Advertisement

(راجہ رام چندر جی کا ماں سے رخصت ہونا)​

Advertisement

بند 1 :-

رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نام​
راہِ وفا کی منزلِ‌ اول ہوئی تمام​
منظور تھا جو ماں کی زیارت کا اہتمام
دامن سے اشک پوچھ کے دل سے کیا کلام​
اظہارِ بے کسی سے ستم ہوگا اور بھی​
دیکھا ہمیں اداس تو غم ہوگا اور بھی​

معانی:👈

  • رخصت : جانا
  • راہِ وفا : وفا کا راستہ
  • تمام : سب
  • اہتمام : انتظام کرنا
  • اشک : آنسو
  • کلام : گفتگو، بات
  • اظہار : ظاہر کرنا
  • بے کسی : مجبوری
  • ستم : ظلم

تشریح:- چکبست کہتے ہیں کہ خدا کا نام لیکر رام اپنے باپ سے رخصت ہوتے ہیں اور وفاداری کی پہلی منزل پا لیتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ ماں کا بھی دیدار کر لوں، مگر انہوں نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے یہ سوچا کہ اس طرح ماں سے ملنے پر ماں کو اور زیادہ غم ہوگا اس لیے ماں سے نہ ملا جائے۔

Advertisement

​بند 2 :-

دل کو سنبھالتا ہوا آخر وہ نونہال​
خاموش ماں کے پاس گیا صورتِ خیال​
دیکھا تو ایک در میں ہے بیٹھی وہ خستہ حال​
سکتہ سا ہو گیا ہے یہ ہے شدتِ ملال​
تن میں لہو کا نام نہیں زرد رنگ ہے​
گویا بشر نہیں کوئی تصویرِ سنگ ہے​۔

​معانی:👈

  • نونہال : کم عمر پچہ
  • صورتِ خیال : خیال کی طرح
  • در : دروازہ، دہلیز
  • خستہ حال : بگڑا ہوا حال
  • سکتہ : حیرت میں کھو جانا
  • شدتِ ملال : غم کی تیزی
  • زرد رنگ : پیلا رنگ
  • بشر : آدمی
  • تصویر سنگ : پتھر کی تصویر

تشریح:- چکبست کہتے ہیں کہ وہ بیٹا دل کو سنبھالتے ہوۓ اپنی ماں کے پاس چلا گیا۔ دیکھا کے ماں دروازے پہ چپ چاپ بیٹھی ہے۔ بیٹے کی سزا کی وجہ سے ماں پہ خاموشی چھا گئی ہے۔ اس کے بدن کا لہو سوکھ گیا ہے۔ چہرہ پیلا پڑ گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ انسان نہیں بلکہ کوئی پتھر کی مورت ہے۔

Advertisement

بند 3 :-

کیا جانے کس خیال میں گم تھی وہ بے گناہ​
نورِ نظر پہ دیدۂ حسرت سے کی نگاہ​
جنبش ہوئی لبوں کو بھری ایک سرد آہ​
لی گوشہ ہائے چشم سے آنکھوں نے رخ کی راہ​
چہرے کا رنگ حالتِ دل کھولنے لگا​
ہر موئے تن زباں کی طرح بولنے لگا​

معانی:👈

  • نورِ نظر : بیٹا
  • دیدۂ حسرت : حسرت بھری نگاہ
  • جنبش : ہلنا
  • لب : ہونٹ
  • سرد آہ : ٹھنڈی آہ
  • گوشہ ہاۓ چشم : آنکھ کی پتلیاں
  • رُخ : چہرہ
  • موۓ تن : بدن کا بال

تشریح:- چکبست کہتے ہیں کہ نہ جانے کس خیال میں وہ ماں کھوئی ہوئی تھی۔ اس ماں نے اپنے بیٹے پر حسرت بھری نگاہوں سے نظر ڈالی ۔ اس کے ہونٹ ہلنے لگے اور اور آہ بھرنے لگی۔ اور اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ اس کے دل کی حالت چہرے سے ظاہر ہو رہی تھی۔ اور بدن کا ہر بال لرز رہا تھا۔

