غزلیات مومن خان مومن، تشریح، سوالات و جوابات

0

غزل نمبر: 1 کی تشریح

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا

تشریح :یہ شعر اس غزل کے مطلع کا شعر ہے جس میں شاعر اپنے محبوب کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ وہ اس پہ مسلسل ظلم کر رہا ہے اور ہم فریاد کیے جارہے ہیں۔ لیکن ہماری فریاد کا اس پر مطلق کوئی اثر ہوتا ہی نہیں ہے۔ وہ برابر رنج والم دیے جا رہا ہے۔ کاش ! اسے معلوم ہوتا کہ کسی کو دی گئی تکلیف کبھی خوشی کا باعث نہیں بنتی اس لیے اب وہ اسے اور رنج دینا بند کر دیے۔

بے وفا کہنے کی شکایت ہے
تو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا

تشریح: اس شعرمیں شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب تو ہمیشہ وعدہ کر کے مکر جاتا ہے۔ بے وفائی گویا اس کا شیوہ ہے اور اس پر طرہ یہ کہ ہم سے شکایت ہے کہ ہم اس کو بے وفا کیوں کہتے ہیں۔ اب چاہیے یہ کہ وہ اپنا طریقہ بدل لے۔ یوں نہ تو ہم اس کو بے وفا کہیں اور نہ شکایت ہو۔ لیکن نہ وہ اپنا چلن بدلتا ہے اور نہ کبھی وعدہ وفا کرتا ہے۔

ذکر اغیار سے ہوا معلوم
حرف ناصع برا نہیں ہوتا

تشریح: اس شعر میں شاعر نے اپنی بات کرتے ہوئے یہ باور کرایا ہے کہ ناصح جو نصیحت کرتا تھا کہ بتوں(محوب ) سے دور رہو کہ یہ ہمیشہ تکلیف پہنچاتے ہیں اور دین و دنیا کو غارت کرنے کا سبب بھی بنتے ہیں تو ہم کو بہت برا محسوس ہوتا تھا۔ مگر آج جب ہمارے محبوب نے ہماری موجودگی میں ہمارے رقیب کا محبت بھرے لہجے کے ساتھ تذکرہ کیا تو ہمیں بہت تکلیف پہنچی اور احساس ہوا نا صح جو کہتا تھا وہ غلط نہیں تھا۔

کس کو ہے ذوق تلخ کامی ایک
جنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میرے محبوب کو یہ عادت پڑ چکی ہے کہ وہ ہمیشہ تلخ کلامی سے کام لیتے ہوئے ہی بات کرتا ہے اور اسے اب کسی صورت بھی بنا لڑے اورجںگ کیے مزا نہیں آتا ہے۔
تشریح:

تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

تشریح: شاعراس شعر میں کہتا ہے کہ اے محبوب ہم نے تم کو پانے کے لئے کیا کیا جتن کوششیں نہیں کی ہیں۔ ہر طرح کی کوشش کی ہے لیکن تو کسی طرح بھی ہمارا نہیں ہو سکا۔ ورنہ اس مضبوط ارادے اور کوشش سے دنیا کا کون سا ایسا کام ہے جو ہو نہیں سکتا۔ گو یا سب کچھ ممکن ہے لیکن تم کو اپنا بنانا ممکن نہیں ہے۔

اس نے کیا جانے کیا کیا لے کر
دل کسی کام کا نہیں ہوتا

تشریح: شاعر کہتا ہے کہ ہمارا دل بڑے کام کا تھا لیکن جب یہ محبوب پر آگیا تو یہ ہمارے قابو میں نہیں رہا۔ اب معلوم نہیں کہ ہمارے محبوب نے ہمارا دل لے کر ایسا کر دیا ہے کہ یہ کسی کام کا ہی نہیں رہا ہے۔

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

مومن خاں مومن کا یہ شعر اس لیے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ اس شعر کے بدلے غالب مومن کو اپںا مکمل شعری دیوان دینے کو تیار ہوگئے تھے۔اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب جب تم میرے پاس نہیں بھی ہوتے تو میری تنہائی میں بھی ہمیشہ تمھارا تصور میرے ساتھ رہتا ہے۔

حال دل یار کو لکھوں کیونکر
ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا

تشریح: اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہ فطری ہے کہ جہاں کہیں درد ہو گا انسان وہاں ہاتھ رکھ دے گا۔ اب محبوب کے ظلم و ستم سے دل کی حالت خراب ہو گئی ہے۔ دل پھوڑے کی طرح پک گیا ہے۔ لہٰذا میرا ہا تھ میرے دل سے ہٹتا ہی نہیں ہے۔ اب شاعر کہتا ہے کہ میں اپنے یار ، اپنے محبوب کو خط میں اپنے دل کی حالت لکھتا اور شاید وہ کچھ رحم کرتا ہے مگر کیا کروں کہ درد کی شدت ہے اور ہاتھ اس کے ساتھ ایسا لگا ہے کہ ہٹتا ہی نہیں۔

