صحابہ اکرامؓ وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جو شافعِ محشر وجہہِ کائینات محبوبِ خدا  سرکارِ دوعالم تاجدارِ مدینہ سید النبیاء حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کے روئے انور کی زیارت سے مشرف ہوئے ہوں، آپﷺ کو براہِ راست دیکھا ہو اور صحابہ اکرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے اس خیر القرون(ﷺ) کی تجلیاتِ ایمانی کو اپنے  ایمان و عمل میں پوری طرح سمویا ہے۔

صحابی کا لغوی معنی :☜

صحابی کا مطلب ہے: دوست یا ساتھی۔

شرعی معنی :☜

اصطلاح شرع میں صحابی سے مُراد نبی کریمﷺ کا وہ ساتھی ہے جو آپ ﷺ پر ایمان لایا ہو، آپﷺ کی زیارت سے مشرف ہوا ہو اور ایمان کی حالت میں ہی اس دنیا سے رخصت ہوا ہو۔ صحابی کا لفظ نبی کریمﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ خاص ہے۔ انبیاء اکرام علیہ السلام کے بعد صحابہ اکرام کی مقدس جماعت جو تمام قیامت تک آنے والی تمام مخلوق سے اعلی و افضل ہے۔یہ عظمت و افضلیت صرف و صرف صحابہ اکرام رضی اللہ تعالی علیھم اجمین ہی کو حاصل ہے کہ اللہ رب العزت نے انہیں دنیا ہی میں مغفرت و جنت اور اپنی رضاء کی ضمانت دی ہے۔

محترم قاریئن:☜ انسان کی فطرت ہوتی ہیں کہ جب اسکا کسی سے تعلق ہوتا ہے۔تو اسکی اولاد اور متعلقین سے بھی قدرتی طور پر اُنسیت و محبت ہو جاتی ہے۔ اور اس کائنات میں ہمارے لئے اللہ رب العزت کے بعد سب سے بڑی محبوب و مکرم شخصیت سرورِ دوعالم سید کونین شافعئ محشر حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کی ہے۔ اور جس مسلمان کو بھی پیغمبر علیہ السلام سے محبت ہے اس کے دل میں حضورﷺ کی آل اولاد اور قریبی رفقاء اور صحابہؓ سے بھی ضرور محبت ہوگی۔اور اس اعتبار سے درجہ بدرجہ جو حضرات صحابہ اکرامؓ میں حضور کے قریب اور معتمد رہیں ہیں ان سب سے ہمیں تعلق اور محبت کا اظہار کرنا چاہیئے۔۔۔۔یہی دینی حمیت کا تقاضہ ہے۔

صحابہ اکرام رضی اللہ تعالی علیھم اجمعین سے نبی کریمﷺ نے احادیثِ مبارکہ میں جو انکی افضلیت بیان کی ہے۔اسکو تسلیم کرنا ایمان کا حصہ ہے۔بصورتِ دیگر ایمان ناقص ہے۔ صحابہ اکرام رضی اللہ تعالی علیھم اجمعین کے ایمان اور وفاء کا انداز اللہ رب العزت کو اس قدر پسند آیا کہ اسے تاقیامت ایمان لانے والے افراد کے لئے کسوٹی قرار دے دیا۔

صحابہ اکرام رضی اللہ تعالی علیھم اجمعین مین دس ایسے جلیل القدر  خوش قسمت صحابہ اکرام ہیں کہ جنکو نبی کریمﷺ نے دنیا ہی میں بطورِ خاص جنت کی بشارت دی ہے۔انہی صحابہ اکرام کو عشرۂ مشبرہ کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔سنن ابنِ ماجہ شریف میں ان صحابہ اکرامؓ کے اسماء درج ہیں۔

  • سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ
  • سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ
  • سیدنا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ
  • سیدنا حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ
  • سیدنا حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  • سیدنا حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ تعالی عنہ
  • سیدنا حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ
  • سیدنا حضرت ابو عبیدہ بن جرّاح رضی اللہ تعالی عنہ
  • سیدنا حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالی عنہ
  • سیدنا حضرت طلحہ بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ

صحابہ اکرامؓ کے مقام و مرتبہ کا اندازا ہم نبی کریمﷺ کے اس ارشادِ گرامی سے کر سکتے ہیں۔ 👇
"قَالَ رَسُوْلُ اللہٖ ﷺ لَاتَسُبُّوْا اَصْحَابِیْ فَلَوْ ٵَنَّ اَحَدُکُمْ ٵَنْفَقَ مِثْلَ اُحْدٍ ذَھَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ ٵَحَدِھِمْ وَلَا نَصِیْفَهٗ”﴿صحیح بخای رقم:٣٦٧٣﴾

ترجمہ:☜ میرے ساتھیوں کو برا بھلا مت کہو؛ اس لئے کہ تم میں سے کوئی شخص اگر احد پہاڑ کے برابر سونا بھی اللہ رب العزت کی راہ میں خرچ کرے تو وہ ان ساتھیوں کے ایک مٹھی یا آدھا مٹھی کے ثواب کے برابر بھی نہیں پہنچ  پائیگا۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ صحابہ اکرامؓ کی محبت ہمارے دلوں کی گیرائیوں میں ایسی پیوست ہو جائے اور یہ محبت تازندگی قائم رکھے اور آخرت میں ہمارا انہی کے ساتھ حشر فرمائے اور انکے طریقوں پر چلنا ہمارے لئے آسان فرمائے۔ آمین۔

نیچے ہم آپ قاریئن حضرات کی خدمت میں صحابہ اکرام رضی اللہ تعالی علیھم اجمعین کے ایمان افروز تذکرے سوانح حیات کے حوالے سے قرآن و حدیث اور تاریخ اسلام کی روشنی میں پیش ہیں۔

Advertisements