>
  • ہم تو زنجیر سفر شوق میں ڈالے ہوئے ہیں
  • ورنہ یہ انفس و آفاق کھنگالے ہوئے ہیں
  • جان و تن عشق میں جل جائیں گے، جل جانے دو
  • ہم اسی آگ سے گھر اپنا اجالے ہوئے ہیں
  • کب سے مژگاں نہیں کھولے مرے ہشیاروں نے
  • کتنی آسانی سے طوفان کو ٹالے ہوئے ہیں
  • اجنبی جان کے کیا نام و نشاں پوچھتے ہو
  • بھائی! ہم بھی اسی بستی کے نکالے ہوئے ہیں
  • ہم نے کیا کیا تجھے چاہا ہے انھیں کیا معلوم
  • لوگ ابھی کل سے ترے چاہنے والے ہوئے ہیں
  • کہیں وحشت نہیں دیکھی تری آنکھوں جیسی
  • یہ ہرن کون سے صحراؤں کے پالے ہوئے ہیں
  • دل کا کیا ٹھیک ہے آنا ہے تو آ جا کہ ابھی
  • ہم یہ گرتی ہوئی دیوار سنبھالے ہوئے ہیں
Close Menu