الطاف حسین حالی کی نظم نگاری

نظم تعلیم سے بے توجہی کا نتیجہ کا خلاصہ

حالی اس نظم میں تعلیم سے بے توجہی کے نقصانات بیان کرتے ہیں اور تعلیم کے فوائد بھی اس کے ساتھ ساتھ ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں جن قوموں اور ملکوں نے تعلیم کی قدر جانی ان پر کبھی شکست طاری نہیں ہوئی اور جنہوں نے اس کی قیمت نہیں جانی انہوں نے اپنی سلطنت کا شیرازہ کھو دیا اور ان کے گھروں پر بدحالی اور افلاس کا پہرہ لگ گیا ہے۔

حالی اس نظم میں کہہ رہے ہیں وہ خاندان بھی عزت کے قابل نہ رہے اور شرافت بھی کسی کام کی نہیں رہی جنہوں نے تعلیم سے خود کو دور کیا۔تعلیم کے فقدان سے کسی کام میں برکت نہیں۔ وہاں کاریگروں اور پیشہ وروں کے پیشے میں کچھ برکت نہیں رہی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ سوداگروں کے کھیل بھی بگڑ جاتے ہیں۔ اکثر سوداگروں کے گھروں کے دروازے بھی بند ہوگئے ہیں۔

جو لوگ بغیر تعلیم کے دولت کماتے تھے اور خود کو تعلیم سے آراستہ نہں کیا وہ آج بیکار ہیں اور کام کے لئے ترستے رہے ہیں۔ اور سب ہنرمند ادیب، طبیب بغیر تعلیم کے ادھورے اور ناقص ہیں۔ پھر اس میں وہ معمولی سی چیز کو بنانے کے لیے مشرق سے مغرب تک لے جاتے ہیں اور ہر چیز میں وہ کب تک محتاج رہیں گے، اس کا علاج بس یہی ہے کہ تعلیم سے خود کو آراستہ کریں۔ پھر غربت اور مفلسی دور ہو جائے گی اور جس قوم نے تعلیم کو ترک کیا ان کی راہ میں سزائیں مل گئیں اور خدانخواستہ ان کی عافیت بھی خطرے میں آ سکتی ہے اور بے شمار بلائیں آنے والی ہیں۔

اس نظم کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

سوال: ”تعلیم کے فائدے “ مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