ولادت باسعادت :☜

سیدنا حضرت امام حسینؓ کی ولادت باسعادت ہجرت کے چوتھے سال 6 شعبان المعظم کو ہوئی۔ولادت کے بعد آپ ایک سفید کپڑے میں لپیٹ کر نبی کریمﷺ کی خدمت اقدس میں پیش کیے گئے۔نبی کریمﷺ نے آپکے دایئں کان میں اذان اور بایئں کان میں اقامت فرمائی۔ تحنیک کا عمل فرمایا۔لعاب دہن منھ میں ڈالا اور برکت کی دعا فرمائی، سر پر زعفران مل کر انکی والدہ سیدہ فاطمہ زہراؓ کے سپرد کیا۔ ساتویں روز بال منڈوا کر انکے ہم وزن چاندی صدقہ کی، نام رکھا اور عقیقہ میں دو مینٹڈھے ذبح کیے۔ایک ران دایہ کو دی۔اور اسکے بعد ختنہ کیا گیا۔

حضرت حسینؓ کا حلئہ مبارک:☜

آپ حضرت حسینؓ کا قد درمیانہ تھا۔نہ انتہائی طول اور بہت کوتاہ،  پیشانی کشادہ ، سینہ فراخ، تھا، مونڈھوں کے درمیان قدرے فاصلہ تھا۔ہڈیاں بڑی اور مضبوط تھیں۔ہتھیلیاں اور تلوے قدرے کشادہ تھیں۔جسم گٹھا ہوا اور انتہائی خوبصورت تھا۔خوبصورتی کے ساتھ حسنِ صوت کے بھی مالک تھے۔آواز میں سوز اور ترنم تھا۔داڑھی مبارک پر وسمہ لگاتے تھے۔(وسمہ ایک بوٹی ہے جس کے پتے مہندی کی جگہ استعمال ہوتے ہیں)

رسولﷺ کے ساتھ مشابہت:☜

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت حسینؓ کا جسم نبی کریمﷺ کے جسد اطہر سے بہت مشابہ تھا۔ (طبرانی)

سیدنا حسینؓ کا لباس:☜

سیدنا حسینؓ اپنے لباس میں درج ذیل اشیاء استعمال فرماتے تھے۔
قمیص ، عمدہ پوشاک، شلوار ، ٹوپی ، عمامہ ، لنگی، اوپر اوڑھی جانے والی چادر ، جوتے، بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ بالخصوص رمضان المبارک میں انگوٹھی کے نگینے پر اللہ کا ذکر  اللہ بالغ امرہ” کے الفاظ کندہ تھے۔ایک تلوار اور زرہ بھی آپکے پاس تھی۔

سیدنا حسینؓ کی نشونما اور تربیت:☜

سیدنا حسینؓ کی پرورش و نشونما مدنی معاشرے میں ہوئی۔جہاں آقائے نامدار ﷺ نے ہجرت فرمائی تھی۔اور ان نفوس قدسیہ کی صحبت میسر آئی جو انبیاء کے بعد کائینات کے افضل ترین انسان تھے۔ ایمانی دعوت اور قرانی انوارات سے معمور شفقت بھرا ماحول نصیب ہوا۔آپﷺ کی محبت و شفقت دلگی اور پیار کا وافر حصہ ملا۔ کبھی آپﷺ کی پیٹھ پر سوار ہوئے کبھی گردن مبارک پر ، اور ان سب پر مستزاد یہ کہ مسجد نبویﷺ اور دعوت ایمان کا ماحول ، اسلامی جہاد کی فضاء اور سیدنا علی المرتضٰی اور آپکی زوجہ محترمہ بنت رسول سیدہ فاطمہ الزہرہؓ کا سائہ عاطفت ملا۔ ابیاتِ رسول ﷺ میں ازواجِ رسولﷺ کے یہاں بھی کثرت سے آمد و رفت ہوئی۔ چشمئہ نبوت سے سیرابی حاصل ہوئی۔یہ تمام مراحل آپﷺ کی نگہداشت و نگرانی میں طے ہوئے۔

سیدنا حسینؓ آپﷺ اور حضرت جبریئل علیہ السلام کی ہم نشیبی کا شرف:☜

علی بن حسین بن واقد فرماتے ہیں کہ میرے والد نے بیان فرمایا انہیں ابو غالب نے اور انہوں نے حضرت ابو امامہؓ سے نقل کیا کہ وہ فرماتے ہیں  نبی کریمﷺ نے اپنی ازواجِ مطہرات سے یہ فرما رکھا تھا کہ انہیں یعنی سیدنا حسینؓ کو کسی بات پر رلانا مت۔چناچہ ایک مرتبہ آپﷺ سیدہ ام سلمہؓ کے یہاں تشریف فرما تھے۔اور جبرئیل امین تشریف فرما ہوئے تو آپ ﷺ نے سیدہ ام سلمہؓ سے فرمایا کہ کسی کو اندر آنے مت دینا۔اتنے میں حضرت حسین آئے اور دروازہ بند دیکھ کر رونے لگے۔

