• اس نے دیکھا کہ ہر صحرا چمن لگنے لگا
  • کتنا اچھا اپنا من ، اپنا بدن لگنے لگا
  • جنگلوں سے کونسا جھونکا لگا لایا اسے
  • دل کہ جگنو تھا چراغ انجمن لگنے لگا
  • اس کے لکھے لفظ پھولوں کی طرح کھلتے رہے
  • روز ان آنکھوں میں بازار سمن لگنے لگا
  • اول اول اس سے کچھ حرف و نوا کرتے تھے ہم
  • رفتہ رفتہ رائیگاں کار سخن لگنے لگا
  • جب قریب آیا تو ہم خود سے جدا ہونے لگے
  • وہ حجاب درمیان جان و تن لگنے لگا
  • ہم کہاں کے یوسف ثانی تھے لیکن اس کا ہاتھ
  • ایک شب ہم کو بلائے پیرہن لگنے لگا
  • تیرے وحشی نے گرفتاری سے بچنے کے لیے
  • رم کیا اتنا کہ آہوے ختن لگنے لگا
  • ہم بڑے اہل خرد بنتے تھے یہ کیا ہو گیا
  • عقل کا ہر مشورہ دیوانہ پن لگنے لگا
  • کر گیا روشن ہمیں پھر سے کوئی بدر منیر
  • ہم تو سمجھے تھے کہ سورج کو گہن لگنے لگا