غزلیات میر، تشریح، سوالات و جوابات

0
  • کتاب “بہارستانِ اردو”برائے بارہویں جماعت
  • سبق:غزل
  • شاعر کا نام:میر تقی میر
  • غزل نمبر:01

غزل کی تشریح:

جس سر کو غرور آج ہے تاج وری کا
کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا

تشریح :

میر تقی میر کہتے ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے یہاں کوئی بھی چیز ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے۔ آج جو بادشاہ ہے اور اپنی سلطنت اور تخت و تاج پر غرور کرتا ہے یہ چیزیں ہمیشہ رہنے والی نہیں ہیں۔یہ ایک نہ ایک دن ختم ہو جائیں گی۔ اسلئے اپنی شان و شوکت اور آن و بان پر تکبر اور غرور نہیں کرنا چاہیے۔ میر اس لئے یہ کہتے ہیں کیونکہ میر نے دلی کو بربار ہوتے دیکھا ہے اور بہت سے سلاطین کو برباد ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔

آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت
اسباب لُٹا راہ میں یاں ہر سفری کا

تشریح :

میر تقی میر اس شعر میں فرماتے ہیں کہ اس دنیاوی زندگی کے سفر سے کوئی سلامت نہیں لوٹا بل کہ اس کے جو ساز و سامان زندگی گزارنے کے لئے تھے وہ سب ختم ہو کے ہی لوٹنا پڑا۔ جوانی میں اس کے پاس تمام صلاحتیں اور قوتیں تھیں۔ جوں جوں اس کا وقت قریب آتا ہے اس کی تمام صلاحتیں اور قوتیں ختم ہوتی ہیں۔جوانی کا زور ، قوتِ بینائی ، قوتِ سماعت سب ساتھ چھوڑ دیتی ہیں اور اس طرح انسان اپنا سب سامان لُٹا کر یہاں سے چلا جاتا ہے۔

زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی
اب سنگ مداوا ہے آشفتہ سری کا

تشریح :

میر تقی میر اس شعر میں کہتے ہیں کہ جب کسی انسان کی دیونگی بڑھ جاتی ہے تو اس کو قید خانے میں قید کیا جاتا ہے لیکن میری دیونگی اس قدر شدید ہے کہ دورانِ قید بھی میری دیوانگی کم نہیں ہوئی۔ اس لئے اس دیوانگی کا واحد علاج مجھے یہی نظر آتا ہے کہ کسی پتھر سے سر ٹکرایا جائے اور اپنی زندگی کا خاتمہ کیا جائے۔

ہر زخم دور محشر سے ہمارا
انصاف طلب ہے تیری بیداد گری گا

تشریح :

میر تقی میر محبوب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے میرے محبوب تم نے مجھ پر شدید ظلم و ستم کیے ہیں لیکن میں روز محشر اللہ سے تمہارے ان ظلموں اور ستموں کا انصاف طلب کروں گا۔ گویا دنیا میں کتنے ہی ظلم تم مجھ پر کرو لیکن قیامت کے دن تجھے ضرور حساب دینا ہوگا۔

اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہی دیکھو
آئینے کو لپکایا ہے پریشان نظری کا

تشریح :

میر تقی میر کہتے ہیں کہ میں اپنے محبوب سے اس قدر عشق رکھتا ہوں اور وہ اتنا خوبصورت ہے کہ میں جہاں بھی دیکھتا ہوں اسی کا عکس نظر آتا ہے اور جب وہ آئینہ دیکھتا ہے تو آئینہ بھی اس کا حسن دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے۔

صد موسم گل ہم کو تہہ بال ہی گذرے
مقدور نہ دیکھا کبھو بے بال و پری کا

تشریح :

میر تقی میر کہتے ہیں کہ میری زندگی میں لا تعداد بہار کے موسم آئے مگر وہ مجھے مسرت یعنی نہ بخش پائے کیونکہ میں ہمیشہ بے سر و سامانی یعنی پریشانی کے حالات میں رہا۔