دامن اُس کا جو ہے دراز تو ہو
دست عاشق رسا نہیں ہوتا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اگر تو میرے محبوب کا دامن کشادہ ہے تو یہ بہت اچھا ہے مگر عاشق کا ہاتھ پھر بھی اس در سے خالی ہی لوٹتا ہے کیونکہ وہ فیاضی دنیا کے ہر انسان کے لیے ہوتی ہے محض عاشق کو اس سے کچھ حاصل نہیں ہو پاتا۔

چارہ دل سوائے صبر نہیں
سو تمہارے سوا نہیں ہوتا

تشریح: شاعر کہتا ہے کہ ہمارے اس دل کا علاج خبر کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور پھر محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے یہ تمہاری جدائی میں اس دل کو صبر کیوں کر میسر ہو سکتا لہٰذا اس کا علاج کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔اس لیے یہ دل تمھاری آمد ، دیدار اور ملاپ کی خبر کے منتظر ہے۔

کیوں سنے عرض مضطرب مومن
صنم آخر خدا نہیں ہوتا

تشریح: اس غزل کے مقطعے میں شاعر نے نہایت عمدہ کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ خدا کی خصوصیت میں ایک یہ ہے کہ وہ رحیم ہے اب شاعر کہتا ہے کہ اے مومن محبوب بے قرار عاشق کی درخواست کیوں سنے ؟ کہ اس کا شیوہ یا فطرت تو ظلم کرنا ہے اور پھر محبوب آخر محبوب ہی تو ہے۔ وہ کوئی خدا تو نہیں جو سب کی سنتا ہے۔

غزل نمبر:2 کی تشریح

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

تشریح: اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب تم چاہے ستم کرویا ہمیں رنج دو، تو تمھاری مرضی۔ مگر ایک زمانے میں ہم دونوں میں آشنائی تھی۔ ایک دن تم میں اور ہم میں ایک وعدہ ہوا تھا یعنی یہ وعدہ ہوا تھا کہ ہم زندگی بھر ساتھ نبھائیں گے۔ تمھیں چاہے یاد ہو یا نہ ہو مگر یہ حقیقت ہے۔اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب تم اس وعدے کو بھول چکے ہو۔

وہ جو لطف مجھ پہ تھے پیشتر، وہ کرم کہ تھا مرے حال پر
مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا، تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

تشریح: اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب بہت پہلے جو مجھ پر تمہارے لطف و عنایت اور مہربانیاں تھیں اب تک ان مہربانیوں کو میں کہاں بھولا ہوں۔ تمھیں وہ یاد ہو کہ نہ ہو لیکن مجھے وہ سب یاد ہے۔

وہ نئے گلے وہ شکایتیں، وہ مزے مزے کی حکایتیں
وہ ہر ایک بات پر روٹھنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

تشریح:شاعر مومن اپنے محبوب کو مخاطب کرتے ہوئے اس شعر میں کہتا ہے کہ اے محبوب وہ ہم دونوں میں شکوے شکائتیں، وہ مزے دار باتیں ہوا کرتی تھیں اور پھر تم بات بات پر روٹھ جاتے تھے اور میں تمھیں منایا کرتا تھا تمہیں چاہے یاد ہو یا نہ ہوں مگر مجھے سب یاد ہے.

کبھی بیٹھے سب میں جو روبہ رو تو اشارتوں میں ہی گفتگو
وہ بیان شوق کا برملا، تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

تشریح: شاعر اس شعر میں اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ اے محبوب تمہیں یاد ہے کہ جب سب چھوٹے بڑے سامنے بیٹھے ہوتے تھے تم اس وقت اس خوف میں مبتلا تھےکہ کہیں ہماری محبت کا راز کسی پر فاش نہ ہو ، ہم اشاروں ہی میں گفتگو کرتے تھے اور ان اشاروں اشاروں میں سب کے سامنے محبت کا بیان کر دیتے تھے۔ ممکن ہے یہ سب تمہیں یاد بھی ہے کہ نہیں لیکن مجھے سب یاد ہے۔

کوئی بات ایسی اگر ہوئی، کہ تمہارے جی کو بری لگی
تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

تشریح: اس شعر میں شاعر اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ بہت مرتبہ ایسا ہوا کہ میں نے کوئی ایسی بات کہہ ڈالی جو تمھارے دل اور طبیعت کو گراں گزری تھی مگر اس کو بیسن کرنے سے قبل ہی تم اس پہ بحث کرنا بھول جاتے تھے ممکن نہیں کہ تمھیں یہ سب کچھ یاد بھی ہوگا کہ نہیں ہے۔