بند 4 :-

رو کر کہا خموش کھڑے کیوں ہو میری جاں​
میں جانتی ہوں جس لیے آئے ہو تم یہاں​
سب کی خوشی یہی ہے تو صحرا کو ہو رواں​
لیکن میں اپنے منہ سے نہ ہرگز کہوں کی ہاں​
کس طرح بَن میں آنکھوں کے تارے کو بھیج دوں​
جوگی بنا کے راج دُلارے کو بھیج دوں​

معانی:👈

  • صحرا : ریگستان
  • رواں : چلتا ہوا
  • بن : جنگل
  • جوگی : دنیا چھوڑنے والا
  • راج دلارا : شہزادہ

تشریح:- چکبست کہتے ہیں کہ روتے ہوئے ماں نے کہا کہ اے میری جان کیوں خاموش ہو۔ مجھے معلوم ہے کہ تم میرے پاس کیوں آۓ ہو۔ سب یہی چاہتے ہیں کہ تم جنگل چلے جاؤ۔ مگر میں اپنے منھ سے جانے کی اجازت نہیں دوں گی۔ میں اپنی آنکھ کے تارے کو کیسے جنگل میں بھیج دوں، اپنے لاڈلے کو کیسے جوگی بنا دوں۔

Advertisement

​بند 5 :-

دنیا کا ہو گیا ہے یہ کیسا لہو سپید​
اندھا کیے ہوئے ہے زر و مال کی امید​
انجام کیا ہو کوئی نہیں جانتا یہ بھید​
سوچے بشر تو جسم ہو لرزاں مثالِ بید​
لکھی ہے کیا حیاتِ ابد ان کے واسطے
پھیلا رہے ہیں جال یہ کس دن کے واسطے​

تشریح :- راجا دشرتھ کی تین پتنیاں تھی کیکئی، سمترا اور کوشلیا۔ کیکئی کا ایک بیٹا تھا بھرت۔ اور کوشلیا کے تین بیٹے رام،لچھمن اور سترودھن۔
اور اس شعر میں بھرت جی کی ماں کیکئی کی طرف اشارہ ہے جو مال و زر اور تخت و تاج کے لیے اس قدر اندھی ہو گئی کہ اپنے بیٹے بھرت کے واسطےتخت و تاج حاصل کرنے کے لۓ جال بچھانے لگی اور ضد کرنے لگی۔ جن کی ضد سے مجبور ہو کر راجہ دسرت نے رام چندر جی کو بن باس کا حکم دیا تھا اور بھرت جی کو اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا۔​

بند 6 :-

لیتی کسی فقیر کے گھر میں اگر جنم​
ہوتے نہ میری جان کو سامان یہ بہم​
ڈستا نہ سانپ بن کے مجھے شوکت و حشم​
تم میرے لال تھے مجھے کس سلطنت سے کم​
میں خوش ہوں پھونک دے کوئی اس تخت و تاج کو​
تم ہی نہیں تو آگ لگادوں گی راج کو​

معانی:👈

  • جنم : پیدا
  • بہم : آپس
  • شوکت و حشم : شان، رتبہ
  • سلطنت : حکومت

تشریح :-رام جی کی ماں کہتی ہے کہ اگر میں کسی بھکاری کے گھر میں پیدا ہوتی تو یہ رنج و غم دیکھنے نہیں پڑتے۔ یہ شاہی شان و شوکت سانپ بن کر مجھے ڈستی نہیں۔ میرے لاڈلے تم ہی میری حکومت کی طرح ہو ۔ اگر کوئی یہ تخت و تاج جلا دے تو مجھے خوشی ہوگی۔ تمہارے بغیر میں اس حکومت کا کیا کروں گی۔

Advertisement

بند 7 :-

کن کن ریاضتوں سے گذارے ہیں ماہ و سال​
دیکھی تمہاری شکل جب اے میرے نونہال​
پورا ہوا جو بیاہ کا ارمان تھا کمال​
آفت یہ آئی مجھ پہ ہوئے جب سفید بال​
چھٹتی ہوں اُن سے جوگ لیا جن کے واسطے​
کیا سب کیا تھا میں نے اسی دن کے واسطے​

معانی:👈

  • ریاضتوں : بہت محنت
  • ماہ و سال : مہینے اور سال
  • نونہال : بیٹے
  • آفت : مصیبت
  • جوگ : دنیا چھوڑنا

