ غرض یہ کہ وہ اردو کے بہت بڑے اور قد آور ادیب ہیں۔
مینا کماری کا خاکہ پڑھ کر خواجہ احمدعباس کی خاکہ نگاری پرمختصر نوٹ لکھئے۔
”مینا کماری” خواجہ احمد عباس کا تحریر کیا ہوا ایک بہترین خاکہ ہے۔ مصنف نے فلم اداکارہ مینا کماری کی فرض شناسی، کام کی لگن اور پابندیِ وقت کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے مینا کماری کو فلمی دنیا میں جس طرح پایا اس کا مفصل حال لکھ ڈالا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی شخصیت کا خاکہ ترتیب دیتے ہوئے محض سرسری جائزہ نہیں لیتے بل کہ ان کی قوتِ مشاہدہ بہت تیز ہے اور وہ کردار کے ساتھ اس ماحول کا حصہ بن کر اپنی تحریروں میں ان کرداروں کو اتارتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خاکہ “مینا کماری ” کی طرح قارئین کو وہ کردار اپنی آنکھوں کے سامنے چلتے پھرتے دکھائی دینے لگتے ہیں۔
خاکہ مینا کماری پڑھ کر مینا کماری کی شخصیت اور حلیہ کے بارے میں مضمون لکھئے۔
جواب: مینا کماری ایک بہترین اداکارہ تھیں۔ ان کو آرٹ سے عشق تھا۔ آرٹ ہی اس کا مرض تھا اور آرٹ ہی اس کی دوا تھی۔ جب اپنا رول ادا کرتیں تو اس میں مکمل کھو جاتی تھیں جیسے کہ اس نے ایک فلم میں چاؤلی نامی کردار ادا کیا اور کردار میں ایسی کھو گئیں کہ جب تک شوٹنگ جاری رہی وہ ایک عام چمارن کی طرح سیٹ پہ زندگی گزارتی رہی۔ سب کے ساتھ بہت اچھا اور یکساں سلوک کرتی تھیں۔ تمام لوگ ان سے بہت خوش تھے اور ہر ایک سے بہت ہمدردی سے بات کرتیں۔ ان کے حلیے کی بات کی جائے تو سفید ساڑھی بہت پسند تھی اور ہر وقت سفید ساڑھی ہی زیبِ تن کرتی تھیں۔
مینا کماری فلم میں اپنا کردار کیسے نبھاتی تھی؟
جواب:مینا کماری اپنا کام محنت اور لگن کے ساتھ کرتی تھی۔ کمزور فلموں میں بھی اپنی باکمال اداکاری سے جان ڈال دیتی تھی۔ مینا کماری ایک فلم ایکٹریس تھی لیکن اس کے اندر کئی مینا کماریاں موجود تھیں۔ جب کردار نبھاتی تو مکمل اس میں کھو جاتی جیسے کہ چاؤلی کا کردار اس کی واضح مثال ہے۔
خواجہ احمد عباس کی خاکہ نگاری کی نمایاں خصوصیات قلمبند کیجے۔
خواجہ احمد عباس کا کمال یہ ہے کہ ان کا مشاہدہ اور تجربہ بہت وسیع ہے۔ خاص طور پر سماجی معاملات اور معمولات پر کئی تحریریں لکھیں۔ان کی نظر کی یہ گہرائی ان کی دیگر تمام تحریروں کے ساتھ ساتھ ان کے خاکوں میں بھی پائی جاتی ہے۔کسی بھی کردار یا شخصیت کا اس کے ماحول سے کیسا رشتہ رہا اس پہ ان کی گہری نظر تھی۔اس لیے ان کے خاکوں میں بھی اس کی جھلک موجود ہے۔
وہ کسی بھی شخصی کردار کو بڑی ہی تخلیقی ہنرمندی اور فنکاری کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور اس کی زندگی کے نشیب و فراز اور مدو جزر کو اپنے خاکوں کا حصہ بناتے ہیں۔ اس طرح ان کے خاکوں کا رشتہ اس افادیت سے جڑ جاتا ہے جس کی توقع ادب سے کی جاتی ہے۔ وہ ایک مقصدی فن کار ہیں اسی لیے اپنے خاکوں میں مقصدیت کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے خیالات کی ترسیل ہر خاص و عام کے لیے ہو۔ یہی وجہ ہے آج بھی ادب کے قارئین ان کے تخلیق کردہ خاکوں سے کسی بھی شخصیت کے بارے میں بخوبی جانکاری حاصل کر لیتے ہیں۔
معروضی سوالات:
- خواجہ احد عباس کا لکھاہوا “مینا کماری” کیا ہے؟
- خاکہ ✅
- انشائیہ
- ڈراما
- مینا کماری کا تعلق کس شعبہ سے تھا؟
- فلمی ✅
- تجارت
- صحافت