حضرت ام سلمہؓ نے فورًا دروازہ کھول دیا۔حضرت حسینؓ آئے اور نبی کریمﷺ کی گود میں جا بیٹھے۔” حضرت جبریئل امین نے ارشاد فرمایا کہ آپﷺ کی امت انہیں قتل کر دیگی”۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کیا وہ مسلمان ہوتے ہوئے حسینؓ کو قتل کر دینگے”؟؟؟ حضرت جبریئل امین نے ارشاد فرمایا جی ہاں مسلمان ہی قتل کرینگے۔پھر جبریئل امین نے آپﷺ کو اس سر زمین کی مٹی دکھائی جہاں وہ شہید ہوں گے۔

شہدائے کربلا:☜

سیدنا حسینؓ 61 ہجری کی ابتداء میں بروزِ جمعہ ایک قول کے مطابق بروزِ ہفتہ یومِ عاشورہ 10 محرم الحرام کو سر زمینِ عراق کے مقامِ کربلا میں شہید ہوئے۔وہاں آپؓ کی قبر مشہور زیارت گاہ ہے۔شہادت کے وقت آپؓ کی عمر شریف 57 سال تھی۔سیدنا حسین کے افراد میں سے 72 اصحاب شہید ہوئے۔قبیلہ بنو اسد کے لوگوں نے انہیں شہادت کے ایک روز بعد دفن کیا۔شہادت کے بعد آپؓ کے اھلِ بیت و انصار کے سر جدا کرکے عبید اللہ بن زیاد کے دربار پیش کیے گئے جنکی تعداد ستر تھی۔

آپﷺ کا لوگوں کو سیدنا حسینؓ کی نصرت و مدد کی ترغیب دینا:☜

حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: میرا یہ بیٹا یعنی حسینؓ عراق کی سرزمین میں شہید ہوگا جس کا نام کربلا ہے۔تم میں سے جو وہاں موجود ہو اسے چاہیئے۔۔۔۔کہ وہ اسکی نصرت و مدد کرے”۔

سیدنا حسینؓ کی محبت عزت و نصرت جملہ مسلمین پر واجب ہے۔انہیں تقدس و احترام کا وہ مقام مرتبہ دینا ضروری ہے کہ انکا ذکر مبارک بھلائی اور خیر ہی سے کیا جائے۔یہ بات نبی کریمﷺ نے خیر القرون میں ان ہستوں کی موجودگی میں جنکے بارے میں ” رضی اللہ عنه و رضوا عنه” کا پروانہ صادر ہو چکا تھا۔ اسی عقیدے اور اساس کو "کبار صحابہ رضی اللہ عنھم” خیارِ صحابہ رضی اللہ عنھم اور تابعین اکرام نے اپنایا۔اسی پر علماء اھلِ سنت والجماعت رہے۔ اب یہ ایسا ٹھوس مستحکم عقیدہ اور اساس بن چکا ہے جسمیں بحث و تمحیص کی گنجائش ہی نہیں رہی اور ان مسلمات میں سے ہو چکا جسمیں دو نظریات نہیں چل سکتے۔اور نہ ہی اختلاف واقع ہو سکتا ہے۔

حدیث ملاحظہ کیجیۓ ۔۔۔۔ حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حجة الودع کے موقعہ پر عرفہ کے دن رسولﷺ کو دیکھا۔ آپنی قصوٰی نامی اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ فرما رہے تھے۔میں نے سنا کہ آپﷺ فرما رہے تھے۔کہ اے لوگوں ! میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں۔اگر تم نے انہیں تھامے رکھا تو گمراہ نہیں ہوگے "ایک اللہ کی کتاب، دوسرا میرا گھرانا”۔میرے اھلِ بیت”۔
(ترمذی شریف شمار حدیث 3786)

سیدنا حسینؓ محبت کرنے والے کے لیے بشارت:☜

حضرت اسامہ بن زیدؓ ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک رات میں کسی ضرورت کے تحت نبی کریمﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔چناچہ میرے دستک دینے پر آپﷺ باہر تشریف لائے تو آپﷺ کچھ بوجھ سا اٹھائے ہوئے تھے۔مگر مجھے معلوم نہ ہو سکا کہ کیا چیز ہے۔جب میں اپنی ضرورت کی بات کرکے فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا۔ کہ اے اللہ کے رسولﷺ آپ کیا اٹھائے ہوئے ہیں؟؟؟فرماتے ہیں کہ میرے اس کہنے پر نبی کریمﷺ نے اپنی چادر مبارک کھول کر دکھائی تو پہلو میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ تعالٰی عنھم اجمعین سوار تھے۔آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ میرے بیٹے میری بیٹی کے لختِ جگر ہیں۔اے اللہ مجھے ان دونوں سے محبت ہے اور تو بھی ان سے محبت رکھ اور جو ان سے محبت کرے انہیں بھی محبوب بنا لے۔
(ترمذی شریف شمار حدیث 3769)