ٹک میر ؔ جگر سوختہ کی جلد خبر لے
کیا یار بھروسہ ہے چراغ سحری کا

تشریح :

میر تقی میر اپنے دوست سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ میں غموں اور پریشانیوں سے چور ہو چکا ہوں۔ اب میرا وجود کسی بھی وقت ختم ہونے والا ہے اسلئے جلدی سے میری ملاقات کو آؤ کیوں کہ میں اب زیادہ دن جینے والا نہیں ہوں۔

غزل نمبر 02

غزل کی تشریح

جیتے جی کوچہ دلدار سے جایا نہ گیا
اس کی دیوار کا سر سے مرے سایہ نہ گیا

تشریح :

میر تقی میرؔ اس شعر میں کہتے ہیں جب تک میں عشق میں گرفتار تھا ترک محبت میرے لئے ممکن نہ ہو سکا۔ اس لئے زندگی بھر محبوب کی گلی کو چھوڑ نہ سکا اور اس کی گلی میں آتا جاتا رہا۔ اسطرح اسکی گلی کا سایہ میرے سر پر ہمیشہ رہا۔

وہ کل دیر تلک دیکھتا ایدھر کو رہا
ہم سے حال تباہ اپنا دیکھایا نہ گیا

تشریح :

میرتقی میر اس شعر میں کہتے ہیں کہ کل جب میرے محبوب سے میرا سامنا ہوا تو میرا محبوب بڑی دیر تک میری جانب متوجہ رہا مگر میری حالت ایسی تھی کہ میں اپنی تباہ حال صورت لے کر اس کے سامنے نہ جا سکا۔

پاس ناموس محبت تھا کہ فرہاد کے پاس
بے ستوں سامنے سے اپنے اٹھایا نہ گیا

تشریح :

میر تقی میر اس شعر میں کہتےہیں کہ فرہاد اپنے محبوب سے سچا عشق رکھتا تھا اسلئے اسے اپنے عشق کی عزت اور اسکا احترام تھا۔ اسی احترام کو ملحوظ ِ خاطر رکھ کر اس نے ستون پہاڑ سے اپنے محبوب کے محل تک دودھ کی نہر نکالی تھی۔میر تقی میر کہتے ہیں کہ فرہاد اپنے محبوب شیریں سے اس قدر محبت رکھتا تھا کہ اس نے ستون پہاڑ کو چیر کر شیریں کے محل تک دودھ کی نہر نکال دی۔

خاک تک کوچہ دلدار کی چھانی ہم نے
جستجو کی پہ دل گمشدہ پیا نہ گیا

تشریح:

میر تقی میر کہتے ہیں کہ میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر گمشدہ دل کی تلاش میں اکثر محبوب کے کوچے کا چکر لگا تا رہا لیکن میرا گمشدہ دل مجھے نہ مل سکا گویا میں نے جب محبوب کو دل دیا تو اس کے بعد اس کا کہیں پتہ نہ چل سکا اور یہ میں اپنے کھوئے دل کے حصول کے لیے تلاش میں ہی سرگرداں ہی رہا۔

مہ نے آسا منے شب یاد دلایا تھا اسے
پھر وہ تا صبح سر سے میر جی سے بھلا یا نہ گیا

تشریح :

میر تقی میر کہتے ہیں کہ جب چاند نکلا تو اسکی خوبصورتی کو دیکھ کر مجھے اپنا محبوب شدت سے یاد آیا اور رات بھر میں اس کے خیالوں میں ڈوبا رہا۔ میرے محبوب کے یہ خیالات ایسے خوش کن تھے کہ میں خود کو ان میں سے نکال ہی نہ پایا۔

جی میں آتا ہے کہ کچھ اور بھی موزون کیجئے
درد دل ایک غزل میں سنا یا نہ گیا

تشریح :

میر تقی میر کہتے ہیں کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں مزید غرلیں لکھوں اور اپنے جذبات کا اظہار کروں کیونکہ میرا دل ایسے غم سے لبریز ہے کہ محض ایک غزل میرے دل کا حال بیان کرنے کے لئے کافی نہیں ہے۔

