تعارف

سیماب اکبر آبادی ۵ جون ۱۸۸۰ کو آگرہ میں محمد حسین صدیقی کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد حسین صدیقی شاعر اور انڈیا کے پریس میں ملازم تھے۔ سیماب اکبرآبادی اپنے والدین کی پہلی اولاد تھے۔ ان کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا اور تخلص سیماب تھا۔ انھوں نے ابتدائی فارسی اور عربی کی تعلیم حاصل کی پھر اسکول گورنمنٹ کالج اجمیر سے میٹرک کیا۔والد کی اچانک موت سے ان کی تعلیم پر گہرا اثر پڑا اور وہ مزید پڑھائی جاری نہ رکھ سکے۔

زمانۂ طالب علمی میں ان کا یہ دستور تھا کہ فارسی نصاب میں جتنے اشعار شریک درس ہوتے تھے ان کا ترجمہ اردو نظم میں کرکے اساتذہ کے سامنے رکھ دیتے تھے۔ بہ سلسلہ معاش کان پور گئے۔ ۱۸۹۸ء میں داغ کے شاگرد ہوگئے۔ کچھ عرصہ ریلوے میں ملازم رہے۔

ادبی تعارف

سیماب صاحب ملک کے ایک مشہور و نام ور شاعر ہیں۔ ان کی کہنہ مشقی ان کے کلام کی صحت و پختگی کی ضمانت ہے۔ ان کا تجربہ وسیع اور ان کی نگاہیں دور رس ہیں لیکن یہ ان کی سطحی اور پیش پا افتادہ خوبیاں ہیں اور ان کی اہمیت یہیں ختم نہیں ہوجاتی۔ ان کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ زمانہ کے قدم بہ قدم چلے اور اپنے ہم عصر و ہم رنگ معاصرین کے خلاف انھوں نے بڑی جرات کے ساتھ عہد حاضر کے مطالبے پر لبیک کہا۔

قوم کا سچا شاعر وہ ہے جو قوم کے مستقبل کو پیش نظر رکھے اور ان خیالات کے نشو و نما میں اعانت کرے۔ جو قوم کی اجتماعی زندگی کی صورت گری کے لیے ناگزیر ہے۔ سیماب صاحب نے اپنے تصورات کو نئی قدموں کے سانچے میں اس خوبی سے ڈھالا ہے کہ وہ بالکل نئے دور کے شاعر معلوم ہوتے ہیں۔ ہمارا عہد قدروں کے تغیر و انقلاب کا عہد ہے ایسے عہد میں زندگی بسر کرنے والا جب عصبیت و حریت کے حدود و مفاہیم متعین نہ ہوں، کچھ خوش قسمت نہیں ہوتا۔ اسے قدیم بے حیات پختگی اور جدید بے لگام مبتدیت دونوں کے خلاف جنگ کرنی پڑتی ہے۔ اس کا بستر پھولوں کی سیج نہیں ہوتا کانٹوں کی چادر ہوتا ہے۔
سیماب صاحب نے ایک طرف انیسویں صدی کی کھوکلی ثقافت کے پُروقار مظاہرے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں اور دوسری طرف بیسویں صدی کی پُر مغز بغاوت کے مجاہدے بھی ان کے سامنے ہیں۔ وہ صرف قادر الکام شاعر ہی نہیں تھے انھوں نے قرآن مجید فرقان حمید کا ترجمہ بھی کیا ہے۔

تصانیف

  • سیماب اکبر آبادی کی مشہور تصانیف میں
  • عالم آشوب،
  • داؤبیچ،
  • دستور الاصلاح،
  • کارامراز،
  • کلیم عجم،
  • کرشن گیتا،
  • لوح محفوظ،
  • نیستان،
  • راز عروض،
  • سرودغم،
  • سوانح نور جہاں بیگم،
  • سازو آہنگ،
  • شعر انقلاب،
  • سدرہ المنتھٰی اور
  • وفا کی دیوی ادب میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

آخری ایام

سیماب اکبر آبادی ۳۱ جنوری ۱۹۵۱ کراچی میں ۷۱ برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے۔

سیماب اکبر آبادی کا کلام درج ذیل ہے۔

Advertisements