بارگاہِ نبوت تک رسائی کا ذریعہ:☜

داؤد بن ابو عوف ابو الجحاف سے مروی ہے کہ وہ ابو حازم سے اور وہ ابو ہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ” جس نے حسن حسین رضی اللہ تعالی عنھما سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے عداوت کی اس نے مجھ سے عداوت کی” ۔ (ابن ماجہ 143)

سیدنا حسینؓ کا کردار:☜

سیدنا حسینؓ کی زندگی ہمارے اور رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کے لیے نمونہ عمل ہے۔اور بالخوصوص آج کے اس دور میں جہاں اس دین متین کے خلاف اور اسکے ماننے والوں پر ظلم ستم اور سازشیں ہو رہی ہیں ۔۔۔

سیدنا حسینؓ اسلامی تاریخ کی  وہ مقدس اور پاک باز  ہستی ہیں کہ جنہوں نے کبھی ظلم کے آگے سر نہ جھکایا۔اور کلمۀ حق بلند کیا۔اور کسی کے دباؤ میں نہیں آئے اور اپنی دانست میں غلطی کو روکنے کی حتی الامکان کوشش کی: یہاں تک کہ جان کی قربانی بھی دے دی۔ بلا شبہ آپؓ کی شہادت تاریخ اسلام کا ایسا دردناک اور  الم ناک حادثہ ہے۔جسے کبھی بھلایا نہیں جا سکتا اور اسکی کسک ہر مؤمن محسوس کرتا رہا ہے اور کرتا رہیگا اور جنہوں نے بھی اس ظلم میں کسی بھی درجہ حصہ لیا انہیں امت نے کبھی قبول نہیں کیا۔

لیکن یہ بات درست نہیں کہ ہم شہادت کے غم میں پڑ کر شرعی حدود کو نظر انداز کریں۔اور جس نوحہ خوانی کو نبی کریمﷺ نے جاہلیت کا عمل کہہ کر ممنوع قرار دیا اسکو عبادت سمجھ کر انجام دے۔یہ سراسر شرعی حکم کی پامالی اور ارشادِ نبی کریمﷺ کی مخالفت ہے۔ اس لیے حادثہ شہادت پر افسوس اور ظالموں سے بدلہ اپنی جگہ لیکن نوحہ خوانی کے نام پر جو فضولیات دین میں گڑھ لی گئی ہیں ان سے ہر مسلمان کو بچنا اور بچانا لازم ہے۔

اسی طرح یہ بھی ہر گز درست نہیں کہ ہم بعض صحابہ یا اھلِ بیت کی محبت کے بہانے سے دوسرے صحابہؓ پر لعن طعن کرے یا انکی شان میں گستاخیاں کرے۔کسی بھی محبِّ رسول ﷺ کو یہ باتیں قطعاً زیب نہیں دیتی۔

حضراتِ گرامی ہمارا دین قیامت تک باقی رہنے والا دین ہے۔اور اسکی سب بنیادی باتیں معتبر نصوص سے ثبت ہیں۔اس لیے منگڑھت رسومات کے ذریعہ اصل دین کو بدلا نہیں جا سکتا اور قیامت تک ایسی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو پایئگی ان شاء اللہ۔

نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں ہمیشہ ایک جماعت ایسی قائم رہیگی جو حق پر ثابت قدم رہیگی۔کوئی بھی اسے قیامت تک ذلیل نہیں کر پایئگا۔
(بخاری شریف شمار حدیث 3641)

جیسا کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ "بنی اسرائیل بہتّر فرقوں میں بٹے ! "اور میری امت تہتّر فرقوں میں بٹیگی”۔ انمیں ایک فرقہ ہی پوری طرح کامیاب ہونے والا ہے”۔ دریافت کیا گیا کہ یہ کون سا فرقہ ہے؟؟؟ تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا :  "ما انا علیه واصحابی” یعنی جو میرےﷺ اور میرے صحابہؓ کے طریقہ پر قائم ہو، وہی جماعت برحق اور ھدایت یافتہ ہے۔

اس لیۓ ہمیں چاہیئے۔۔۔۔کہ ہم صحابہ اکرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کے طریقوں پر ثابت قدم رہیں۔ اور بلا کسی امتیاز کے تمام ہی صحابہ اکرامؓ کی تعظیم کریں اور کسی سے ادنٰی سی بھی بد گمانی نہ رکھیں۔۔۔۔(واللہ اعلم بقلم حسنی تبسم انصاری بحوالا عظمتِ صحابہ و اھلِ بیت اور حیاتِ امام حسینؓ)