تعارفِ مصنف:

میرامّن دہلی میں 1748 کے لگ بھگ پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان شہنشاہ ہمایوں کے زمانے سے عالمگیر ثانی کے عہد تک منصب داروں میں شامل رہا ہے۔ ان کے پاس اچھی خاصی جاگیر تھی مگر سورج مل جاٹ نے ان کی جاگیر چھین لی، ادھر احمد شاہ درّانی نے اس طرح تباہی مچائی کہ سب کچھ تاراج ہو گیا۔

میر امّن پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ وہ کسی طرح عظیم آباد (پٹنہ) پہنچے۔ وہاں کچھ برس قیام کیا مگر وہاں بھی حالات نے ساتھ نہیں دیا۔ مجبوراً کلکتہ کا سفر کرنا پڑا۔ وہاں بھی کچھ دن بیکاری میں گزارے۔ اس کے بعد نواب دلاور جنگ نے اپنے چھوٹے بھائی میر کاظم خاں کی اتالیقی پر مامور کر دیا۔ یہاں بھی دو سال کے بعد طبیعت اچاٹ ہو گئی۔

یہاں کے بعد میر بہادر علی حسینی کے توسط سے جان گل کرسٹ سے شناسائی ہوئی اور میرامن فورٹ ولیم کالج میں ملازم ہو گئے۔ جہاں 4 جون 1806 تک تصنیف و تالیف کا کام کرتے رہے۔

میرامّن کے سوانحی حالات تذکروں میں نہیں ملتے۔ اس لیے ان کی تاریخ پیدایش کے بارے میں قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ دیگر احوال بھی نہیں ملتے۔ کہا جاتا ہے کہ 1806 میں میر امّن کا انتقال ہوا۔ میر امن کو ترجمہ و تالیف کے کام میں اگرچہ”باغ وبہار” سے بے پناہ شہرت ملی مگر ’باغ وبہار‘ کے علاوہ ’گنج خوبی‘ بھی میرامّن کی ترجمہ کی ہوئی کتاب ہے۔ ملا حسین واعظ کاشفی کی ’اخلاق محسنی‘ کا یہ ترجمہ ہے مگر اسے ’باغ و بہار‘ جیسی مقبولیت نصیب نہیں ہوئی۔

باغ و بہار بھی اگرچہ ترجمہ شدہ کتاب ہے جس میں میرامّن نے ترجمہ میں عربی، فارسی سے گریز کر کے ہندوی کا استعمال کیا ہے بلکہ دلّی کی زبان استعمال کی ہے اور مروجہ قواعد سے بھی انحراف کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین نے باغ و بہار میں قواعد کی غلطیاں بھی نکالی ہیں اور یہ لکھا ہے کہ اس میں واحد جمع اور تذکیر و تانیث کا بھی خیال نہیں رکھا گیا ہے۔ اس کے باوجود باغ و بہار کی نثر بے مثال اور بے نظیر ہے۔

داستان باغ و بہار کا خلاصہ

فورٹ ولیم کالج سے وابستہ ہونے کے بعد میرامّن کو پہلا کام ترجمہ نگاری کا ملا۔ یہ ترجمہ قصہ ’چہار درویش‘ کا اردو ترجمہ تھا۔ میر امن نے جان گل کرسٹ کی ہدایت کے مطابق ٹھیٹھ ہندوستانی گفتگو میں اس کتاب کا ترجمہ کیا اور اتنا عمدہ ترجمہ کیا کہ کالج کی طرف سے اس پر 500 روپیہ کا انعام دیا گیا۔

انہوں نے عطا حسین خان تحسین کے ’نو طرز مرصع‘ کو سامنے ضرور رکھا مگر اپنے طور پر اتنی تبدیلیاں کر دیں کہ اصل کتاب گم ہو گئی۔اس کتاب کے مرکزی قصے کو دیکھا جائے تو ’باغ و بہار‘ میں چار درویشوں کی سرگزشت ہے۔یہ داستاں بادشاہ آزادبخت اور دوسرے چار درویشوں کی کہانی ہے جو اتفاقاً ایک قبرستان میں جمع ہوجاتے ہیں اور سب ایک دوسرے کواپنی مشکلات کی کہانی سناتے ہیں۔

