نظم ایک آرزو کا خلاصہ

یہ نظم اپنی سادگی ، سلاست تاثیر یعنی اثر آفرینی اور شاعرانہ خوبیوں کے لحاظ سے بانگ درا کی بہترین نظموں میں سے ایک ہے۔ علامہ اقبال نے اس نظم میں شاعرانہ مصوری کا کمال دکھایا ہے۔ ان محاسن معنوی کے علاوہ انہوں نے اس میں پاکیزہ خیالات کا اظہار کیا ہے۔

یہ خیالات جس کا اظہار اقبال نے اس دلپذیر نظم میں کیا ہے کم و بیش ہر ایک شخص کے دل میں موجزن ہوتے ہیں جو دنیا اور دنیا والوں کی حقیقت سے آگاہ ہو جاتا ہے۔ اب اس کے بعد عمل کی منزل آتی ہے۔ تو جن لوگوں کی قوت ارادی زبردست ہوتی ہے وہ ایک جھٹکے میں سارے تعلقات توڑ رکھ دیتے ہیں اور دامن کوہ میں ایک چھوٹا سا جھونپڑا بنا کر اپنی زندگی عزلت میں بسر کر دیتے ہیں اور جو اس نعمت یعنی قوت ارادی سے محروم ہوتے ہیں وہ راقم الحروف کی طرح ترکِ دنیا کی منصوبہ بندی ہی میں زندگی گزار دیتے ہیں۔

علامہ اقبال اگرچہ پورے طور سے اس آرزو کو عملی جامہ نہ پہنا سکے لیکن یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ انہوں نے درویشی، استغنا اور عزلت کی شان پیدا کر لی تھی اور ان کی زندگی میں سادگی تو اس درجہ نمایاں تھی کہ آج تک اس کی نظیر نہیں دیکھی۔

اس نظم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ عزلت نشینی کی آرزو کے باوجود اقبالؔ دوسروں کے لئے جینا چاہتے ہیں اور یہی ایک مسلمان کی شان ہے کہ وہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے جیتا ہے۔ اقبالؔ ان لوگوں کو ، جو بے ہوش پڑے ہیں جگانا چاہتے ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ جو کچھ مسلمانوں میں بیداری نظر آتی ہے یہ سب اقبال کے پیغام ہی کا ثمرہ ہے۔

مشکل الفاظ کے مطالب

دل بجھ ہی گیا ہو۔ اس محاورے سے مایوسی اور ناکامی کی انتہا کا اظہار ہوتا ہے یعنی وہ حالت جب دل میں کوئی آرزو باقی نہ رہے۔
شورش۔ ہنگامہ
عزلت۔ بمعنی تنہائی چشمے کی شورش سے پانی کی آواز مراد ہے جو پتھروں سے ٹکرانے کے بعد پیدا ہوتی ہے۔
جہاں نما اشارہ ہے جمشید کے ساغر کی طرف جس میں دنیا کا حال نظر آتا تھا۔
جلوت۔ خلوت کی ضد ہے۔ جلوت بامعنی انجمن یا محفل۔
دیروحرم بمعنی بتکدہ یا بتخانہ اور حرم بامعنی مسجد۔
دروازہ گھنٹہ۔ جو قافلہ کی روانگی سے پہلے بجاتے ہیں۔

Advertisements