اس نظم کا خلاصہ

یہ نظم علامہ اقبال کے اردو کے چار مشہور مجموعوں میں سے پہلے مجموعہ بانگ درا میں شامل ہے۔علامہ اقبال نے اس نظم میں اس حدیث کا مفہوم واضح کیا ہے کہ "لا اسلام الا بالجماعه” یعنی جماعت سے الگ ہوکر کوئی شخص اپنے اسلام کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔ دوسری حدیث یہ ہے” عليكم بالجماعه لن شذ في النار ” مسلمانوں! تم پر اجتماعی زندگی بسر کرنا فرض ہے، جو شخص جماعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے علیٰحدہ ہو جائے گا وہ دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔

؀فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

علامہ مرحوم نے اسلام کے اس بنیادی اصول کو اپنی کتاب رموز بے خودی میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔

خزاں کے زمانے میں جو شاخ درخت سے ٹوٹ جاتی ہے وہ موسم بہار میں بارش سے ہری نہیں ہوسکتی۔ اس پر ہمیشہ کے لئے خزاں طاری ہو جاتی ہے اور پھر نہ کبھی اس پر پتے لگتے ہیں نہ پھل۔ اے مسلمان! تیری قوم بھی آج کل خزاں، پستی یا زوال کی زد میں آئی ہوئی ہے۔ اس وقت تو زوال کے دور سے گزر رہا ہے یعنی مسلمانوں میں ضعف ایمانی پیدا ہوگیا ہے اور مسلمانوں کا ایمان کمزور ہو گیا ہے۔ سچے مسلمان انیسویں صدی میں ختم ہوچکے ہیں۔ قانونِ قدرت یہ ہے کہ پھل اسی شاخ پر لگ سکتا ہے جو درخت سے وابستہ ہو۔ اس قاعدہ کی رُو سے تو بھی دنیا میں اُسی وقت اور اُسی صورت میں ترقی کر سکتا ہے جب تو ملت سے وابستہ اور پیوستہ رہے۔ گر تو ملت سے جدا ہو کر کسی غیر اسلامی جماعت میں شامل ہو گیا تو جس وقت مّلت پر بہار آئے گی اس وقت تو فیضِ بہار سے محروم رہ جائے گا۔

✓مشکل الفاظ کے مطالب

  • برگ و بار سے مراد پھول اور پتے ہیں۔
  • گلستان سے مراد قوم ہے
  • فصل خزاں کا دور ہے یعنی قوم روبہ زوال ہے
  • جیب گل سے مسلمان کا دل مراد ہے
  • زرِ کامل عیار سے ایمان مراد ہے
  • نغمہ زن تھے یعنی مصروفِ جہاد تھے
  • طیور سے علمائے حق مراد ہیں۔
  • شجر سایہ دار سے قوم مراد ہے۔
  • بریدا بامعنی کٹی ہوئی۔
  • قاعدہ روزگار سے فطرت مراد ہے۔
  • پیوستہ رہ شجر سے یعنی ملت سے وابستہ رہ۔

Advertisements