زیر شمشیر ستم میرؔ تڑپنا کیسا
سر بھی تسلیم محبت میں ہلایا نہ گیا

تشریح :

میر تقی میر اس شعر میں اپنے محبوب کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہو ئے خود سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ سنگ دل محبوب کی تلوار کے نیچے تڑپنے سے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اس کے ستم سے بچا نہیں جا سکتا۔ یہ ظلم و ستم اس نے اپنی روایت بنا لی ہے اور اس کی محبت کو تسلیم کرتے ہوئے میں اپنا سر تک نہ ہلا سکا۔

مشق:

غزل کی تعریف کریں۔

غزل کے لغوی معنی ہیں “عورتوں سے باتیں کرنا” یا “عورتوں کے متعلق باتیں کرنا” شعری اصطلاح میں غزل اس صنفِ سخن کو کہا جاتا ہے جس کے پہلے شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوں اور باقی تمام اشعار پہلے شعر کے ردیف و قافیہ کے وزن پر کہے جاتے ہیں۔ معنوی لحاظ سے غزل کا ہر ایک شعر مکمل اکائی لیے ہوتا ہے اور ہر شعر کا معنی جُداگانہ ہوتا ہے۔

اردو غزل کی ابتداء و ارتقاء پر ایک نوٹ لکھیں۔

اردو غزل گوئی کا آغاز دکن میں ہوا۔ سلطان محمد قلی قطب شاہ اردو کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر ہیں لیکن پہلے باشعور غزل گو ولی دکنی ہیں، جنہوں نے اُردو غزل کو سر بلندی عطا کی۔ ولی کے معاصرین میں آبرو، مضمون وغیرہ نے غزلیں کہیں۔ حاتم، مظہرجان جانان اور آرزو نے اردو غزل کو نمایاں ترقی دی۔ دلی میں میر تقی میر، میر درد اور سودا نے اُردو غزل کو نزاکت ، نفاست، سوز و گداز ، درد و یاس اور سلاست و روانی عطا کی۔

۱۸۵۷ء کے ہنگامے کے بعد دلی تباہ ہوئی اور لکھنو شعرو ادب کا گہوارہ بن گیا۔ یہاں میرحسن، مصحفی اور جرأت نے ماحول کے اثرات کی بدولت غزل میں معاملہ بندی، بذلہ سنجی اور عریانی پیدا کی۔ ناسخ اور آتش نے دبستان لکھنو کی بنا ڈالی اور غزل مضمون آفرینی، ایمائیت، لفاظی، معاملہ بندی اور بوالہوسی کا شکار ہوئی۔ دبستان لکھنو نے داخلیت کے بجائے خارجیت پر زور دیا۔

غالب، مؤمن اور ذوق نے دبستان دہلی کو ترقی دی۔ غالب کے فلسفیانہ انداز نے غزل میں وقار سنجیدگی اور وزن پیدا کر دیا۔ مومن کی نازک خیالی، حسن اور نفاست نے غزل کو ایک نکھار بخشا۔ ذوق نے زبان و بیان کے لحاظ سے اس کو بلندی عطا کی۔غدر کے بعد جہاں ایک طرف لکھنؤ شعرو ادب کا مرکز بنا، وہیں دوسری طرف رامپور اور حیدرآباد کے درباروں میں بھی شعرا کی پذیرائی ہوئی۔ان مراکز پر دہلوی اورلکھنوی انداز گھل مل گیا۔

شاد عظیم آبادی، جگر مرادآبادی اور امیر مینائی وغیرہ نے غزل کی روایت کو آگے بڑھایا۔ بیسویں صدی جہاں پوری دنیا کے لیے تغیر وتبدل کی صدی رہی وہیں اس صدی میں غزل بھی ہر طرح سے تبدیلیوں کا شکار ہوتی ہے۔اس کی ہیت بدلنے کے ناکام تجربے ہوئے لیکن اس کے موضوعات میں زیادہ ہمہ گیری پیدا ہوگئی۔ اس صدی کی آمد کے ساتھ ہی علامہ اقبال نے غزل کی دنیا میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کیں۔ حسرت روایت کی باز یافت میں مگن رہے۔

