Back to: 12th Class Urdu Notes JKBOSE | Chapterwise Notes
کتاب”بہارستانِ اردو” برائے بارہویں جماعت
سبق نمبر04: انشائیہ
مصنف کا نام: سر سید احمد خان
سبق کا نام: گزرا ہوا زمانہ
مشق:
(الف) سرسید احمد خان کی علمی اور اصلاحی خدمات کے بارے میں مضمون لکھیے۔
سرسید احمد خان کا شمار انیسویں صدی کے بڑے بڑے رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ جنھوں نے اپنی مسلسل کوششوں سے ہندوستانیوں اور خاص طور پر ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی میں ایک نہ صرف الگ خوشگوار تبدیلی رونما کی بلکہ سرسید احمد خان ہی کی بدولت مسلمان قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہوئی۔
سر سید احمد خان نے جب ہندوستان کے مسلمانوں کو جگانے کا بیڑہ اٹھایا اس وقت تک یہ م قوم سستی کاہلی اور بے علمی کی بیماری میں مبتلا ہو کر تباہی کے گڑھے میں جا گری تھی ۔ سرسید احمد خان نے ان کو جدید تعلیم کی جانب راغب کرنا چاہا تو ان کی اس جہدو جہد عمل پر پوری قوم کمر بستہ ہوئی۔ سرسید نے قوم کے سامنے علی گڑھ کی تح کا آغاز کرکے اس کام کی بنیاد ڈالی۔
اس تحریک میں آپ کے ساتھ قوم کے بہترین دماغ اور قابل ترین فرزندوں ، نذیر احمد،حالی شبلی ، ز کا اللہ وغیرہ سب نے سرسید کا ساتھ دیا۔ اس عمل نے قوم کے اندر ایک نئی زندگی پیدا کی۔سر سید نے علی گڑھ مدرسے کی بنیاد ڈالی جو بعد ازاں علی گڑھ سکول کالج اور پھر یونیورسٹی کے درجے تک پہنچا اور اس ادارے سے کئی قابل لوگ فارغ التحصیل ہونے کے بعد اہم عہدوں پر فائز ہوئے۔
علمی میدان کے ساتھ ساتھ سرسید احمد نے ادبی میدان میں بھی قوم کے لیےگراں قدر خدمات سر انجام دیں۔انہوں نے ادب کی افادیت اور مقصدیت پر زور دیا ۔اردو نثر کے عیب انہوں نے گن گن کر جتائے مبالغہ آرائی تضع، اور قافیہ پیمائی اردو نثر کے وہ عیب تھے جن سے سرسید کو نفرت تھی۔ ان کی خوائش تھی کہ اردونثر میں وہ صلاحت پیدا ہو جائے کہ کام کی بات سیدھے سادے لفظوں میں ادا کی جا سکے تا کہ بات مصنف کے دل سے نکلے اور قاری کے دل میں بیٹھ جائے وہ خود ایک نثر نگار تھے انہوں نے ایسا کر کے دکھایا۔
ان کی رہنمائی اور تربیت سے بہت سے ایسے ادیب پیدا ہو گئے جو سرسیدکی طرح وضاحت صراحت اور قطعیت کے ساتھ اظہار خیال پر قدرت رکھتے تھے۔انھوں نے ” خطبات احمد یہ ” ” آثار الصنادید تاریخ سرکشی بجنور ،”جام جم” (فارسی) ، ”انتخاب الاخوین” ،”جلاء القلوب بذکر المحبوب” ، ”تحفۃ حسن”، ”فوائد الافکار”، ”کلمۃ الحق” ، ”راہ سنت و رد بدعت”، ”ضیقہ” ، ”کیمیائے سعادت”، اورآئین اکبر کی تصحیح” وغیرہ جیسی کتابیں لکھیں ہیں۔
