Advertisement

تعارف:☜

حضرت سعیدؓ کے والد زید  ساری عمر حق کی تلاش میں رہے۔آخر کار جب ملک شام میں انکے والد ماجد کو اس بات کی خبر ملی کہ مکہ معظمہ میں اللہ رب العزت ایک نبی کو مبعوث فرمائے گا جو دینِ ابراھیمی کی تجدید کرینگے۔اسی لیے وہ نبی کریم ﷺ کی تلاش میں مکہ معظمہ روانہ ہوئے۔ابھی وہ راستہ ہی میں تھے مکہ معظمہ نہیں پہنچے کہ اچانک  کچھ بددوں نے انہیں قتل  کر دیا۔اس وجہ سے وہ نبی کریمﷺ کی زیارت سے مشرف نہ ہو سکے۔جب آپ اپنی آخری سانسیں لے رہے تھے تو اچانک آسمان کی جانب نگاہ اٹھائی اور دعا کی کہ "یا الہی اگر تونے مجھے دیدار نبی جیسی نعمت سے محروم رکھا  ہے تو میرے بیٹے سعید کو اس خیر و برکت سے محروم نہ رکھنا۔

Advertisement

اللہ رب العزت نے حضرت زید کی دعا کو شرفِ قبولیت بخشا۔ جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ جب نبی کریمﷺ نے دین  کی دعوت پیش کی تو حضرت سعید ان حضرات میں سے ہیں کہ جنہوں نے پہلے مرحلے میں اللہ رب العزت کی وحدانیت اور نبی کریمﷺ کی رسالت قبول کی۔آپؓ کا ایمان لانا کوئی اچنبھے کی بات نہ تھی کیونکہ آپ ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جو بت پرستی سے پہلے ہی متنفر تھے۔اور آپؓ کا مشرف بااسلام ہونا آپؓ کے والد گرامی کی دعا کا مظہر ہے۔اور اپؓ ایسے باپ کی گود میں پروان چڑھے جس نے اپنی ساری زندگی حق کی تلاش میں صرف کر دی اور جب وہ فوت ہوئے تب بھی حق کی تلاش میں سرگردہ تھے۔

Advertisement

حضرت سعیدؓ تنہاء مسلمان نہیں ہوئے بلکہ آپ کی بیوی فاطمہ بنت خطاب  یعنی حضرت عمر فاروقؓ کی بہن بھی آپؓ کے ساتھ مسلمان ہوئیں۔اس قریشی نوجوان کو اسلام لانے کے بعد اپنے خاندان کے ہاتھوں بہت تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔لوگوں نے بہت ازیتیں پہنچائیں لیکن یہ دونوں میاں بیوی اسلام پر ثابت قدم رہے۔اور انکی قوم کے لوگ انہیں دین سے منحرف کرنے میں ناکام رہے۔حتٰی کہ ان دونوں نے اپنی ثابت قدمی اور مشترکہ جدو جہد  سے قریش کے سب سے طاقتور شخص کو  قوم قریش سے چھین لیا۔ یعنی یہ دونوں حضرت عمر فاروقؓ کے اسلام لانےکا سبب بنے۔

Advertisement

حضرت سعید نے اسلام کے لیے اپنی پوری زندگی کھپا دی۔قبول اسلام کے وقت انکی عمر 20 سال سے زیادہ نہ تھی۔غزوۀ بدر کے علاوہ تمام غزوات میں نبی کریمﷺ کے ساتھ شریک رہے۔ غزوۀ بدر میں غیر حاضری کی وجہ یہ تھی کہ آپﷺ نے آپؓ کو ایک خاص مہم پر بھیجا ہوا تھا۔کسریٰ کا تخت چھننے اور قیصر کی سلطنت کو تہس نہس کرنے میں مسلمانوں کے شریک کار رہے۔ اور ہر معرکہ پر کارہاےنمایا انجام دیے۔سب سے بڑھ کر بہادری  کےجواہر آپؓ کے غزوۀ یرموک میں نمایا ہوئے۔آپؓ کے غزوۀ یرموک کے کارنامے ہم آپ قاریئن کو حضرت سعید ہی کی زبانی سناتے ہیں۔

حضرت سعیدؓ فرماتے ہیں:☜کہ غزوۀ یرموک میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 24000 اور رومیوں کی فوج کا لشکر (ایک لاکھ بیس ہزار) افراد پر مشتمل تھا۔وہ ہماری جانب بڑے جاہ و جلال سے بڑھتے چلے آرہے تھے۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی پہاڑ ہماری جانب چلا آ رہا ہو۔لشکر کے آگے بڑے بڑے پوپ اور پادری صلیب اٹھائے باآواز بلند چل رہے تھے۔پورے لشکر کی آواز بجلی کی طرح گونج رہی تھی۔جب انکی یہ حالت دیکھی تو یہ جاہ وجلال دیکھ کر خوف زدہ ہو گئے۔اس نازک مرحلے میں حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ مسلمانوں کو جوش و جذبہ دلانے کے لیے پر جوش انداز میں ارشاد ربانی سناتے ہیں۔:☜”ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم” ۔۔۔۔معنی "اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کریگا۔اور تمہارے قدم جمائے رکھیگا۔۔۔۔۔۔

Advertisement

"فرماتے ہیں کہ اللہ کے بندوں صبر کرو صبر ہی کفر سےنجات اور اللہ رب العزت کی خوشنودی اور عار ودننگ کا زائل کرنے کا  باعث ہے”۔ سنو! اپنے نیزے درست کر لو اور چھپائے رکھو؛ خاموشی اختیار کرو۔دلوں کو یاد الٰہی سے سر شار کرو۔یہاں تکہ میں تمہیں یکدم حملے کا حکم دوں۔