ہوئے اتفاق سے گر بہم، تو وفا جتانے کو دم بہ دم
گلہ ملامت اقرباء تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

تشریح: شاعر کہتا ہے کہ کئی مرتبہ اگر کہیں اتفاق سے ہم دونوں ایک جگہ اکٹھے ہو جاتے تھے تو دونوں ایک دوسرے سے ہر گھڑی وفا جتانے کے لیے بے قرار رہتے تھےکہ کون کسے زیادہ خلوصِ دل سے چاہتا ہےاور اپنے رشتے داروں کی ڈانٹ ڈپٹ کا گلا بھی کیا کرتے تھے۔ مجھے تو سب یادہے، تمھیں چاہے یاد ہو یا نہ ہو۔

کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی ،کھبی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

اس شعر میں شاعر مومن کہتے ہیں کہ اے محبوب ایک وقت تھا جب میں تم سے اور تم مجھ سے محبت کرتے تھے اور ہمارے دل منزل دونوں کے راستے ایک جیسے تھے کبھی تو ہم دونوں ایک دوسرے سے شناسا تھے نجانے اب کیوں انجان بن چکے ہیں۔

جسے آپ گنتے تھے آشنا، جسے آپ کہتے تھے باوفا
میں وہی ہوں مومن مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

یہ شعر غزل کے مقطعے کا شعر ہے اس میں شاعر اپنے محبوب کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اے محبوب آپ کو یاد ہو چاہے نہ ہو مگر میں مومن وہی تمھارا عاشق ہوں جسے کبھی تم اپنا آشنا یا واقف کار کہتے تھے اور باوفا، دل کے قریب سمجھتے تھے۔ممکن ہے اب یہ سب تمھیں یاد بھی نہ ہو گا۔

۲ ۔ مشقی سوالات

سوال نمبر:1 درج ذیل اشعار کونثر میں لکھیے:

تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

جواب: ۱. شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب ہم نے تم کو پانے کے لئے کیا کیا جتن نہیں کیے ہیں۔ ہر طرح کی کوشش کی ہے لیکن تو کسی طرح بھی ہمارا نہیں ہو سکا۔ ورنہ اس مستحکم ارادے اور کوشش سے دنیا کا کون سا ایسا کام ہے جو ہو نہیں سکتا۔ گو یا سب کچھ ممکن ہے لیکن تم کو اپنا بنانا ممکن نہیں ہے۔

نئے گلے، وہ شکایتیں، وہ مزے مزے کی حکایتیں
وہ بیان شوق کا برملا، تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

اے محبوب وہ ہم دونوں میں شکوے شکائیتیں، وہ مزے دار باتیں اور پھر وہ بات بات پر تمھارا روٹھ جانا اور میرا منانا تمہیں چاہے یاد ہو یا نہ ہوں مگر مجھے سب یاد ہے۔

سوال نمبر:۲ صنعت تجنیسں، یہ ایک لفظی صنعت ہے۔ جس میں کسی شعر میں ایک سے خطی یا صوتی ملے جلتے مگر مختلف المعانی الفاظ لائے جاتے ہیں۔ اس سے شعر میں ایک خاص آہنگ پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً

اُس نے کیا جانے کیا کیا لے کر
دل کسی کام کا نہیں ہوتا

اس شعر میں” کیا” اور” کیا “میں تجنیس ہے۔ اب تک کی غزلوں سے مزید ایسے اشعار تلاش کیجئے ۔ جن میں صنعت تجنیس ہو۔

جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

سوال نمبر ۳ مومن خان مومن کے حالات زندگی قلمبند کیجیے۔

حکیم مومن خان مومن حکیم غلام نبی کا شمیری کے بیٹے تھے اور ان کے خاندان کا تعلق ضلع پلوامہ کشمیر کے ایک گاؤں پنگن سے تھا۔ اُن کے والد سلطنت مغلیہ کے آخری ایام میں شاہی طبیب تھے۔ مومن خان مومن ۱۸۰۰ء میں دلی میں پیدا ہوئے ۔ حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی نے آپ کے کان میں اذان دی اور مومن نام رکھا، گھر والوںکو یہ نام پسند نہ آیا۔ انھوں نے حبیب نام رکھا۔ آخر مومن ہی کے نام سے مشہور ہوئے اور یہی تخلص اختیار کیا۔

مغلیہ سلطنت کی جانب سے ان کے والد کو جاگیر عطا ہوئی تھی جو انگریزوں نے ضبط کر لی۔ اس کے عوض پینشن دی جانے لگی، جو بعد میں مومن کو بھی ملتی رہیں۔