- مینا کماری کا اصلی نام کیا ہے؟
- مہ جبین ✅
- مینا
- چندہ
- اس خاکہ میں ان کی کس فلم کا زیادہ ذکر کیا گیا ہے؟
- پاکیزہ
- چار دل چار راہیں ✅
- شکوہ و شکایت
عملی کام:
اپنے کسی دوست یا رشتہ دار کا خاکہ لکھئے۔
طلبہ اپنی پسندیدہ شخصیت کے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے خاکہ تحریر کریں کہ وہ شخصیت ان کے سامنے کس طرح ہے اس کا شخصی حلیہ اور خوبیاں و خامیاں بیان کی جائیں۔
کسی فلمی ادا کار یا اداکارہ کے بارے میں اپنی واقفیت کا اظہار کیجئے۔
بالی وڈ کے بے تاج بادشاہ اور کنگ خان کہلائے جانے والے شاہ رخ خان جنھیں رومانس کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے۔انھوں نے ساٹھ (۶۰) سے زائد ہندی فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں اور بہترین اداکار کے کئی اعزاز بھی اپنے نام کیے ہیں۔
ہندوستانی سینما پر ایک نوٹ لکھئے۔
بھارتی سنیما دنیا کی سب سے بڑی اور متنوع فلمی صنعتوں میں سے ایک ہے۔ اس کا آغاز 1913 میں دادا صاحب پھالکے کی خاموش فلم ”راجہ ہریش چندر“ سے ہوا، جس نے بھارتی فلم انڈسٹری کی بنیاد رکھی۔ دہائیوں کے دوران، بھارتی سنیما نے مختلف علاقائی فلمی صنعتوں کو شامل کرتے ہوئے کئی زبانوں میں فلمیں بنانا شروع کیں جیسے ہندی، تامل، تیلگو، بنگالی، کنڑا، ملیالم، اور مراٹھی۔
“بالی ووڈ”، جو کہ ممبئی میں مقیم ہندی زبان کی فلم انڈسٹری ہے، عالمی سطح پر سب سے زیادہ مشہور ہے۔ بالی ووڈ اپنی رنگین، موسیقی سے بھرپور فلموں کے لیے جانا جاتا ہے، جن میں اکثر گانے اور رقص کے مناظر، رومانوی کہانیاں، ڈرامہ اور ایکشن شامل ہوتے ہیں۔ امیتابھ بچن، شاہ رخ خان، اور دپیکا پڈوکون جیسے ستارے بین الاقوامی سطح پر مشہور ہیں۔
لیکن بھارتی سنیما صرف بالی ووڈ تک محدود نہیں ہے۔”ٹالی ووڈ” (تیلگو سنیما) اور “کولی ووڈ” (تمل سنیما) بھی ایسی فلمیں بناتے ہیں جو اکثر باکس آفس کی کمائی اور مداحوں کی تعداد کے لحاظ سے بالی ووڈ کا مقابلہ کرتی ہیں۔ جنوبی بھارتی سنیما نے فلموں جیسے “باہوبلی” اور *آر آر آر* کے ذریعے عالمی سطح پر شہرت حاصل کی ہے۔
بھارت میں “متوازی سنیما کی تحریک”، جو 1940 کی دہائی میں شروع ہوئی اور 1970 کی دہائی میں زور پکڑ گئی، اپنے فنکارانہ اور سماجی طور پر متعلقہ فلموں کے لیے جانی جاتی ہے۔ فلم سازوں جیسے ستیہ جیت رائے، رت وِک گھٹک، اور ادور گوپال کرشنن نے حقیقت پسندانہ انداز میں بھارتی معاشرت کی عکاسی کرتے ہوئے بھارتی سنیما کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کروایا، جس میں رے کی” پاتھیر پنچالی” دنیا کے سنیما کا ایک سنگ میل ہے۔
بھارتی سنیما اپنی مختلف اصناف کے لیے جانا جاتا ہے، چاہے وہ ایکشن سے بھرپور فلمیں ہوں، رومانوی کامیڈیاں، سنجیدہ ڈرامے، یا سماجی شعور رکھنے والی فلمیں۔ موسیقی بھارتی فلموں میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے، جس میں ساونڈ ٹریک اور کورے و گرافیڈ ڈانس کو فلمی تجربے کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔پچھے کچھ سالوں کے دوران، بھارتی سنیما نے اپنی پہنچ کو وسعت دی ہے، مزید فلمیں بین الاقوامی فلمی میلوں میں حصہ لے رہی ہیں اور عالمی سطح پر پہچان حاصل کر رہی ہیں، جس میں بھارت کے منفرد ثقافتی اور سماجی بیانیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