ترقی پسندتحریک نے شعرا کی سوچ اور شاعری کا انداز بدل دیا۔ غم جاناں کی جگہ غم دوراں نے لے لی۔ مزدور اور غریب کی حمایت کے لیے غزل کو بھی لال وردی پہنا دی گئی۔ فیض احمد فیض، جاں نثار اختر، مخدوم محی الدین، مجاز لکھنوی وغیرہ نے غزل کے ذریعے عوامی امنگوں کی ترجمانی کی۔ جدیدیت کی آمد اور ۱۹۴۷ء کے بٹوارے کے ساتھ غزل کا رنگ و آہنگ بدل گیا۔ اجتماعیت کی جگہ انفرادیت نے لے لی۔ امید پر نا امیدی چھا گئی۔ غم دوراں کی جگہ غم ذات نے لے لی۔ ناصر کاظمی، شہر یار، ندافاضلی، بشیر بدر وغیرہ نے غزل میں نئی روح پھونک دی۔

جموں وکشمیر میں مقامی سطح پرغزل گو شعرا اپنے فکر انگیز کلام کے ذریعے صنف غزل کے گیسوئے خم دار سنوارنے میں مصروف نظر آرہے ہیں۔ غرض غزل عصرِ حاضر میں بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اُردو شاعری کی مملکت پر براجماں ہے۔

درج ذیل اشعار کی تشریح کریں۔

تلمیح ایک شعری اصطلاح ہے۔ جب شاعر کسی تاریخ یا نیم تاریخی واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے یا شعر میں ایسے کسی واقعہ کا ذکر کرتا ہے جس کا تعلق تاریخ سے ہو یا لوک روایت سے۔ ایسی صنعت کو تلمیح کہتے ہیں۔ مثلاً :

پاس ناموس محبت تھا کہ فرہاد کے پاس
بے ستون سامنے سے اپنے اٹھایا نہ گیا

اس شعر میں فرہاد اور بے ستون (ایک پہاڑ کا ذکر آیا ہے۔ان دونوں کا تعلق ہماری لوک کہانیوں اور لوک روایت کے ساتھ ہے۔)
نصاب میں شامل دوسری غزلوں میں ایسے اشعار تلاش کیجیے جن میں تلمیح کا استعمال ہوا ہو۔

قید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبر
لیکن آنکھیں روزن دیوار زندان ہوگئیں
غالب:

تلمیح: یعقوب کی آنکھیں ، یوسف کا قید میں جانا

کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا

تلمیح: نمرود

میر تقی میر کے حالاتِ زندگی قلم بند کریں۔

میرتقی میر 1722ء میں آ گرے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد درویش صفت انسان تھے۔ میر کی نو عمری میں ان کے والد کا انتقال ہو گیا پھر میر دہلی آ گئے اور یہاں طویل عرصے تک رہے۔ میر کے ایک سوتیلے بڑے بھائی تھے۔ جنہوں نے میر کے ساتھ برا سلوک کیا اور باپ کے چھوڑے ہوئے ترک پر قابض ہوکر میر کو پریشان کردیا۔

تلاش معاش میں میر دہلی پہنچے اور نواب کے یہاں ایک معمولی کی ملازمت کر لی۔ نواب صاحب نادر شاہی حملے میں مارے گئے۔ اس لیے آگرہ لوٹے۔ آگرہ میں زندگی بسر کرنے کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو پھر اک بار دہلی چلے گئے اور سوتیلے بھائی خان آرزو کے یہاں قیام کیا۔ وہاں بھی میر کو سکون نصیب نہ ہوا۔