آزاد بخت اس کا مرکزی کردار ہے۔آزاد بخت روم کی سلطنت کا تنہا وارث ہے۔ اسے دنیا کی ہر آسائش اور سہولت میسر ہے، وہ نیک ہے، عبادت گزار ہے اور سخی ہے۔ ان سب کے باوجود وہ اولاد کی نعمت سے محروم ہونے کی وجہ سے اکثر پریشان رہتا ہے۔ اور چالیس سال کی عمر تک پہنچ کر وہ اقتدار و اختیار سے لا تعلق ہو کر گوشہ نشینی اختیار کر لیتا ہے اور اولاد کے لیے جب وہ کسی خانقاہ میں جاتا ہے تو وہاں اُس کی ملاقات درویشوں سے ہوتی ہے جو باری باری ان کو اپنی کہانی سناتے ہیں۔

کہانی کے پہلے درویش کا قصہ کچھ یوں ہے کہ پہلا درویش یمن کے ملک التجار خواجہ احمد کا بیٹا تھا۔ چودہ سال کی عمر میں یتیم ہو گیا۔پھر اپنی نادانیوں کی وجہ سے اپنی دولت سے ہاتھ دھو بیٹھا اورساتھ ہی اس کے دل سے احساس خودی اور اعتماد عمل جاتا رہتا ہے اور اپنی بہن کے ٹکڑوں پر پلتا ہے۔ لوگوں کی غیرت دلانے پر وہ دمشق روانہ ہوتا ہے، وہاں اسے ایک زخمی شہزادی ملتی ہے جس کا علاج وہ بڑی محنت سے کرتا ہے اور اس کا ہر حکم بجا لاتا ہے لیکن شہزادی اس کی پروا نہیں کرتی مگر وہ خوشامد کرتا رہتا ہے۔

دراصل خوشامد اس کی عادت بن چکی ہے۔ اس کے عشق میں چھچھورا پن ہے۔ اس کے علاوہ درویش مستقل مزاجی کی صفت سے بھی محروم ہے اس لیے یوسف سوداگر سے بہت جلد متاثر ہو جاتا ہے۔

جبکہ دوسرا دویش فارس کا شہزادہ ہے، چودہ سال کی عمر میں حاتم طائی اس کا اسوہ بن جاتا ہے اور وہ زندہ جاوید رہنے کے لیے حاتم طائی کی پیروی شروع کر دیتا ہے۔ شہزادہ مذہبی ذہن رکھتا ہے اور سخاوت اس کے نزدیک روحانی ترقی کا ذریعہ تھی۔ جب وہ ایک فقیر کے منھ سے بصرے کی شہزادی کا ذکر سنتا ہے تو بصرہ روانہ ہو جاتا ہے اور جب شہزادی کو دیکھ لیتا ہے تو اسے اپنا دل دے بیٹھتا ہے۔

لیکن یہ شہزادہ دوسرے شہزادوں کے مقابلے میں اتنا خوشامدی نہیں اور وہ شہزادی کی خطرناک شرط کو بھی فوراً قبول کر لیتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بہادر، عالی ہمت اور مہم جوئی سے نہیں گھبراتا۔ شہزادہ نیم روز کا راز معلوم کرنے کے بعد اس کے درد کا درماں ڈھونڈنے نکل پڑتا ہے۔

تیسرا درویش ملک [عجم] کا شہزادہ ہے۔ یہ اپنے والدین کی اکلوتی اور لاڈلی اولاد ہے۔ عاشق زار ہے اور عشق کا زخم خوردہ ہے۔ دوسرے درویشوں کی طرح یہ بھی خوشامدی ہے۔ کہیں کہیں جرات اور ذہانت کا مظاہرہ بھی کرتا ہے مگر عشق کے میدان میں کوئی معرکہ سر کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا ہے۔ اکیلا ہرن کا پیچھا کرتا ہے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ ایک مہم جو اور نڈر اور پر اعتماد نوجوان ہے۔

