Advertisement

شاعر اور نظم کا حوالہ: یہ اشعار نظیر اکبر آبادی کی مشہور نظم آدمی نامہ سے ماخوذ ہے اس نظم میں شاعر نے آدمی کی مختلف قسمیں اور صفات کا بیان بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے۔

Advertisement
دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمی،
اور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمی،
زردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمی،
نعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی،
ٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی!

تشریح:- نظیر اکبر آبادی اس بند میں فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو بادشاہ ہے وہ بھی آدمی ہے اور جو غریب، فقیر ہے وہ بھی آدمی ہے۔ جس کے پاس مال و زر ہے وہ بھی، اور جو بے یارو مددگار ہے وہ بھی آدمی ہے۔ اور جو اچھی اچھی نعمتیں کھا رہا ہے وہ بھی، اور جو سوکھے ٹکڑے کھا رہا ہے وہ بھی آدمی ہے۔

Advertisement
ابدال، قطب و غوث، ولی آدمی ہوئے،
منکر بھی آدمی ہوئے اور کفر کے بھرے،
کیا کیا کرشمے کشف و کرامات کے لیے،
حتٰی کہ اپنے زہد و ریاضت کے زور سے،
خالق سے جا ملا ہے سو ہے وہ بھی آدمی!

تشریح:- اس بند میں نظیر کہتے ہیں کہ جو اللہ کے نیک بندے ہیں مثلاً:قطب و غوث، ابدال اور ولی وہ بھی آدمی تھے۔ اور جس نے خدا کی خدائی سے انکار کیا اور کافر کہلاۓ وہ بھی آدمی ہیں۔ اور جن خدا کے نیک بندوں نے اپنے ہنر اور کمال سے خدا کے نیک بندوں کو فیض پہنچایا وہ بھی آدمی ہی ہے۔ یعنی اچھے اور برے دونوں قسم کے آدمی اس دنیا میں ہیں۔

Advertisement
فرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائی کا،
شداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدا،
نمرود بھی خدا ہی کہاتا تھا برملا،
یہ بات ہے سمجھنے کی آگے کہوں میں کیا،
یاں تک جو ہو چکا ہے سو ہے وہ بھی آدمی!

تشریح:-نظیر اس بند میں کہتے ہیں کہ وہ لوگ جو خدائی کا دعویٰ کرتے تھے وہ آدمی ہی تھے خواہ وہ فرعون ہو، نمرود ہو یا شدّاد جن نے دنیا میں جنت بنا کر اپنی خدائی کا دعویٰ کیا تھا یہ آدمی ہی تھے۔ اب میں آگے کیا لکھوں آپ ہی اس بات پر غور کرے کہ یہاں تک جو کچھ کیا یا کر رہے ہیں یہ لوگ بھی اللہ ہی کی مخلوق یعنی آدمی ہی ہیں۔

یاں آدمی ہی نار ہے اور آدمی ہی نور،
یاں آدمی ہی پاس ہے اور آدمی ہی دور،
کُل آدمی کا حُسن و قبح میں ہے یاں ظہور،
شیطان بھی آدمی ہے، جو کرتا ہے مکر و زُور،
اور ہادی رہنما ہے، سو ہے وہ بھی آدمی!

تشریح:- نظیر کہتے ہیں کہ اس دنیا میں آگ کی مانند بھی آدمی ہیں۔ اور نور کے مانند بھی، یہاں آدمی آدمی کے پاس ہے اور دور بھی۔ اور آدمی کے عمل ہی سے اچھائی اور برائی ظاہر ہوتی ہے۔ آدمی کو دھوکا فریب دینے والا بھی آدمی ہے اور ان کو صحیح راستہ دکھانے والا بھی آدمی ہی ہے۔ یعنی اس دنیا میں دو قسم کے انسان ہیں ایک نیک اور دوسرا بد، نیک لوگ اپنے اچھے اعمال کی بدولت جنت کے حقدار ہیں تو برے لوگ برے اعمال کی بدولت جہنم کے حقدار ہیں۔ یعنی آدمی ہی جنت اور جہنم میں جانے والے ہیں۔

Advertisement
مسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاں،
بنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواں،
پڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نماز، یاں،
اور آدمی ہی اُن کی چراتے ہیں جوتیاں،
جو اُن کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی!

تشریح:- اس بند میں نظیر کہتے ہیں کہ اس دنیا میں مسجد بنانے والے، مسجد میں خطبہ پڑھنے والےاور نماز پڑھنے والے بھی آدمی ہی ہوتے ہیں۔ اور ان کے علاوہ مسجد میں قرآن اور نماز پڑھنے والوں کی جوتیاں چرانے والے اور ان کو ایسا کرنے سے روکنے والے بھی آدمی ہوتے ہیں۔ یعنی اچھے برے نیک و بد سب آدمی ہی ہیں۔

یاں آدمی پہ جان کو مارے ہے آدمی،
اور آدمی ہی تیغ سے مارے ہے آدمی،
پگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمی،
چلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمی،
اور سن کے دوڑتا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی!