یہاں خان آرز و کی صحبتوں نے ان کے ذوقِ شعر اور علم کو ترقی دی اور بہت جلد وہ دہلی کے نمایاں شعرا میں گنے جانے لگے۔ دلی میں انھوں نے اچھے اور برے دونوں طرح کے دن گزارے، اپنے مریدوں کے ساتھ کچھ وقت راجپوتانے میں گزارا اور بالآخر 1782ء کے قریب وہ لکھنؤ آگئے ۔نواب آصف الدولہ نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور لکھنؤ میں ہی 1810ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کے زمانے سے لے کر آج تک تمام شعرا اور ناقدین نے ان کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف کیا ہے۔ انھیں خدائے سخن کہا جا تا ہے۔

میر تقی میر کی ادبی خدمات اور خصوصیاتِ کلام کا جائزہ پیش کریں۔

میر تقی میر کواردو کاسب سے بڑا شاعر کہا جاتا ہے۔میر نے ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی ہے لیکن ان کا اصل میدان غزل اور مثنوی ہے۔ اردو میں ان کا ضخیم کلیات شائع ہو چکا ہے۔انھوں نے”ذکر میر” کے نام سے فارسی زبان میں آپ بیتی لکھی اور” نکات الشعرا”کے نام سے اردو شاعروں کا تذکرہ لکھا جسے اردو شعرا کا پہلا تذکرہ تسلیم کیا جا تا ہے۔

میر کی بڑائی اس میں ہے کہ انھوں نے زندگی کے دوسرے پہلوؤں کو بھی اپنی شاعری میں اتنی ہی خوبی سے جگہ دی ہے جس خوبی سے وہ رنج وغم کی بات کرتے ہیں۔ ان کی شاعری بظاہر سادہ ہے لیکن اس میں فکر کی گہرائی ہے۔ ان کے شعر دل کو چھوتے ہیں۔ میر اپنی شاعری میں لفظوں کو نئے نئے رنگ سے استعمال کرتے ہیں اور اپنے کلام میں نئے نئے معنی پیدا کرتے ہیں۔

غالب ، ذوق اور داغ سبھی اُن کی استادانہ عظمت کو تسلیم کیا ہے۔ میر کے اشعار میں جو نشتریت سوز وگداز اور اندازِ بیاں ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ میر کے ۷۲ نشر مشہور ہیں۔ فلسفہ اور تصوف کا اثر ان کے یہاں کم ہے مگر عشق حقیقی مجازی کے اثرات سے ان کا سارا کلام مزین ہے۔ اُن کے کلام میں ایسا ترنم اور اثر آفرینی ہے جو بعض اوقات علم اور سر کے درجہ روانی جاتی ہے ان کی زبان صاف ستھری ، پند و نصائح ، بے ساختہ اور طنز کے تیروں سے بھر پور ہے۔ میر کے کلام میں غم، رنج نامیدی کی کیفیت بدرجہ اتم موجود ہے۔

مختصر جواب طلب سوالات:

غزل کے لغوی معنی کیا ہیں ؟

غزل کے لغوی معنی ہیں “عورتوں سے باتیں کرنا” یا “عورتوں کے متعلق باتیں کرنا” شعری اصطلاح میں غزل اس صنفِ سخن کو کہا جاتاہے جس کے پہلے شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوں اور باقی تمام اشعار پہلے شعر کے ردیف و قافیہ کے وزن پر کہے جاتے ہیں۔

غزل کے پہلے شعر کو کیا کہتے ہیں؟

غزل کے پہلے شعر کو “مطلع ” کہا جاتا ہے۔

اُردو غزل گوئی کا آغاز کہاں ہوا؟

اردو غزل گوئی کا آغاز “دکن” سے ہوا۔

پہلے غزل گو شاعر کا نام کیا ہے؟

پہلے غزل گو شاعر “سلطان قلی قطب شاہ” تھے۔

دبستانِ لکھنو کی بنیاد کس شاعر نے ڈالی؟

ناسخ اور آتش نے دبستانِ لکھنو کی بنیاد ڈالی۔

“غزلِ مسلسل” کسے کہا جاتا ہے؟

غزلِ مسلسل سے مراد ایسی غزل ہے جو ایک ہی موضوع پر کہی جاتی ہے یعنی اس میں موضوع کی تبدیلی واقع نہیں ہوتی ہے۔