حضرت سعید فرماتے ہیں کہ مجاہدین میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے ابو عبیدہ بن جراحؓ سے کہا کہ میں نے عزم کیا ہے کہ میں ابھی اپنا فرض انجام دے دوں اور حق کی راہ میں شہید ہو جاؤں۔کیا آپ نبی کریمﷺ کو کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں؟ حضرت ابو عبیدہؓ نے کہا نبی کریمﷺ کو میرا اور تمام مسلمانوں کا سلام کہنا! حضرت سعید فرماتے ہیں کہ میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ اپنی تلوار نیام سے نکالتا ہے اور دشمانان اسلام سے نبردآزما ہونے کے لئے آگے بڑھتا ہے اور اسکے بعد میں نے شست لگائی اپنا گھٹنا باندھا اور اپنی تلوار کو سنبھالا دشمن کے اس شہسوار کو نشانہ بنایا جس نے اسلام کے لشکر کی جانب سب سے پہلے پیش قدمی کی تھی۔پھر میں جذبہ جہاد سے سرشار ہو کر دشمنوں پر ٹوٹ پڑا۔اللہ رب العزت نے دشمنوں کا خوف میرے دل سے بالکل نکال دیا۔تمام مجاہدین اس وقت تک بر سر پیکار رہے۔ جب تک کہ فتح و نصرت مسلمانوں کو نصیب نہ ہوئی۔

Advertisement

اسکے بعد حضرت سعیدؓ کو فتح دمشق میں شامل ہونے کا شرف ملا۔جب باشندگان دمشق نے مسلمانوں کی اطاعت قبول کر لی تو حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ نے آپؓ کو دمشق کا گورنر بنایا۔آپؓ پہلے مسلمان ہیں جنہیں دمشق کا گورنر بننے کا اعزاز حاصل ہے۔بنو امیہ کے دور خلافت میں حضرت سعید بن زیدؓ کا ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو بہت مدت تک باشندگان یثرب کا موضوع گفتگو بنا رہا۔

واقعہ:☜ واقعہ یہ تھا کہ اُرویٰ بنت عمیس نے یہ الزام لگایا کہ حضرت سعید بن زیدؓ نے اپنے اختیارات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میری کچھ زمین غصب کرکے اپنی زمین میں شامل کر لی ہے”۔وہ جہاں جاتی ہر شخص کے سامنے اپنی اس مظلومیت کا تذکرہ کرتیں۔بالآخر اس نے مدینہ کے گورنر مروان بن حاکم کی عدالت میں انکے خلاف دعویٰ دائر کر دیا۔مروان نے حضرت سعید سے اس معاملہ میں بات کرنے کے لئے ایک وفد بھیجا۔حضرت سعید پر یہ بات بہت گراں گزری وہ افسردگی کے عالم فرمانے لگے۔”کہ سب لوگ میرے متعلق کیا گمان کرتے ہونگے کہ میں نے اس عورت کی زمیں غصب کرکے بہت بڑا ظلم کیا ہے؟”

Advertisement

میں بھلا اس گھنؤنے عمل کا ارتکاب کیسے کر سکتا ہوں جبکہ میں نے نبی کریمﷺ کا یہ فرمان سنا ہے۔کہ”جس نے کسی کی ایک بالشت زمین بھی ناحق اپنے حق میں لی تو قیامت کے دن اسکے گلے میں سات زمینوں کا طوق ڈالا جایئگا”۔

اسکے بعد دربار الہی میں عرض پردار ہوئے کہ "یاالہی تو جانتا ہے کہ میں بے گناہ ہوں میں نے اس عورت پر کوئی ظلم نہیں کیا۔الہی تو جانتا ہے کہ وہ جھوٹی ہے۔اسے اس گناہ کی سزا دے کہ اسے اندھا کرکےاس کنوۓ میں گرا جس سے بات لوگوں کے سامنے واضح جائے کہ میں نے اس عورت پر کوئی ظلم نہیں کیا”۔

Advertisement

تھوڑے ہی عرصے بعد وادئ عتیق میں سیلاب آیا کہ  ایسا سیلاب پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔اس سیلاب سے وہ حد بندی واضح ہو گئی جو دونوں کے درمیان باعث نزاع تھی۔مسلمانوں پر یہ بات واضح ہو گئی کہ حضرت سعید سچے ہیں۔اسکے ایک مہینہ بعد وہ عورت اندھی ہو گئی اور ایک دن وہ اپنی زمین میں بھی چل پھر رہی تھی کہ اچانک کونیں میں گر کر ہلاک ہو گئی۔

حضرت عبد اللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ ہم بچپن میں یہ سنا کرتے تھے کہ ایک شخص غصہ کی حالت میں دوسرے کو کہتا ہے "کہ اللہ تجھے اسی طرح اندھا کرے؛جس طرح اُرویٰ نامی عورت کو کیا تھا”۔یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ” مظلوم کی آہ سے بچو کیونکہ مظلوم اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا”۔ اور بھلا ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ اس مسلہ میں مظلوم "حضرت سعید بن زیدؓ جیسی ہستی ؛ وہ شخصیت جو دس معزز خوش نصیب صحابہ اکرامؓ میں تھے جنہیں دنیا ہی میں جنت کا پروانہ مل چکا تھا”۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement