Back to: مرزا غالب کی شاعری
0
| نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا |
| کاوِ کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی، نہ پوچھ صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا |
| جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا |
| آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا |
| بس کہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیر پا موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا |