غزلیات پروین شاکر، تشریح، سوالات و جوابات

0
بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا
اس زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا

تشریح: پروین شاکر کی یہ غزل بہت گہرے جذبات اور احساسات کی عکاسی کرتی ہے۔ اس شعر میں شاعرہ انسانی تعلقات اور جدائی کے کرب کو بیان کرتی ہیں۔یہ شعر ایک انتہائی حساس اور گہری انسانی حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ بعض جدائیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا کوئی مرہم نہیں، اور بعض زخم کبھی بھر نہیں پاتے۔

یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں
جس پیڑ کو آندھی میں بھی ہلتے نہیں دیکھا

تشریح: اس شعر میں انہوں نے ایک درخت کو انسانی شخصیت یا زندگی کی تمثیل کے طور پر پیش کیا ہے، اور اسے مشکلات کے مقابلے میں انسان کی مضبوطی کے ساتھ جوڑا ہے۔ اس شعر میں شاعرہ نے اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ بعض اوقات بظاہر مضبوط اور مستحکم انسان یا چیزیں بھی اندر سے کمزور ہو سکتی ہیں، اور جب ان پر زوردار ضرب لگتی ہے تو وہ یکدم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہ شعر زندگی کی ناپائیداری اور غیر متوقع تبدیلیوں کو نمایاں کرتا ہے۔

کانٹوں میں گھرے پھول کو چوم آئے گی لیکن
تتلی کے پروں کو کبھی چھلتے نہیں دیکھا

تشریح: اس شعر میں شاعرہ نے تتلی اور پھول کو علامت بنا کر محبت، معصومیت اور نرمی کے احساسات کو بیان کیا ہے۔یہ شعر زندگی کی مشکلات میں نرمی، محبت اور معصومیت کی قوت کو بیان کرتا ہے۔ شاعرہ کہتی ہیں کہ محبت اور نرمی کی فطرت ایسی ہے کہ وہ سخت حالات سے گزر کر بھی اپنی خوبصورتی اور لطافت کو برقرار رکھتی ہے۔جس کی مثال ایک تتلی کے ذریعے دی گئی ہے۔

اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہش
پھر شاخ پر اس پھول کو کھلتے نہیں دیکھا

تشریح: اس شعر میں شاعرہ نے زندگی کی حقیقتوں کو پھول اور دھوپ کی علامتوں کے ذریعے بیان کیا ہے۔اس شعر میں شاعرہ زندگی کی اس حقیقت کو بیان کر رہی ہیں کہ بعض خواہشات یا تجربات انسان کو ایسا بدل دیتے ہیں کہ وہ اپنی اصل معصومیت یا خوشیوں کی طرف واپس نہیں لوٹ سکتا۔ یہ ایک گہرے فلسفیانہ نکتہ ہے جو انسان کی نفسیات اور زندگی کی ناپائیداری کو بیان کرتا ہے۔

کس طرح میری روح ہری کر گیا آکر
وہ زہر جسے جسم میں کھلتے نہیں دیکھا

تشریح: اس شعر میں شاعرہ محبت کے ان نازک پہلوؤں کو بیان کرتی ہیں جو بظاہر زہر کی طرح نقصان دہ لگتے ہیں، لیکن دراصل وہ انسان کی روح میں ایک مثبت تبدیلی لاتے ہیں۔ یہ ایک گہرا اور پیچیدہ فلسفیانہ نکتہ ہے، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کبھی کبھار درد یا تکلیف کے تجربات انسان کی روح کو مضبوط اور نکھار دیتے ہیں۔

غزل نمبر:2 کی تشریح

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا

تشریح: پروین شاکر کی یہ غزل عشق کی شدت اور محبت میں پیش آنے والے جذباتی اور ذہنی حالت کو بیان کرتی ہے۔شاعرہ عشق کے سفر کی پیچیدگی اور تھکن کو بیان کر رہی ہیں۔ عشق میں انسان ایک ایسی کیفیت میں پہنچ جاتا ہے جہاں نہ تو وہ مزید آگے بڑھنے کی ہمت رکھتا ہے اور نہ ہی پیچھے ہٹ سکتا ہے ۔ یہ سفر اتنا مشکل ہے کہ عاشق کو جسمانی اور روحانی طور پر نڈھال کر دیتا ہے۔ محبت کی آزمائشیں انسان کو کمزور کر دیتی ہیں اور وہ اپنی قوت کھو بیٹھتا ہے۔

جلتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی
اُس نے مگر بچھڑے وقت اور سوال کر دیا

تشریح: پروین شاکر کی یہ غزل بہت گہری معنویت کی حامل ہے اور انسانی جذبات، محبت اور جدائی کی کربناک کیفیت کو بیان کرتی ہے۔
“جلتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی”

اس مصرعے میں شاعرہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ دونوں دلوں کے درمیان ایک الگ فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھا، یعنی ان کے درمیان ایک غیر اعلانیہ اتفاق یا جذباتی سمجھوتا موجود تھا۔ “جلتے ہوئے دل” سے مراد ان کا شدید جذباتی تعلق اور محبت ہے، جو دونوں کو کرب میں مبتلا کر رہا تھا۔ “اور تھا فیصلہ کوئی” کا مطلب یہ ہے کہ ان کے درمیان بظاہر محبت یا جذبات کا ایک فیصلہ ہو چکا تھا، لیکن شاید وہ فیصلہ دونوں کی توقعات سے مختلف تھا۔
“اُس نے مگر بچھڑے وقت اور سوال کر دیا”

یہاں شاعرہ اس بات کا اظہار کرتی ہیں کہ جب وہ دونوں جدا ہو رہے تھے، تو محبوب نے ایک نیا سوال اٹھا دیا۔ یہ سوال شاید وہ سوال تھا جو ان کے تعلق کو مزید پیچیدہ یا تکلیف دہ بنا گیا۔ جدائی کے لمحے میں یہ سوال نئے الجھنوں اور دکھوں کو جنم دیتا ہے، جس سے شاعرہ کی درد بھری کیفیت کا اظہار ہوتا ہے۔

ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا
ہم نے تو ایک بات کی اُس نے کمال کردیا

تشریح: شاعرہ محبت کے نازک احساسات کو بیان کرتے ہوئے جدائی کے امکانات اور اس پر محبوب کے ردعمل کو اجاگر کرتی ہیں۔پروین شاکر یہاں محبت کی نزاکتوں اور تعلق میں پائی جانے والی پیچیدگیوں کو بیان کر رہی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کا بڑا اثر ہونا اور جدائی کے خدشات، محبت کی گہرائی اور اس کے انجام کو محسوس کرنے کا اظہار اس غزل میں بہت عمدگی سے کیا گیا ہے۔

چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آسکے
وقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کردیا

تشریح: اس میں شاعرہ انسانی یادداشت کی غیر مستقل مزاجی اور وقت کے ساتھ محبت یا کسی خاص شخصیت کی شبیہ دھندلی ہونے کی کیفیت کو بیان کر رہی ہیں۔

پروین شاکر نے اس غزل میں محبت اور یادداشت کے موضوعات کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ وقت کے ساتھ انسانی رشتے کیسے ماند پڑ جاتے ہیں اور کبھی بہت اہم لگنے والے لوگ محض خواب و خیال بن کر رہ جاتے ہیں، اس کی ایک بہترین عکاسی کی گئی ہے۔

مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا
منصب دلبری پر کیا مجھ کو بحال کر دیا

تشریح: شاعرہ یہاں گہرے جذباتی تجربات کی عکاسی کرتی ہیں، جب کسی محبوب سے عرصے بعد بات ہوتی ہے اور ماضی کی یادیں اور پرانی شکایات دوبارہ سامنے آتی ہیں۔ یہاں “گلہ” کا ذکر صرف شکایت تک محدود نہیں، بلکہ اس میں محبت اور تعلق کی گہری پہلوؤں کی جانب اشارہ ہے ۔ یہ غزل اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ محبت میں فاصلے اور دوریاں وقتی ہو سکتی ہیں، لیکن جذبات کی گہرائی دوبارہ زندہ ہو سکتی ہے جب کوئی شخص شکایت کرے یا محبت کا اظہار کرے۔