سرسید کا اہم کارنامہ رسالہ ”تہذیب الاخلاق“ کی اشاعت ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے رسالہ ”اسباب بغاوت ہند” اور ”رسالہ لائل محمڈنز آف انڈیا” ”تاریخ فیرزو شاہی” ”تبین الکلام” ، ”سائنسٹی فک سوسائٹی اخبار” (جو بعد میں ”علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ” ہوگیا) اور ”رسالہ احکام طعام اہل کتاب” وغیرہ بھی لکھیں۔ایک سفر نامہ ”سفرنامہ لندن”، کے نام سے بھی ترتیب دیا۔
سر سید احمد خان کا یہ گراں قدر ادبی سرمایہ قوم کےلیےایک بہت بڑا ذخیرہ تھا۔اس کے ساتھ ساتھ سر سید احمد خان ہر قدم پر قوم کی اصلاح کے لیے کوشاں رہے انھیں ہندو سیاست سے دور رہنے کا درس دیا اور قوم کو جدید علوم سیکھنے پر راغب کیا تا کہ وہ انگریزی حکومت کے ذریعے اعلیٰ عہدے پاکر ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھ سکیں۔
(ب) گزرا ہوا زمانہ پڑھ کر بتائیے کہ سرسید احمد خان نے کیا پیغام دیا ہے؟
اس کہانی میں سر سید احمد خان نے یہ پیغام دیا ہے کہ اے میرے پیارے نوجوان ہم وطنو اور اے میری قوم کے بچو! اپنی قوم کی بھلائی کی کوشش کرو تا کہ اخیر وقت میں اس بڈھے کی طرح نہ پچھتاؤ۔ ہمارا زمانہ تو خیر ہے اب خدا سے یہ دعا ہے کہ کوئی نوجوان اُٹھے اور اپنی قوم کی بھلائی کی کوشش کرے۔
(ج) سیاق و سباق اور مصنف کا حوالہ دے کر مندرجہ ذیل اقتباس کا ما حصل لکھیے۔
تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ اُس کے کانوں میں میٹھی میٹھی باتوں کی آوازیں آنے لگیں۔ اُس کی پیاری ماں اُس کے پاس آکر کھڑی ہو گئی ۔ اس کو گلے لگا کر اُس کی بلائیں لیں ، اُس کا باپ اُس کو دکھائی دیا، چھوٹے بھائی بہن اُس کے گرد آ کھڑے ہوئے ، اماں نے کہا: ” بیٹا کیوں برس کے برس دن روتا ہے کیوں تو بیقرار ہے، کیوں تیری ہچکی بندھ گئی ہے۔ اُٹھ منہ ہاتھ دھو، کپڑے پہن ، نو روز کی خوشی منا۔
سیاق و سباق:
یہ اقتباس سبق کے آخر سے لیا گیا ہے۔جس سے قبل سبق میں مصنف نے اپنی زندگی کے تین ادوار لڑکپن ، جوانی اور ادھیڑ پن کے مراحل کو بیان کیا ہے اور ان تمام ادوار کے اچھے اور برے دنوں کو یاد کرتا ہے۔ان ادوار میں کیے گئے اپنے اعمال کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے۔
محاصل:
اس اقتباس میں مصنف کو اس کے تمام عزیز رشتے آکر ملتے ہیں اس کے والدین ،بہن بھائی سب اس کے ساتھ موجود ہیں اور اس کی ماں اسے افسردہ ہونے کی بجائے خوشی منانے کی تلقین کرتی ہے۔
عبارت:
دوست آشنا غمگین کھڑے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب ہم کیا کر سکتے ہیں۔ہائے میں دس ہزار دینار دیتا اگر وقت پھر ہاتھ آتا اور میں جوان ہو سکتا۔
سیاق و سباق:
یہ عبارت اس سبق کے آخری حصے سے لی گئی ہے جس سے قبل مصنف نے اپنی زندگی کے تین ادوار کو بیان کیا ہے اور اس دور پر افسردہ ہے جب وہ نیکیاں کمانے کےلیے بہت کچھ کر سکتا تھا مگر کر نہ پایا۔
محاصل:
اس اقتباس میں مصنف اپنی جوانی کے دن واپس لانے کا خواہاں ہے کہ کاش وہ دس ہزار دینار دے کر ہی سہی جوانی کا کھویا ہوا وقت واپس لا پاتا۔
