Advertisement

شہریار کی حالات زندگی اور شاعرانہ عظمت پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

غزل نمبر 1

زخموں کو رفو کر لیں دل شاد کریں پھر سے
خوابوں کی کوئی دنیا آباد کریں پھر سے

اس شعر میں شاعر کہہ رہے ہیں کہ ماضی کے زخموں پرمرہم لگا کر اور اپنے دل کو شادمانی کرکے پھر سے ہم اپنی دنیا بسائیں کیونکہ شاعر کے لیے حقیقی دنیا میں دل بہلانے کے لیے سامان میسر نہیں ہے اس لیے خوابوں کی دنیا میں رہنا پسند کرتے ہیں۔

Advertisement
مدت ہوئی جینے کا احساس نہیں ہوتا
دل ان سے تقاضا کر ،بیدارکریں پھرسے

شعر میں شاعر اپنے محبوب سے بے تکلفی کی شکایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک مدت سے ہم یو ہی جی رہے ہیں اور جس جینے میں محبوب کا ظلم و ستم نہ ہو تو اس پر جینے میں لذت کیسی۔ لہٰذا اے میرے محبوب یہ دل تمہارے ستائش کا خواہاں اور ایسے میں اگر ہم پر تمہاری بے دردی ہی صحیح تو کوئی بات نہیں مگر جینے کا احساس تو ہوگا۔

Advertisement
مجرم کے کٹہرے میں پھر ہم کو کھڑا کر دو
ہو رسم کہن تازہ ،فریاد کریں پھر سے

اس شعر میں شاعر کہہ رہے ہیں کہ اے میرے محبوب مجھ پر سارے الزامات ،تہمت کے سوا اور کچھ نہیں ہے لہٰذا تم ایسا کرو کہ مجھے مجرم بنا کر عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرو تاکہ پرانا طریقہ پھر سے زندہ ہو اور مجھے فریاد کرنے کا موقع ہاتھ آ سکے تاکہ پھر میں تمہاری لگائے گئے الزامات سے بری ہو سکوں۔

Advertisement
اے اہل جنوں دیکھو زنجیر ہوۓساۓ
ہم کیسے انہیں ، سوچو، آزاد کریں پھر سے

اس شعر میں شاعر اہل جنوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ سائے سارے اب کے زنجیر بن کر ہمارے ساتھ ہیں۔ اور ہمیں کوئی وہ موقع نہیں دیتے ہیں کہ ہم ان بیڑیوں سے خود کو آزاد کریں یا پھر ان بیڑیوں کو ہٹا سکے۔

‌ اب جی کے بہلانے کے ہے یہی صورت
بیتی ہوئی کچھ باتیں ہم یاد کریں پھر سے

اس شعر میں شاعر نے موجودہ دور کی تصویر کشی کی ہے۔ اور وہ کہتے ہیں کہ موجودہ دور کے مشینی ماحول سے آزاد ہو کر دل شکستگی کا اظہار کر رہا ہے اور اب انہیں ماضی کی یادوں کو دہرا کر دل بہلانے کا خواہاں ہے۔ اگرچہ ان کے پاس تمام چیزیں میسر ہیں لیکن جو ماضی میں ان کے پاس تھا وہ سب کچھ نہیں ہے۔

Advertisement

غزل نمبر2

زندگی جیسی توقع تھی ، نہیں کچھ کم ہے
ہر گھڑی ہوتا ہے احساس کہیں کچھ کم ہے

اس شعر میں شاعر نے زندگی کی حقیقت کو بیان کیا ہے اور وہ کہتے ہیں جیسا کہ ہم زندگی کو سمجھتے ہیں وہ ویسی بالکل نہیں ہے۔ اس بات کی کمی ہمیشہ مجھے محسوس ہوتی ہے کیونکہ یہاں خود غرض، لوٹ مار اور دوسرے سے حق چھیننے کے کام ہوتے ہیں۔

گھر کی تعمیر تصور ہی میں ہو سکتی ہے
اپنے نقشے کے مطابق یہ زمیں کچھ کم ہے

اس شعر میں شاعر یہ کہہ رہے ہیں کہ جس گھر کا نقشہ ہم نے تصور اور خیال میں کھینچا تھا اس کے مطابق ایسا گھر اس زمین پر تعمیر نہیں ہو سکتا کیونکہ موجودہ دور نہایت ہی خطرناک ہے یہاں صرف بم دھماکے اور حملے ہوتے ہیں یہ وہ جگہ نہیں جہاں پر ہم اپنا گھر بنا سکیں لہذا بہتر یہی ہے کہ اس کو خیال میں ہی تعمیر ہونے دیں۔

Advertisement
بچھڑے لوگوں سے ملاقات کبھی پھر ہوگی
دل میں امید تو کافی ہے یقیں کچھ کم ہے

اس شعر میں شاعر نے تقسیم ہند کے حالات کا بیان کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ تقسیم ہند کے بعد ہندوستان کے کچھ خاندان پاکستان میں مقیم ہوگئے اور کچھ وہاں کے یہاں آباد ہونے لگے مگر نفسیاتی سطح پر اگر دیکھیں گے تو تقسیم کسی بڑے المیہ سے کچھ کم نہیں۔ اب ان بچھڑے لوگوں سے ملاقات کی امید اور توقع دل میں ہے مگر یقین کچھ کم ہے۔ کیونکہ معاملات مقداری جاتے تب تک یہ امید بظاہر بہت ہی کم دکھائی دیتی ہے۔

اب جدھر دیکھییے لگتا ہے کہ اس دنیا میں
کہیں کچھ چیز زیادہ ہے کہیں کچھ کم ہے

اس شعر میں شاعر یہ کہہ رہے ہیں کہ ہر طرف انسان کو یہی لگتا ہے کہ وہاں کسی چیزوں کی کمی ہے اور یہاں کسی چیز کی زیادتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خدا نے جو کچھ بھی بنایا ہے اور سب ٹھیک ٹھاک بنایا ہے اسی لیے ہمارے اندر ایسے خیالات کی پرورش کرنا اچھی بات نہیں۔

Advertisement
آج بھی ہے تیری دوری ہی اداسی کا سبب ہے
یہ الگ بات ہے کہ پہلی سی نہیں، کچھ کم ہے

اس شعر میں شاعر نے محبوب سے ہجر کے واقعات کو بیان کیا ہے اور وہ کہتے ہیں اگرچہ ہم میں کچھ بدلاؤ آگیا ہے مگر ایسے میں کبھی کبھی جو اداسی میرے سارے وجود کو ڈھک لیتی ہے اس کا سبب آپ سے دوری ہے مگر فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے یہ اداسی بہت زیادہ تھی اب تھوڑی کم ہے۔

اس کہانی کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement