تعارف:☜

اشرف الانبیاء حضرت محمد مصطفٰی ﷺ اور سیدنا علی المرتضٰیؓ کے پھوپھی ذاد بھائی؛ سید الشہداء حضرت حمزہؓ کے بھانجے؛جناب عبد المطلب کے نواسے؛سیدہ حضرت خدیجة الکبریٰؓ کے بھتیجے؛سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ کے داماد؛سیدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیقؓ کے شوہر؛سیدہ حضرت عائشة صدیقہؓ کے بہنوئی اور حضرت عبد اللہؓ کے والد گرامی؛ ان جلیل القدر نسبتوں کی حامل شخصیت حوارئ رسول اللہ ﷺ سیدنا حضرت زبیر بن عوامؓ ہے۔حضرت زبیر بن عوامؓ کا سلسلہ نصب کلاب پر پہنچ کر نبی کریمﷺ سے مل جاتا ہے۔آپؓ کی والدہ حضرت صفیہؓ آپﷺ کی پھوپھی ہیں۔اور آپؓ ان دس عظم الشان جلیل القدر صحابہ اکرامؓ میں ییں جن کو ایک ہی مجلس میں نبی کریمﷺ نے جنت کی بشارت دی تھی۔آپؓ ان چھ ذی شان و باوقار صحابہ اکرام میں سے ہیں جنکو امیرالمؤمنین سیدنا حضرت عمر فاروق بن الخطابؓ نے شہادت کے بعد خلافت کے لیئے منتخب کیا تھا۔

مشرف بااسلام اور آپؓ کی بہادری اور شجاعت:☜

آپؓ سولہ سال کی عمر میں دولت اسلام سے مشرف ہوۓ۔اسلام قبول کرنے کے باعث آپؓ کے چچا نے آپؓ کو طرح طرح کی اذیتیں دی۔بفضل تعالی آپؓ اسلام پر ثابت قدم رہے۔

حضرت سعید بن مسیبؒ فرماتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں سب سے پہلے تلوار سونپنے والے حضرت زبیر بن عوامؓ ہیں۔ایک دن وہ دوپہر کو قیلولہ کر رہے تھے کہ اچانک انہوں نے یہ آواز سنی کہ رسولﷺ کو قتل کر دیا گیا ہے۔یہ سنتے ہی فورًا ننگی تلوار لیے باہر نکلے۔ حضرت زبیر بن عوامؓ اور حضورﷺایک دوسرے کے بالکل سامنے آ کر ملے تو حضورﷺ نے پوچھا کہ اے زبیر تمہیں کیا ہو گیا ہے؟حضرت زبیرؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ میں نے سنا کہ آپﷺ شہید کر دیئے  گئے ہیں۔ تو حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارا کیا کرنے کا  ارادہ تھا؟ عرض کی  کہ یا رسول اللہﷺ میرا یہ ارادہ تھا کہ میں مکہ والوں پر ٹوٹ پڑوں۔حضورﷺ نے انکے لیے دعائے خیر فرمائی۔اورفرمایا کہ واپس لوٹ جاؤ اور فرمایا کہ یہ پہلی تلوار ہے جو اللہ کی راہ میں سونپی گئی تھی۔

ابن اسحاقؓ سے روایت ہےکہ جنگ احد کے دن طلحہ بن ابی طلحہ عبدری مشرکوں کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھا۔اس نے مسلمانوں کو اپنے مقابلہ میں نکلنے کی دعوت دی۔چناچہ لوگ ایک دفعہ اس کے ڈر کی وجہ سے رک گئے۔اور پھر حضرت زبیر بن عوامؓ اسکے مقابلہ میں نکلے اور چھلانگ لگا کر اس کے اونٹ پر اس کے ساتھ جا بیٹھے۔اور اونٹ پر ہی لڑائی شروع ہو گئی۔حضرت زبیرؓ نے طلحہ کو اوپر سے نیچے زمین پر پھینک کر اسے اپنی تلوار سے ذبح کر دیا۔حضورﷺ نے انکی تعریف فرمایئ اور فرمایا کہ "ہر نبی کا کویئ نہ کویئ (جانثار)حواریBodygard ہوا کرتا ہے ۔   اور میرے حواری حضرت زبیر بن عوامؓ ہیں۔اور فرمایا کہ میں نے یہ بھی دیکھا  ہے کہ اپﷺ نے یہ فرمایا کہ لوگ انکے مقابلہ میں نکلنے سے رک گیۓ تھے۔اگر زبیرؓ انکے مقابلہ میں نہ نکلتے تو میں خود جاتا”۔

ابن اسحاق کی روایت میں ہے کہ نوفل بن عبد اللہ بن مخزومی نے غزوۀ خندق کے دن دشمن کی صف میں سے نکل کر مسلمانوں کو اپنے مقابلہ میں نکلنے کی دعوت دی۔چناچہ اس کے مقابلہ کے لیے زبیر بن عوامؓ نکلے۔اور اس پرتلوار کا ایسا  وار کیا کہ اسکے دو ٹکڑے ہو گئے۔اس وجہ سے انکی تلوار میں دندانے پڑ گئے۔اور وہ واپس آتے ہوئے ایسے شعر پڑھ رہے تھے۔

*انی امرو احمی و احمنی* *عن النبی المصطفی الامی*

*”میں ایسا آدمی ہوں کہ دشمن سےاپنی حفاظت بھی کرتا ہوں۔اور نبی امی محمد مصطفٰی ﷺ کی بھی حفاظت کرتا ہوں”۔

حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ کہتی ہیں۔کہ ایک مشرک ہتھیار لگائے ہوئے آیا اور اونچی جگہ پر چڑھ کر کہنے لگا۔کہ میرے مقابلہ کے لیے کون آیئگا؟ حضورﷺ نے لوگوں میں سے ایک شخص سے کہا کہ تم اسکے مقابلہ کے لیے نکلوگے؟اس آدمی نے کہا یارسول اللہﷺ اگر آپﷺ کی منشاء ہو تو میں جانےکے لیے تیار ہوں۔حضرت زبیر بن عوامؓ نبی کریمﷺ کے چہرے کی طرف دیکھنے لگے۔حضورﷺ نے انکی جانب دیکھا کہ اے میری پھوپھی صفیہؓ کے بیٹے تم اسکے مقابلہ کے لیے نکلو”۔ حضرت زبیر بن عوامؓ اسکے مقابلہ کے لیے نکلے اور جا کر اسکے برابر کھڑے ہو گئے۔پھر دونوں ایک دوسرے پر تلوار سے وار کرنے لگیں۔پھر دونوں آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔پھر دونوں نیچے کو لڑھکنے لگے۔اس پر حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی گڑھے میں پہلے گریگا وہ مارا جائیگا۔چناچہ حضورﷺ نے اور مسلمانوں نےحضرت زبیرؓ کے لیے دعا کی۔چناچہ وہ کافر گڑھے میں پہلے گرا۔پھر حضرت زبیرؓ اس کے سینہ پر جا گرے۔اور انہونے اس کو قتل کر دیا۔

حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ فرماتے ہیں۔کہ غزوۀ خندق کے دن مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ قلعہ میں رکھا گیا تھا ۔اور میرے ساتھ عمرو بن ابی سلمہ بھی تھے۔وہ میرے سامنے جھک کر کھڑے ہوجاتے اور میں انکی کمر پر سوار ہو جاتا (یہ دونوں ابھی سن بلوغ کو نہ پہنچے تھے)اور قلعہ سے باہر لڑایئ کا  منظر دیکھنے لگ جاتا۔چناچہ میں نے اپنے والد کو دیکھا وہ کبھی یہاں حملہ کرتے کبھی وہاں۔چناچہ شام کو جب وہ ہمارے پاس آے تو میں کہا کہ ابا جان آج آپ جو کچھ کرتے رہیں وہ میں دیکھتا رہا۔انہونے کہا کہ اے میرے بیٹے کیا تم نے مجھے دیکھا؟ میں نےکہا کہ ہاں اباجان! فرمانے لگے کہ میرے ماں باپ تجھ پر قربان۔

حضرت عروہؓ فرماتے ہیں کہ جنگ یرموک کے موقعہ پر نبی کریمﷺ کے کسی صحابیؓ نے حضرت زبیر بن عوامؓ سے کہا کہ کیا تم کافروں پر حملہ کرنے  نہی جاؤگے کہ ہم بھی تمہارے ساتھ جاۓ؟حضرت زبیرؓ نے کہا کہ اگر میں نے حملہ کی  تو تم اپنی بات پوری نہی کر پاؤگے۔اور میرا ساتھ نہی دے سکو گے۔لوگوں نے کہا نہیں ہم ایسا  نہیں کرینگے بلکہ آپکا ساتھ دینگے۔چناچہ حضرت زبیر بن عوامؓ نے کافروں پر اس زور سے حملہ کیا کہ انکی صفوں کو چیرتے ہوۓ  دوسری جانب نکل گئے۔اور صحابہ اکرامؓ میں سے کویئ بھی انکے ساتھ نہی تھا۔پھر وہ ایس طرح دشمنوں کس چیرتے ہوۓ واپس آۓ تو کافروں نے انکے گھوڑے کی لگام پکڑ لی۔انکے کندھے پر تلوار کے دو ایسے وار کیے جو انکو جنگ بدر والے زخم کے دایئں باۓ لگیں۔

حضرت زبیر بن عوامؓ نے جنگ کے روز صبح کے وقت اپنے بیٹے حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کو وصیت کے دوران یہ  فرمایا تھا کہ میرے بدن کا کویئ عضو ایسا نہی ہے جو نبی کریمﷺ کے ہمراہ زخمی نہ ہوا ہو۔دربار رسالت کے شاعر حسّان بن ثابتؓ نے آپؓ کی مدحت میں ایک قصیدہ لکھا۔ جسک  ترجمہ ہیکہ ” وہ ایسے شہسوار اور بہادر ہیں کہ وہ اس دن حملہ کرتے تھے جب لوگ چھپتے پھرتے تھے۔جب لڑائی اپنی آگ روشن کرتی تھی تو وہ تلوار لیکر موت کی جانب دوڑتے تھے۔“