عبارت:
دلہن غائب ہو گئی اور بڈھا اپنی جگہ آبیٹھا
سیاق وسباق:
یہ سطر اس سبق کے آخری حصے میں سے لی گئی ہے۔جس سے قبل مصنف نے اپنی زندگی کے تمام مراحل کو درجہ بدرجہ بیان کیا ہے اور جس دور میں وہ کچھ اچھا نہ کر پایا اس دور میں وقت کے زیاں کی بدولت افسردہ ہے۔
محاصل:
اس سطر میں مصنف نے نیکی کا درس دینے آنے والی دلہن کے غائب ہونے کی جانب اشارہ کیا جس کو نہ پا کر وہ اب اپنی جگہ پر ایستادہ تھا۔
سوال: بوڑھے نے اپنی گزری ہوئی زندگی کے مندرجہ ذیل ادوار کے بارے میں جو کچھ دیکھا اور یاد کیا وہ اپنے الفاظ میں تحریر کیجئے:
لڑکپن ، جوانی ، اُدھیڑ پن
لڑکپن:
لڑکپن وہ دور تھا جب اسے کسی طرح کا کوئی غم نہ تھااور کسی بات کی فکر اس کے دل میں موجود نہ تھی۔ گھر کے سب لوگ اسے پیار کرتے تھےاور ہر بات کا مان رکھا جاتا تھا۔ اسکول سے جلدی چھٹی ہونے پر خوشی ہوتی تھی ۔اسے ہم مکتب یاد آنے لگے جن کے بارے میں سوچ کر وہ اور زیادہ غمگین ہو جاتا ہے۔
جوانی:
اپنی جوانی کے زمانے کو وہ یوں یاد کرتا ہے کہ اس کا چہرہ سرخ و سفید تھا، بدن بھرا بھرا، آنکھیں رسیلی اور دل جذبات انسانی کے جوش سے بھرا ہوا تھا۔یہ وہ دور تھا جب وہ بڑھا پا آنے کا خیال بھی نہ کرتا تھا۔ ماں باپ یا بڑوں کی نصیحتوں پر یہ سوچ کر کان نہ دھر تا کہ ابھی بہت وقت باقی ہے۔
ادھیڑ پن:
جوانی کے زمانے کے بعداسے ادھیڑ پن یادآتا ہے جب اس نے تمام کام اور اعمال اپنے ذاتی غرض کے لئے کئے تھے بلکہ قوم کے بھلائی کے لئے کچھ نہ کیا تھا۔
مختصر جواب طلب سوالات:
سرسید احمد خان کے حالات زندگی لکھیے۔
سرسید احمد خان کا پورا نام سید احمد جبکہ سر ان کو بطور خطاب ملا تھا۔ 1817ءمیں دہلی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام میر تقی تھا جو کہ ایک درویش منش بزرگ تھے۔ سرسید کی پرورش میں ان کی والدہ عزیز النساء بیگم کا بڑا ہاتھ تھا۔ جنہوں نے سرسید کی تعلیم و تربیت اس زمانے کی ضروریات کے مطابق کی۔
1838ءمیں سرسید دہلی میں سرشتہ دار کے عہدہ پر مقرر ہوئے اس کے بعد منصفی کا امتحان پاس کرکے منصف ہوگئے۔ ۲۴۸۱ءمیں بہادر شاہ ظفر کی طرف سے ان کو جواد الدولہ عارف جنگ کا خطاب ملا۔
سرسید احمد خاں ایک مختلف الحیثیات شخص تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں سیاسی، تعلیمی، ادبی، تحقیقی اورمذہبی غرض ہر قسم کے علمی اور قومی مشاغل میں حصہ لیا۔ انہوں نے نہ صرف علمی میدان میں اپنا گہرا نقش بٹھایا بلکہ ہر جگہ دیرپا اثرات چھوڑے ۔ جہاں تک اردو زبان و ادب کا سوال ہے تو وہ اردو کے اولین معماروں میں تھے۔
تعلیمی معاملات میں ان کے خاص نظریات نے علی گڑھ تحریک کی صورت اختیار کی سرسید کا سب سے بڑا کارنامہ علی گڑھ کالج ہے۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد اُنھوں نے اس کالج کی ترقی کے لیے ہمہ تن ہو کر کام کیا ۔اور دینیات میں بھی انہوں نے فکر وتصور کے نئے راستے دریافت کئے۔ غرض علم و عمل کے تقریباً ہر شعبے میں ان کی عظیم شخصیت نے مستقل یادگار چھوڑی ہیں۔
سرسید کی ادبی خدمات لکھیے۔
سر سید احمد خان نے ” خطبات احمد یہ ” ” آثار الصنادید تاریخ سرکشی بجنور ،”جام جم” (فارسی) ، ”انتخاب الاخوین” ،”جلاء القلوب بذکر المحبوب” ، ”تحفۃ حسن”، ”فوائد الافکار”، ”کلمۃ الحق” ، ”راہ سنت و رد بدعت”، ”ضیقہ” ، ”کیمیائے سعادت”، اورآئین اکبر کی تصحیح” وغیرہ جیسی کتابیں لکھیں ہیں۔
سرسید کا اہم کارنامہ رسالہ تہذیب الاخلاق کی اشاعت ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے رسالہ ”اسباب بغاوت ہند” اور ”رسالہ لائل محمڈنز آف انڈیا” ”تاریخ فیرزو شاہی” ”تبین الکلام” ، ”سائنسٹی فک سوسائٹی اخبار” (جو بعد میں ”علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ” ہوگیا) اور ”رسالہ احکام طعام اہل کتاب” وغیرہ بھی لکھیں۔ایک سفر نامہ ”سفرنامہ لندن”، کے نام سے بھی ترتیب دیا۔
سرسید کی نثر نگاری کی خصوصیات لکھیے۔
سرسید کی عبارت عام طور سے تشبیہات و استعارات اور صنائع و بدائع سے پاک ہے۔ وہ جس بات کو لکھتے ہیں۔ اس کو دلیل سے مضبوط کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں اور مشکل سے مشکل مضمون کو نہایت آسانی کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ اُن کی تحریر میں سچائی کا خاص جو ہر ہے۔ الفاظ نہایت سیدھے سادھے اور روزمرہ کے ہیں، کہیں کہیں بذلہ سنجی اور شگفتگی بھی پائی جاتی ہے۔
وہ الفاظ کے ذریعے منظر اور موقع کی تصویر نہایت خوبی کے ساتھ کھینچتےہیں ۔ اتنا ضرور ہے کہ کہیں کہیں عبارت بے لطف و نا ہموار ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے جوش اصلاح اور اظہار خیال میں اتنے آزاد تھے کہ قواعد کی پابندی اپنے لیے زیادہ ضروری نہیں سمجھتے تھے جو لفظ اُن کے مفہوم کو پورا کرتا ہوا دکھائی دیتا تھا، اس کو فوراً استعمال کر جاتے تھے۔ اُن کی لکھی عبارت کہیں کہیں گلابی اُردو کا مزہ دے جاتی ہے، لیکن کچھ ثقیل محاورے بھی اُن کے ہاں در آئے ہیں۔
سرسید نے علمی میدان میں کیا کارنامے انجام دیئے۔
سر سید کے علمی میدان کی بات کی جائے تو علمی میدان میں اپنا گہرا نقش بٹھایا۔سر سید احمد خان نے علی گڑھ کالج اور سکول کی بنیاد ڈالی جو بعد ازاں علی گڑھ یونیورسٹی کے درجے تک پہنچی۔
درست جواب کا انتخاب کیجیے:
- علی گڑھ کالج قائم ہوا تھا :
- 1860ء میں
- ء میں1870
- ء میں✅1877
- سرسید احمد خان کا سن وفات ہے :
- ء1890
- ء1892
- ء✅1898
- ہچکی بندھ جانا سے مراد ہے:
- ٹال مٹول کرنا
- رونے کی وجہ سے سانس رک کر نکلنا ✅
- جان کئی کا وقت حیران ہونا