>
  • شہاب چہرہ کوئی گم شدہ ستارہ کوئی
  • ہوا طلوع افق پر مرے دوبارہ کوئی
  • امیدواروں پہ کھلتا نہیں وہ باب وصال
  • اور اس کے شہر سے کرتا نہیں کنارہ کوئی
  • مگر گرفت میں آتا نہیں بدن اس کا
  • خیال ڈھونڈتا رہتا ہے استعارہ کوئی
  • کہاں سے آتے ہیں یہ گھر اجالتے ہوئے لفظ
  • چھپا ہے کیا مری مٹی میں ماہ پارہ کوئی
  • بس اپنے دل کی صدا پر نکل چلیں اس بار
  • کہ سب کو غیب سے ملتا نہیں اشارہ کوئی
  • گماں نہ کر کہ ہوا ختم کار دل زدگاں
  • عجب نہیں کہ ہو اس راکھ میں شرارہ کوئی
  • اگر نصیب نہ ہو اس قمر کی ہم سفری
  • تو کیوں نہ خاک گزر پر کرے گزارہ کوئی
Close Menu