تشریح :- میں نے کیسی کیسی محنت کرکے یہ سال گزارے ہیں۔ بیٹے جب تمہاری شکل دیکھی تو تمہارے بیاہ کا ارمان پورا ہوا۔ اور جب بڑھاپا آ گیا تو یہ آفت آ گئی۔ میں ان سے ہی دور ہو گئی جن کے لیے میں جوگن بنی تھی،کیا میں نے اس دن کے واسطے یہ سب کیا تھا۔

​بند 8 :-

سن کر زباں سے ماں کی یہ فریادِ دردخیز​
اُس خستہ جاں کے دل پہ چلی غم کی تیغِ تیز​
عالم یہ تھا قریب کہ آنکھیں ہوں اشک ریز​
لیکن ہزار ضبط سے رونے سے کی گریز​
سوچا یہی کہ جان سے بیکس گذر نہ جائے​
ناشاد ہم کو دیکھ کے ماں اور مر نہ جائے​
  • درد خیز : درد پیدا کرنے والا
  • خستہ جاں : خراب حال
  • تیغ تیز : تیز تلوار
  • اشک ریز : آنسو بہانا
  • ضبط : سہنا
  • گریز : پچنا
  • ناشاد : ناخوش

تشریح:- رام اپنی ماں کی یہ درد بھری باتیں سن کر بہت اداس ہو گۓ۔ اور ان آنکھیں نم ہو گئیں۔ آنسو ٹپکنے کو تھے کہ برداشت کرکے آنسو پی لیے۔ یہ سوچ کر کہ میری مجبور ماں کی جان نہ نکل جاۓ۔ اور مجھے اداس دیکھ ماں مر نہ جائے۔

Advertisement

بند 9 :-

پھر عرض کی یہ مادرِ ناشاد کے حضور​
مایوس کیوں ہیں آپ الم کا ہے کیوں وفور​
صدمہ یہ شاق عالمِ پیری میں ہے ضرور​
لیکن نہ دل سے کیجئے صبر و قرار دور​
شاید خزاں سے شکل عیاں ہو بہار کی​
کچھ مصلحت اِسی میں ہو پروردگار کی​

معانی:👈

  • مادر : ماں
  • ناشاد : نا خوش
  • الم : غم
  • وفور : بہت زیادہ
  • صدمہ : گہرا غم
  • شاق : ناگوار
  • عالم پیری : بڑھاپے کا وقت
  • خزاں : پت جھڑ
  • عیاں : سامنے
  • مصلحت : سمجھداری

​تشریح:- پھر رام نے اپنی اداس ماں سے کہا کہ آپ کیوں روتی ہیں۔ غم کی کیا بات ہے۔ یہ تو سچ ہے کہ بڑھاپے میں آپکو یہ صدمہ سہنا پڑ رہا ہے۔ لیکن آپ اپنے دل پر قابو رکھۓ، اسی خزاں (پت جھڑ) کے موسم سے بہار کے دن نکلیں گے اور یہی اللہ کی مرضی ہے۔

Advertisement

بند 10 :-​

دیکھے ہیں اس سے بڑھ کے زمانے نے انقلاب​
جن سے کہ بے گناہوں کی عمریں ہوئیں خراب​
سوزِ دروں سے قلب و جگر ہو گئے کباب​
پیری مِٹی کسی کی، کسی کا لٹا شباب​
کچھ بَن نہیں پڑا جو نصیبے بگڑ گئے​
وہ بجلیاں گریں کہ بھرے گھر اجڑ گئے​

معانی:👈

Advertisement

انقلاب: بہت بڑی تبدیلی
سوزِدروں : اندرونی جلن
قلب و جگر : دل اور جگر
پیری مٹی: بڑھاپا ختم ہونا
شباب : جوانی
نصیب : تقدیر

تشریح :- دنیا نے اس سے بڑھ کے بھی حالات دیکھیں ہیں۔ کتنے ہی بے گناہوں کی زندگیاں خراب ہوئی ہے۔ اندرونی غم سے دل و جگر تک خراب ہو گۓ ہیں۔ کسی کا بڑھاپا ختم ہو گیا اور کسی کی جوانی لٹ گئی۔ نصیب بگڑنے تھے بگڑ گۓ ہم سے کچھ نہ ہو سکا۔ دردوغم کی بجلیوں نے گھروں کو جلا کر خاک کر دیا۔

