• سخن میں رنگ تمہارے خیال ہی کے تو ہیں
  • یہ سب کرشمے ہوائے وصال ہی کے تو ہیں
  • کہا تھا تم نے کہ لاتا ہے کون عشق کی تاب
  • سو ہم جواب تمہارے سوال ہی کے تو ہیں
  • ذرا سی بات ہے دل میں اگر بیاں ہو جائے
  • تمام مسئلے اظہار حال ہی کے تو ہیں
  • یہاں بھی اس کے سوا اور کیا نصیب ہمیں
  • ختن میں رہ کے بھی چشم غزال ہی کے تو ہیں
  • جسارت سخن شاعراں سے ڈرنا کیا
  • غریب مشغلئہ قیل و قال ہی کے تو ہیں
  • ہوا کی زد پہ ہمارا سفر ہے کتنی دیر
  • چراغ ہم کسی شام زوال ہی کے تو ہیں
Advertisements