Advertisement

ناول کی تعریف

ناول اردو ادب کی ایک صنف ہے۔ زندگی کی عکاسی کرنے والے قصہ یا کہانی کو ناول کہا جاتا ہے۔ ناول ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہماری زندگی کا عکس نظر آتا ہے۔ یعنی اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ ہمارے سامنے کیا مشکلیں آتی ہیں اور ہم ان مشکلوں پر کس طرح قابو کر پاتے ہیں۔

ناول اطالوی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی’نیا’ کے ہیں۔ (مطلب یہ کہ جب انسان کا دل پرانی فرضی داستانیں سن کر اکتا گیا تب ایسے قصہ کا آغاز ہوا جس میں حقیقی زندگی کا عکس نظر آنے لگا وہ ناول کہلایا۔)
نذیر احمد نے کہا ہے کہ جب آدمی پیدا ہوتا ہے اس وقت سے لیکر مرنے تک اس کے سامنے جو بھی باتیں پیش آتی ہیں اس کا بیان کرنا ہی ناول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی کے سچے حالات و واقعات کو سنجیدگی سے بیان کرنا ہی ناول ہے۔ “ناول وہ آئینہ ہے جس میں گود سے لیکر گور (قبر) تک زندگی کا عکس جھلکتا ہے۔

Advertisement

ناول کی تاریخ:

اردو میں ناول انگریزی ادب کے زیرِ اثر آیا۔ اردو میں ناول نگاری کا آغاز ڈپٹی نذیر احمد نے اپنا پہلا ناول ‘مراۃالعروس’ 1869ء میں لکھ کر کیا، جس میں دو بہنوں اصغری اور اکبری کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ نذیر احمد کے دوسرے ناولوں میں ‘بنات النعش’ ‘توبتہ النصوح’ اور ‘ابن الوقت’ وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ نذیر احمد کے تمام ناول اصلاحی ہیں۔ نذیر احمد نے مسلم معاشرے کی اصلاح کو اپنے ناولوں کا موضوع بنایا۔

Advertisement

نذیر احمد کے بعد پنڈت رتن ناتھ سرشار دوسرے اہم ناول نگار ہیں۔ان کا مشہور ناول “فسانہ آزاد” ہے، جس میں لکھنؤ کی زوال پذیر تہذیب کی عکاسی کی گئی ہے۔ اس ناول کے مشہور کردار خوجی اور میاں آزاد ہیں۔

Advertisement

ان کے بعد مرزا ہادی رسوا کا نام ناول نگاروں کی فہرست میں شمار ہوتا ہے۔رسوا نے اپنا شاہکار ناول ‘امراؤ جان ادا’ لکھ کر ناول کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ یہ ایک بہترین اور مشہور ناول ہے۔

اس کے بعد اردو ناول کی دنیا میں ایک ایسے فنکار کا نام آتا ہے جنہیں جدید اردو ناول کا بانی کہنا مناسب ہوگا وہ ہیں منشی پریم چند۔ منشی پریم چند اردو ناول کی وہ اہم کڑی ہیں جنہوں نے اپنے ناولوں میں زندگی کے مسائل پیش کرکے ناول کے فن کو اعزاز بخشا۔ پریم چند نے ایک درجن سے زیادہ ناول لکھے ہیں؛ جن میں بازار حسن، بیوہ، گودان، نرملا، قابل ذکر ناول ہیں۔

Advertisement

ترقی پسند تحریک نے افسانے کے بعد جس صنف کو سب سے زیادہ متاثر کیا وہ صنف ناول ہے۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ ناول نگاروں میں:

  • ۱ سجاد ظہیر کا ناول ‘لندن کی ایک رات’
  • ۲ عصمت چغتائی کا ناول۔ ‘ ٹیڑھی لکیر’
  • ۳ قاضی عبدالغفاد کا ناول ‘لیلی کے خطوط قابل ذکر ہیں۔

جدید دور کے ناول نگاروں میں:

Advertisement
  • ۱ عصمت چغتائی
  • ۲ سعادت حسن منٹو
  • ۳ قرۃ العین حیدر
  • ۴ حیات اللہ انصاری کے نام قابل ذکر ہیں۔

ناول کے اجزائے ترکیبی یا فن

ناول نگار اپنے تجربات کو سلیقے کے ساتھ قلم بند کرتا ہے۔ ناول کے یہ فنی نکات اس کے اجزائے ترکیبی کہلاتے ہیں۔

۱▪️ قصہ یا کہانی:

ناول کی بنیاد کسی نہ کسی قصہ پر ہوتی ہے تب ناول وجود میں آتا ہے۔اس کے بغیر ناول کا وجود ممکن نہیں۔

Advertisement

۲▪️ پلاٹ Foundation :

ناول کے قصہ کو ترتیب دینے کا نام پلاٹ ہے۔ ایک اچھے ناول نگار کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ واقعات کو اس طرح ترتیب دیتا ہے جیسے موتی لڑی میں پرونا۔ (نوٹ: ناول میں دو طرح کے پلاٹ ہوتے ہیں: (1)مربوط اور (2) غیر مربوط)

۳ ▪️کردار :

ناول میں جو واقعات پیش آتے ہیں یہ واقعات افراد کے ذریعے پیش آتے ہیں۔ ان افرادِ قصہ کو کردار کہتے ہیں۔ (ناول کے کردار جتنے جیتے جاگتے ہوں گے ناول اتنا ہی کامیاب ہوگا۔)

Advertisement

۴▪️ مکالمہ :

ناول میں کرداروں کے درمیان آپسی گفتگو (بات چیت) مکالمہ کہلاتی ہے، جس کے ذریعہ کرداروں کے دلوں کا حال معلوم ہوتا ہے۔ اور یہی بات چیت قصہ کو آگے بڑھاتی ہے۔

۵▪️ زمان و مکاں یا منظر نگاری:

ناول میں کہانی کو سمجھنے کے لئے اسکے پس منظر ماحول اور زمان و مکاں کا اہم رول ہوتا ہے۔ یہ جز ناول میں تاثیر پیدا کرتا ہے۔ (مطلب یہ کہ قاری قصہ پڑھے تو ایسا محسوس ہو کہ وہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔

Advertisement

۶▪️ نقطۂ نظر :

ہر فنکار کا اپنا نقطہ نظر ہوتا ہے۔ لیکن اصل فنکار کا کمال یہ ہے کہ اپنا نقطہ نظر ظاہر کیے بغیر قاری (پڑھنے والے) کے دل دماغ میں اپنی بات بٹھا دے۔

۷▪️ اسلوب :

ناول کی زبان صاف ستھری، سادہ، آسان ہوتی ہے۔ زبان و بیان پر قدرت رکھنے والا ناول نگار قاری کی دلچسپی کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیتا ہے، اسے اسلوب کہتے ہیں۔

Advertisement
تحریرطیب عزیز
Advertisement