Advertisement
  • کتاب” ابتدائی اردو” برائے تیسری جماعت
  • سبق نمبر 04: نظم
  • شاعر کا نام: سیماب اکبر آبادی
  • نظم کا نام: میرا پیارا وطن

نظم میرا پیارا وطن کی تشریح

میری عزت ہے یہ
میری دولت ہے یہ
میری عظمت ہے یہ
میری جنت ہے یہ
میرا پیارا وطن

یہ اشعار سیماب اکبر آبادی کی نظم “میرا پیارا وطن” سے لیے گئے ہیں۔ ان اشعار میں شاعر کہتا ہے کہ میرا وطن میری عزت ہے اور یہی وطن میری دولت بھی ہے۔میرا وطن ہی میری عظمت کا نشان بھی ہے اور میرا یہ وطن میرے لیے کسی جنت سے کم نہیں ہے کیونکہ مجھے میرا یہ وطن بہت پیارا ہے۔

اس کے دریا بڑے
تازگی سے بھرے
باغ پھولے پھلے
لہلہاتے ہوئے
میرا پیارا وطن

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ میرے اس وطن کے دریا بڑے بڑے ہیں اور یہ دریا تازگی سے بھرے ہوئے ہیں۔ میرے وطن کی سر زمین پر پھلتے پھولتے خوبصورت باغ ہیں جو اس سر زمین پہ لہلہا رہے ہیں۔ میرا پیارا وطن ایسا خوبصورت ہے۔

Advertisement
اس کے چشمے جواں
اس کی نہریں رواں
جنگل اور وادیاں
اس سے اچھی کہاں
میرا پیارا وطن

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ میرےوطن کے اندر خوبصورت چشمے رواں دواں ہیں۔اس کی نہروں میں پانی کی روانی موجود ہے۔ جیسے خوبصورت جنگل اور وادیاں میرے وطن کی ہیں اس سے زیادہ اچھی وادیاں اور کہیں موجود نہیں ہیں۔ میرا پیارا وطن ایسا پیارا ہے۔

Advertisement
یہ وطن ہے مرا
میں ہوں اس پر فدا
اس پہ رکھے خدا
اپنی رحمت سدا
میرا پیارا وطن

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ میرا وطن مجھے بہت عزیز ہے اور میں دل و جاں سے اس پر فدا ہوں۔ اس وطن کے لیے میری یہی دعا ہے کہ اللہ کی ذات ہمیشہ اس پہ اپنی رحمت کا سایہ قائم رکھے کیونکہ یہ میرا پیارا وطن ہے۔

Advertisement

سوچیے بتائیے اور لکھیے۔

ہمارے وطن کا کیا نام ہے؟

ہمارے وطن کا نام ہندوستان ہے۔

نظم میں جنت کسے کہا گیا ہے؟

نظم میں وطن کو جنت کہا گیا ہے۔

Advertisement

شاعر نے اپنے وطن کے لیے کیا دعا مانگی ہے؟

شاعر اپنے وطن کے لیے دعا مانگتے ہوئے کہتا ہے کہ اللہ اس وطن پہ اپنی رحمت کا سایہ ہمیشہ قائم رکھے اور یہ وطن ہمیشہ آباد رہے۔

شاعر نے نظم میں کن خوب صورتی بڑھانے والی چیزوں کا ذکر کیا ہے؟

شاعر نے نظم میں باغ ، پھلوں ، لہلہاتے کھیتوں ، چشموں ، وادیوں اور نہروں کا ذکر کیا ہے۔

Advertisement

ان مصرعوں کو مکمل کیجیے۔

  • میری عزت ہے یہ
  • اس کی نہریں رواں
  • اس کے چشمے جواں
  • اپنی رحمت سدا
  • اس پہ رکھے خدا

اس نظم سے خانوں کے مطابق پانچ پانچ الفاظ لکھیے۔

مذکر:وطن ، دریا ، پیارا ، باغ ، جنگل ، مرا۔
مؤنث:عزت ، دولت ، جنت ، عظمت ، تازگی ، وادیاں ، اچھی ، نہریں ، رحمت۔

ان مصرعوں کو اشارے کے مطابق نیچے بیچ ترتیب سے لکھیے۔

میری عزت ہے یہ
میری دولت ہے یہ
میری عظمت ہے یہ
میری جنت ہے یہ
اس کے دریا بڑے
تازگی سے بھرے
اس کے چشمے جواں
اس کی نہریں رواں
یہ وطن ہے مرا
میں ہوں اس پر فدا
اس پہ رکھے خدا
اپنی رحمت سدا

واحد اور جمع الگ الگ کر کے لکھیے۔

دریا ، وادیاں ، جنگل ، چشمے ، نہریں ،باغ ، پھول ، رحمت۔

واحد:دریا ، جنگل ، باغ ، پھول ، رحمت۔
جمع: وادیاں ، چشمے ، نہریں ۔

خوش خط لکھیے۔

عزت ، وطن ، عظمت ، تازگی ، لہلہاتے ، جنگل ، وادیاں۔

Advertisement
Advertisement