>
  • لپٹ سی داغ کہن کی طرف سے آتی ہے
  • جب اک ہوا ترے تن کی طرف سے آتی ہے
  • میں تیری منزل جاں تک پہنچ تو سکتا ہوں
  • مگر یہ راہ بدن کی طرف سے آتی ہے
  • یہ مشک ہے کہ محبت مجھے نہیں معلوم
  • مہک سی میرے ہرن کی طرف سے آتی ہے
  • پہاڑ چپ ہیں تو اب ریگ زار بولتے ہیں
  • نداے کوہ ختن کی طرف سے آتی ہے
  • کسی کے وعدۂ فردا کے برگ و بار کی خیر
  • یہ آگ ہجر کے بن کی طرف سے آتی ہے
  • جگوں کے کھوئے ہوؤں کو پکارتا ہے یہ کون
  • صدا تو خاک وطن کی طرف سے آتی ہے
Close Menu