تشریح:- اس بند میں نظیر کہتے ہیں کہ انسان کی کئی چہرے ہوتے ہیں۔ اس دنیا میں ایسے بھی آدمی ہوتے ہیں جو دوسروں کے لیے اپنی جان قربان کر دیتے ہیں۔ اور ایسے بھی آدمی ہوتے ہیں جو اپنے فائدے کے لیے دوسروں کا خون کر دیتے ہیں۔ آدمی ہی دوسرے آدمی کی بےعزتی کرتا ہے اور مدد کو پکارنے والا اور اس کی مدد کے لیے آنے والا بھی آدمی ہی ہوتا ہے۔

Advertisement
چلتا ہے آدمی ہی مسافر ہو لے کے مال،
اور آدمی ہی مارے ہے پھانسی گلے میں ڈال،
یاں آدمی ہی صید ہے اور آدمی ہی جال،
سچا بھی آدمی ہی نکلتا ہے میرے لال،
اور جھوٹ کا بھرا ہے سو ہے وہ بھی آدمی،

تشریح:- اس بند میں نظیر کہتے ہیں کہ اس دنیا میں سفر کرنے والا، گلے میں پھانسی کا پھندا ڈال کر مارنے والا، آدمی کو اپنی بربریت(وحشی پن) کا شکار بنانے والا، آدمی کو اپنے جال میں پھنسانے والا بھی آدمی ہی ہوتا ہے۔ جو سچا ہے وہ بھی آدمی ہی ہے اور جو جھوٹا ہے وہ بھی آدمی ہی ہے۔

یاں آدمی ہی شادی ہے اور آدمی بیاہ،
قاضی وکیل آدمی اور آدمی گواہ،
تاشے بجاتے آدمی چلتے ہیں خوامخواہ،
دوڑے ہیں آدمی ہی مشعلیں جلا کے واہ،
اور بیاہنے چڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمی!

تشریح:-اس بند میں نظیر کہتے ہیں کہ یہاں آدمی کی آدمی (مردو عورت) سے شادی ہوتی ہے اور اس شادی میں شرکت کرنے والے باراتی،وکیل، گواہ اور قاضی (نکاح پڑھانے والا) وہ بھی آدمی ہی ہوتے ہیں۔ اور بارات کے آگے ناچنے، گانے اور بجانے والے بھی آدمی ہی ہوتے ہیں۔ رات کے وقت مشعلیں (شمع/چراغ دان) جلا کر جو لوگ آگے آگے چلتے ہیں وہ بھی اور گھوڑے پر سوار ہوکر دلہن بیاہنے آتا ہے وہ بھی آدمی ہی ہوتا ہے۔

Advertisement
یاں آدمی نقیب ہو بولے ہے بار بار،
اور آدمی ہی پیادے ہیں اور آدمی سوار،
حقہ، صراحی، جوتیاں، دوڑیں بغل میں مار،
کاندھے پہ رکھ کے پالکی ہیں آدمی کہار،
اور اس پہ جو چڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمی!

تشریح:-اس بند میں نظیر نے اپنے زمانے کی سماجی حالت کا نقشہ بڑی خوبصورتی سے کھینچا ہے کہ جب رئیسوں اور امیروں کی سواری جاتی ہے تو نقیب (خبر دینے والا/مدح خواں/ہرکارہ) آگے آواز لگاتے جاتے ہیں اور راستے میں پیدل اور سواری پر چلنے والے ان کے ساتھ حقہ، صراحی اور جوتیاں بغل میں دباۓ دوڑتے چلے جاتے ہیں۔ جن کناروں کے کندھے پر پالکی رکھی ہوتی ہیں اور پالکی میں جو بیٹھا ہے وہ بھی آدمی ہی ہے۔

بیٹھے ہیں آدمی ہی دکانیں لگا لگا،
کہتا ہے کوئی لو کوئی کہتا ہے لا رے لا،
اور آدمی ہی پھرتے ہیں سر رکھ کے خوانچہ،
کس کس طرح سے بیچیں ہیں چیزیں بنا بنا،
اور مول لے رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی!

تشریح:-اس بند میں نظیر کہتے ہیں کہ دکان لگانے والے، دکان پر بیٹھنے والے، سامان خریدنے والے سبھی آدمی ہی ہیں۔ اور کچھ لوگ اپنے سروں پر چیزیں رکھ کر بیچ رہے ہیں وہ بھی آدمی ہی ہیں۔

Advertisement
یاں آدمی ہی لعل و جواہر ہے بے بہا،
اور آدمی ہی خاک سے بد تر ہی ہو گیا،
کالا بھی آدمی ہے اور اُلٹا ہے جُوں توا،
گورا بھی آدمی ہے کہ ٹکڑا سا چاند کا،
بد شکل و بد نما ہے سو ہے وہ بھی آدمی!