مشق:

سوال : مندرجہ ذیل الفاظ جن مصرعوں میں استعمال کئے گئے ہیں ان کو مصرعوں کیجئے۔

  • یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں
  • جس پیڑ کو آندھی میں بھی ملتے نہیں دیکھا
  • اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہش
  • اُس نے مگر بچھڑے وقت اور سوال کردیا
  • مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا
  • عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا

سوال ۲: درج ذیل اشعار کی تشریح کیجئے۔

یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں
جس پیڑ کو آندھی میں بھی ہلتے نہیں دیکھا

تشریح: اس شعر میں انہوں نے ایک درخت کو انسانی شخصیت یا زندگی کی تمثیل کے طور پر پیش کیا ہے، اور اسے مشکلات کے مقابلے میں انسان کی مضبوطی کے ساتھ جوڑا ہے۔ اس شعر میں شاعرہ نے اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ بعض اوقات بظاہر مضبوط اور مستحکم انسان یا چیزیں بھی اندر سے کمزور ہو سکتی ہیں، اور جب ان پر زوردار ضرب لگتی ہے تو وہ یکدم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہ شعر زندگی کی ناپائیداری اور غیر متوقع تبدیلیوں کو نمایاں کرتا ہے۔

چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آسکے
وقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کردیا

تشریح: اس میں شاعرہ انسانی یادداشت کی غیر مستقل مزاجی اور وقت کے ساتھ محبت یا کسی خاص شخصیت کی شبیہ دھندلی ہونے کی کیفیت کو بیان کر رہی ہیں۔

پروین شاکر نے اس غزل میں محبت اور یادداشت کے موضوعات کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ وقت کے ساتھ انسانی رشتے کیسے ماند پڑ جاتے ہیں اور کبھی بہت اہم لگنے والے لوگ محض خواب و خیال بن کر رہ جاتے ہیں، اس کی ایک بہترین عکاسی کی گئی ہے۔

۲. پروین شاکر کے حالات زندگی اور شعری محاسن پر نوٹ لکھیے۔

جواب: پروین شاکر کی پیدائش ۲۴ نومبر ۱۹۵۲ء میں کراچی میں ہوئی۔ ان کے اسلاف کا اصل وطن ضلع دربھنگہ بہار تھا۔ ان کے والد کا نام سید ثاقب حسین تھا جو خد شاعر تھے اور شاکر تخلص کرتے تھے۔ اس حوالے سے پروین اپنے نام کے ساتھ شاہ رکھتی ہیں۔ وہ ان کا ابتدائی خان میں تھالیکن بعدمیں پروین شاکر کے نام سے شہرت ملی۔ پروین کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ پھر یہ گرلز ہائی سکول میں داخل ہوئیں۔ جہاں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔

سرسید گرلز کالج سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ کراچی یونیورسٹی سےپہلے انگریزی اور پھر لسانیات میں ایم، اے کیا۔ ۱۹۷۱ء میں انھوں نے جنگ میں ذرائع ابلاغ کا کردار کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ سے بینک ایڈمنٹریشن میں ایم اے کیا تعلیمی سلسلہ ختم م کرنےکے بعد پروین پہلے عبداللہ گرلز کالج میں انگریزی کی لیکچر ہوئیں اور نو سال تک درس و تدریس کا کام انجام دیتی رہیں ۔

ان کے شعری مجموعے ۱۹۷۷ء “خوشبو” ۔ ۱۹۸۱ء صد برگ”۔ ۱۹۸۳ خود کلامی اور ۱۹۹۴ء میں انکار اور کف آئینہ شائع ہو چکے ہیں۔ ان کا کلیات ماہ تمام“ کے نام سے
۱۹۹۴ء میں شائع ہو چکا ہے۔