• آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک
  • کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
  • بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
  • ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
  • بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
  • آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
  • ……..
  • درد منت کش دوا نہ ہوا
  • میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا
  • ……..
  • ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
  • کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور
  • ……
  • ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
  • دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
  • …….
  • ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
  • بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
  • …….
  • عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
  • درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
  • ……
  • کعبہ کس منہ سے جاوگے غالبؔ
  • شرم تم کو مگر نہیں آتی
  • ……..
  • کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
  • پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
  • ……
  • کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
  • یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
  • ……..
  • محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
  • اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
  • …….
  • نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
  • ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
  • ……..
  • قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
  • رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
  • …….
  • رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
  • مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
  • …….
  • رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
  • جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
  • …….
  • ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
  • کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
  • ……
  • ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
  • وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
  • ……
  • یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
  • اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
Advertisements