Advertisement
  • بند 11 :-

پڑتا ہے جس غریب پہ رنج و محن کا بار​
کرتا ہے اُس کو صبر عطا آپ کردگار​
مایوس ہو کے ہوتے ہیں انساں گناہ گار​
یہ جانتے نہیں وہ ہے دانائے روزگار​
انسان اُس کی راہ میں ثابت قدم رہے​
گردن وہی ہے امرِ رضا میں جو خم رہے​

معانی:👈

  • رنج و محن : غم اور تکلیف
  • کردگار : کرنے والا، خدا
  • داناۓ روزگار : زمانے کو جاننے والا
  • ثابت قدم : ڈٹے رہنا
  • خم : جھکنا

تشریح:- جس بدنصیب آدمی پر غم کا بوجھ پڑتا ہے اس کو پروردگار سہنے کی طاقت بھی دیتا ہے۔ آدمی مایوس ہوکر گناہ کرتا ہے، وہ یہ نہیں جانتا کہ خدا سب کی اصلیت جانتا ہے، آدمی کو چاہیے کہ وہ اللہ کی راہ میں ڈٹا رہے اور اس کی مرضی کے آگے اپنا سر جھکاتا رہے۔

Advertisement

​بند 12 :-

اور آپ کو تو کچھ بھی نہیں رنج کا مقام​
بعدِ سفر وطن میں ہم آئیں گے شادکام​
ہوتے ہیں بات کرتے ہیں چودہ برس تمام​
قائم امید ہی سے ہے دنیا ہے جس کا نام​
اور یوں کہیں بھی رنج و بلا سے مفر نہیں​
کیا ہوگا دو گھڑی میں کسی کو خبر نہیں​

معانی:👈

  • شاد کار : خوش کام
  • رنج و بلا : غم و آفت
  • مفر : دور

تشریح:- اے ماں آپ کو کس بات کا غم ہے۔ سفر کرکے خوشی_خوشی ہم اپنے گھر واپس آئیں گے۔ بات بات میں ہی چودہ برس پورے ہو جائیں گے۔ ہمیں امید کرنی چاہیے کہ دنیا امید پر قائم ہے۔ اور پھر دنیا میں کون ہے جو غم سے دور ہے۔

Advertisement

بند 13 :-

اپنی نگاہ ہے کرمِ کارساز پر​
صحرا چمن بنے گا وہ ہے مہرباں اگر​
جنگل ہو یا پہاڑ سفر ہو کہ ہو حضر​
رہتا نہیں وہ حال سے بندے کے بے خبر​
اُس کا کرم شریک اگر ہے تو غم نہیں​
دامانِ دشت دامنِ مادر سے کم نہیں​

معانی:👈

  • حضر : ٹھہرنا
  • دمانِ دشت : جنگل کا دامن
  • دامانِ مادر : ماں کا دامن

تشریح :- میری نگاہ تو اس کارساز مالک پر ہے، وہ جلدی ہی اپنے ویرانے کو چمن بنا دیگا۔ جنگل ہو، پہاڑ ہو، سفر ہو، کچھ بھی ہو وہ اپنے بندے سے کسی بھی حال میں بے خبر نہیں رہتا۔ اس کا کرم ہمیں ملتا رہے تو کچھ غم نہیں ہوگا۔ اور جنگل کا دامن میرے لیے ماں کا دامن بن جائے گا۔

سوالات و جوابات▪️

Advertisement

سوال 1 : رخصت کے کیا معنی ہیں؟

جواب : رخصت کے معنی ‘جانا’۔

Advertisement

سوال 2 : رام چندر جی کس کا نام لے کے اپنے والد سے رخصت ہوتے ہیں؟

جواب : خدا کا نام لیکر رخصت ہوتے ہیں۔

Advertisement

سوال 3 : نورِ نظر کسے کہتے ہیں؟

جواب : نظر کی روشنی (اولاد) کو کہتے ہیں۔

سوال 4 : لفظ 'عیاں' اور 'اہتمام' کا مترادف لکھۓ۔
  • جواب : لفظ : مترادف
  • عیاں : ظاہر، سامنے
  • اہتمام : انتظام،
تحریرمحمد طیب عزیز خان محمودی🔺
Advertisement

Advertisement

Advertisement