اس کے علاوہ درویش سے جس طرح وہ فرنگ کی شہزادی کا حال معلوم کرتا ہے وہ درویش کی متجسّس طبیعت کی عکاسی کرتا ہے۔ شہزادی اور اور بہزاد خان جب ڈوبنے لگتے ہیں تو وہ انھیں کنارے پر کھڑا دیکھتا رہتا ہے۔ اس لیے درویش عشق کے معاملے میں پھسڈی ہے۔ اس کی محبت میں کوئی وقار نہیں۔

باغ و بہار کا چوتھا درویش چین کے بادشاہ کا ولی عہد ہے۔ ناز سے پرورش پائی اور اچھی تربیت ہوئی۔ لیکن بیگمات اور خواصوں کی صحبت میں رہنے کی وجہ سے عقل و شعور سے عاری ہے اور بے باکی اور جوانمردی نام کی کوئی شے اس کے اندر نہیں ملتی۔ بلکہ کم ظرفی اور بے وقوفی کے آثار نمایاں ہیں۔ عملی دنیا سے زیادہ خیالی دنیا کا باسی ہے۔

مبارک نامی حبشی غلام پر اسے بے حد اعتبار ہے۔ ہر کڑے وقت اور مشکل مرحلے پر شہزادہ کسی جرات یا استقلال کا مظاہرہ کرنے کی بجائے مبارک حبشی سے رجوع کرتا ہے۔شہزادہ شکی مزاج بھی ہے اور اپنے جاں نثار غلام پر بھی شک کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ شہزادے کی عاقبت نا اندیشی اس وقت انتہا کو پہنچ جاتی ہے جب وہ ملک صادق جیسے طاقتور جن اور اپنے باپ کے مخلص دوست کے ساتھ جنگ کرنےکے بعدشکست سے دوچار ہوتا ہے۔

مختصر یہ کہ چوتھے درویش کی نکیل مبارک حبشی کے ہاتھ میں ہے جو اس کا عقل کل ہے اور جو اس کا واحد سایہ اور سہارا ہے۔

چاروں درویشوں کے ساتھ ساتھ اس قصے میں ایک اہم کردارخواجہ سگ پرست کا بھی شامل ہے۔یہ کردار بہت شریف اور بے وقوف ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں دنیا داری اور عقل بالکل نہیں ہے۔ اپنے بھائیوں سے دغا پر دغا کھاتا ہے مگر پھر بھی انہیں اپنا خیر خواہ سمجھتا ہے۔ اس کے بھائی شیطان صفت ہیں۔ اپنے بھائیوں سے دھوکا کھانے کے باوجود بار بار نیکی کرنا اس کی نیکی و شرافت اور برداشت کی نشانی ہے۔ بھائیوں سے شدید محبت ہے لیکن جب وہ بدلہ لینے پر آتا ہے تو ایسی سزا دیتا ہے جو کسی نے نہ دیکھی اور نہ سنی۔

اس کے ساتھ ساتھ قصے کے چار درویشوں کی مانند خواجہ سگ پرست خوشامدی بھی ہے کہ وہ سراندیپ کی شہزادی کے سامنے خوشامد کرتا اور گڑگڑاتا ہے۔ دوسرے درویشوں کی طرح جنس اس کی سب سے بڑی کمزوری ہے اس لیے بوڑھا ہونے کے باوجود کم سن شہزادی سے شادی کے لیے بے تاب ہے۔ لیکن دیکھا جائے اپنی بہت سی خامیوں کے باوجود چاروں درویشوں سے یہ کردار مختلف اور منفرد ہے۔آخر میں مولا مشکل کشا کی مدد سے ان کی مشکلات ختم ہو جاتی ہیں اور یوں اس داستان کا اختتام ہو جاتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ کردار ہی مل کر اس قصے کو دلچسپ بناتے ہیں۔