مومن نے عربی اور فارسی کی اعلی تعلیم حاصل کی۔ طب کے علاوہ علم نجوم کا شوق پیدا ہوا اور اس فن میں کمال حاصل کیا۔ شطرنج کے کھلاڑی بھی تھے۔ شعر وشاعری کا شوق قدرت کی طرف سے عنایت ہوا تھا، جس کو عشق مجازی نے اور بھی جھکا دیا۔پہلے اپنا کام شاہ نصیر دہلوی کودکھانے لگے۔ لیکن پھر ان سے اصلاح لینا چھوڑ دی۔ ۵۲ سال کی عمر میں ۱۸۵۲ء میں انتقال کر گئے۔ اُن کی ہدایت کے مطابق انہیں شاہ ولی اللہ کے مزار کے احاطے کے باہر دیوارسے متصل دفن کیا گیا۔

سو ال نمبر ۴۔ مومن کے شعری محاسن بیان کیجیے۔

حکیم مومن خاں مومن کو تاریخ گوئی میں کمال حاصل تھا۔ اُن کے کلام میں خیالات کی پیچیدگی اور بندشوں کی چست اور ادارتی بدمزگی پیدا کرتی ہے۔اکثرشعر میں ابہام پایا جاتاہے اوراکثر اشعار بہت مشکل ہیں۔ وہ اشاروں سے زیادہ کام لیتے ہیں۔ معاملہ بندی ان کا خاص میدان ہے۔ رنگ تغزل خوب ہے۔ مومن نے اپنے اشعار میں ایک اچھوتے انداز کی بنیادڈالی۔

وہ ایک خاص انداز سے اپنی بات بیاں کرتے ہے۔ حُسن وعشق اُن کی شاعری کا محور ہے۔ جس سے کلام میں رنگ تغزل پیدا ہو گیا ہے جس سے ایک شگفتگی کا احساس ہوتا ہے۔ مومن نے اپنی غزل کا دائرہ محدود کردیا اور اس محدود دائرے میں جدتیں پیدا کیں، ان کی تشبیہات اور استعارات اُن کی سلیقہ مندی کی گواہ ہیں۔

مومن نے زبان و بیان اور الفاظ کے استعمال کو بھی ایک فن لطیف بنا دیا ہے۔ انھوں نے سیدھے سادے انداز میں عام بول چال کی زبان استعمال کی ہے۔ ان کی زبان میں سادگی کا سن اور فطری روانی ہے۔ اُن کی غزلیں ایک مصورانہ شان بھی رکھتی ہیں۔ نازک خیالی معنی آفرینی لب ولہجہ کا بانکپن اور شوخی ادانے مل کر ایسا حسین ولطیف امتزاج پیدا کیا ہے کہ یہ غزلیں شاہکار بن گئی ہیں۔

مومن خوددار تھے۔ انھوں نے کبھی کسی کے سامنے دست سوال در ا نہی کیا اور نہ کبھی کسی کی خوشامد کی۔البته بزرگان دین کی مدح میں قصیدے کہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے مثنویاں بھی لکھیں۔ لیکن اُن کی شہرت کا باعث اُن کی غزلیں ہیں۔ انھوں نے غزل کی روایت کو ایک نئے رنگ و آہنگ سے آشنا کیا اور اس میں ایک نئی زندگی پیدا کی۔

مختصر جواب طلب سوالات

مومن کی غزلوں کی نمائندہ خصوصیات لکھیے۔

حسن وعشق کے مضامین کا بیان، نازک خیالی ، مضمون آفرینی ، انتخاب الفاظ ، مترنم بحریں وغیرہ مومن کی غزل گوئی کی نمائندہ خصوصیات تھیں۔

مومن کے مزاج کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

مومن فطرتاً عاشق مزاج شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ رنگین مزاج اور خوش لباس شاعر تھا۔

نہایت مختصر جواب طلب سوالات۔

مومن کہاں پیدا ہوئے؟

مومن دلی میں پیدا ہوئے۔

مومن کے والد کا نام کیا تھا؟

مومن کے والد کا نام غلام نبی کاشمیری تھا۔

مومن کو شاعری کے علاوہ کسی چیز میں کمال حاصل تھا ؟

مومن کوشاعری کے علاوہ علمِ نجوم کا شوق تھا۔

مومن کی شاعری میں کون سارنگ غالب نظر آتا ہے؟

مومن کی شاعری میں عشقِ مجازی کا رنگ غالب تھا۔

مومن کا سن پیدائش اور وفات لکھیے۔

مومن خان مومن 1800ء میں پیدا ہوئے اور ان کا سنِ وفات 1852ء ہے۔