تشریح:- اس بند میں نظیر کہتے ہیں کہ اس دنیا میں لعل (شُرخ رنگ جواہر/معشوق کے ہونٹ) و جواہر (قیمتی پتھر/یاقوت/ہیرہ) سب سے زیادہ قیمتی ہیں اور آدمی ہی اس دنیا میں خاک سے بدتر ہو گیا ہے۔ مطلب یہ کہ انسان قیمتی لعل جواہر حاصل کرنے کے لیے بُرے سے بُرے کام کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ اس دنیا میں چاند کی طرح چمکنے والے خوبصورت آدمی بھی ہیں اور توے کی طرح کالے اور بدصورت چہرے والے آدمی بھی ہوتے ہیں۔

اک آدمی ہیں جن کی یہ کچھ زرق برق ہیں،
روپے کے ان کے پائوں ہیں سونے کے فرق ہیں،
جھمکے تمام غرب سے لے تا بہ شرق ہیں،
کمخواب، تاش، شال، دوشالوں میں غرق ہیں،
اور چیتھڑوں لگا ہے سو ہے وہ بھی آدمی!

تشریح:- اس بند میں نظیر کہتے ہیں کہ اس دنیا میں ایسے بھی لوگ ہیں جن کے پاس روپے پیسے کی فراوانی ہے، ان کے قدموں میں روپیہ کے ڈھیر ہیں اور ان کی پیشانی سونے کے مانند چمکدار ہے۔ چاروں طرف ان کی شہرت کے چرچے ہیں۔ اور وہ قیمتی لباسوں میں ڈھکے ہوے ہیں۔ وہی دوسری طرف ایسے بھی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے جسم پر چیتھڑے (پھٹے پرانے کپڑے) پہن رکھے ہیں۔ مطلب اس دنیا میں ایسے بھی لوگ ہیں جن کو عیش و آرام کی سب چیزیں حاصل ہیں۔ اور ایسے بھی لوگ ہیں جن کو دو وقت کا کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا اور نہ پہننے کو کپڑے ملتے ہیں۔

Advertisement
مرنے میں آدمی ہی کفن کرتے ہیں تیار،
نہلا دھلا اٹھاتےہیں کاندھے پہ کر سوار،
کلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں روتے ہیں زار و زار،
سب آدمی ہی کرتے ہیں مردے کا کاروبار،
اور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمی!

تشریح:- اس بند میں نظیر کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد کفن پہنانے والا، قبرستان لے جانے والیں، میت میں شرکت کرنے والے، اور میت کے ساتھ کلمہ پڑھتے ہوئے چلنے والے آدمی ہیں۔ اور مردے کی آخری رسومات ادا کرنے والے اور نمازِ جنازہ پڑھانے والا آدمی ہی ہوتا ہے۔ اور مرنے والا آدمی ہی ہوتا ہے۔

اشراف اور کمینے سے لے شاہ تا وزیر،
ہیں آدمی ہی صاحبِ عزت بھی اور حقیر،
یاں آدمی مرید ہیں اور آدمی ہی پیر،
اچھا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیر،
اور سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی!

تشریح:- نظم کے اس آخری بند میں نظیر کہتے ہیں کہ شریف سے لے کر بد معاش تک، اور بادشاہ سے لے کر وزیر تک سبھی آدمی ہی ہوتے ہیں۔ اور جو کمتر درجے (حقیر و فقیر) کے ہیں وہ بھی آدمی ہی ہیں۔ یہاں پیر اور مرید آدمی ہی ہیں۔ اور آخری دو مصرعوں میں نظیر اپنے آپ سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ اے نظیر اس دنیا میں اچھے اور بُرے دونوں قسم کے آدمی ہوتے ہیں۔

Advertisement

سوال1:- اس نظم کا ہر بند پانچ مصرعوں پر مشتمل ہے، ایسی نظم کو کیا کہتے ہیں؟

جواب:-جس نظم کا ایک بند پانچ مصرعوں کا ہو اسے "مخمس” کہتے ہیں۔ اور یہ نظم مخمس کی شکل میں لکھی گئی ہے۔

سوال 2:-نظم میں کن لوگوں کے خدائی کا دعویٰ کرنے کا ذکر کیا گیا ہے؟ نام لکھیں۔

جواب:-فرعون، شدّاد، نمرود نے خدائی کا دعویٰ کیا۔

Advertisement

سوال 3:- اس نظم میں آدمی کے جتنے روپ بیان کۓ گۓ ہیں، ان میں سے دو دو ایسے روپ بیان کیجئے جو ایک دوسرے کے ضد ہوں۔

الفاظضد
بادشاہگدا
نارنور
سچاجھوٹا
اچھابرا
زرداربے نوا
ہادیشیطان
سوارپیادہ
گوراکالا
وزیرحقیر
تحریرمحمد طیب عزیز خان محمودی
Advertisement

Advertisement

Advertisement