• کہیں تو لٹنا ہے پھر نقد جاں بچانا کیا
  • اب آگئے ہیں تو مقتل سے بچ کے جانا کیا
  • ان آندھیوں میں بھلا کون ادھر سے گذرے گا
  • دریچے کھولنا کیسا ، دیے جلانا کیسا
  • جو تیر بوڑھوں کی فریاد تک نہیں سنتے
  • تو ان کے سامنے بچوں کا مسکرانا کیا
  • میں گر گیا ہوں تو اب سینے سے اتر آؤ
  • دلیر دشمنو ، ٹوٹے مکاں کو ڈھانا کیا
  • نئی زمیں کی ہوائیں بھی جان لیوا ہیں
  • نہ لوٹنے کے لیے کشتیاں جلانا کیا
  • کنار آب کھڑی کھیتیاں یہ سوچتی ہیں
  • وہ نرم رو ہے ندی کا مگر ٹھکانا کیا
Advertisements