Advertisement
  • کتاب” ابتدائی اردو” برائے پانچویں جماعت
  • سبق نمبر17: مضمون
  • سبق کا نام: مولانا برکت اللہ بھوپالی

خلاصہ سبق: مولانا برکت اللہ بھوپالی

جاپان میں اسلامک فریٹرنٹی کے نام سے ایک تنظیم بنائی۔اسی نام سے اخبار اسلامک فریٹرنٹی جاری کیا۔اسلامی بھائی چارے اور ہندوستان کو برطانیہ کی غلامی سے آزاد کرانے کے لیے یہ مہم چلائی۔اب آپ تنہا نہ تھے بلکہ کئی انقلابی آپ کے ساتھ شامل ہو چکے تھے۔

جلا وطن انقلابیوں کے ساتھ مل کر مولانانے ایک انقلابی پارٹی کی بنیاد ڈالی۔ برطانوی حکومت نے جاپانی حکومت کو دباؤ میں لاکر جاپان سے بھی ان کا انخلا کروایا۔یہاں سے پیرس گئے اور اخبار انقلاب جاری کیا۔ انگریزی حکومت ان کی سرگرمیوں پہ گہری نظر رکھے ہوئے تھی۔ دوبارہ امریکہ گئے اور ایسوسی ایشن آف پیسیفک کوسٹ قائم کی۔

غدر کے نام سے اخبار اور غدر پارٹی کے نام سے انقلابی جماعت بنائی۔مولانا نے اپنے انقلابی مشن کو کامیاب بنانے کے لیے ترکستان ، روس ، سوئزر لینڈ اور افغانستان کا سفر کیا۔یہاں کے سربراہوں نے ان کے مشن کی حمایت کی۔1915 میں کابل میں آزاد ہندوستان کی پہلی جلا وطن حکومت قائم کی گئی۔تو مولا نا برکت اللہ بھو پالی کواس حکومت کا زیر اعظم بنایا گیا۔

Advertisement

راجا مہندر پرتاب سنگھ کو صدر بنایا گیا۔مولا نا عبید اللہ سندھی کووزیر خارجہ بنایا گیا۔اپ نے ساری زندگی ہندوستان کی آزادی کے لیے وقف کی اور جلا وطنی میں گزار دی۔مولانا نے اپنا قول پورا کر دکھایا کہ جب تک سرزمین ہند پر آزادی کا سورج نہ چمکے گا ، برکت اللہ کے قدم وہاں نہ پڑیں گے۔”

آپ ایک بے باک صحافی اور نڈر انقلابی تھے۔ برطانوی سامراج سے آپ نے زبردست ٹکر لی اور آخری سانس تک وطن کی خدمت کرتے رہے۔ان کی خدمات کے اعتراف میں بھوپال یونیورسٹی کا نام ‘ برکت اللہ یونیورسٹی ‘ رکھا گیا۔ لال قلعہ دہلی میں مجاہدین آزادی کے میوزیم میں مولانا برکت اللہ کے نام سے ایک گوشہ قائم کیا گیا۔بھوپال میں ایک کمیونٹی ہال اور دوسری یادگاریں بھی ان کے نام سے منسوب ہیں۔

سوچیے بتائیے اور لکھیے:

مولا نا برکت اللہ بھوپالی کب اور کہاں پیدا ہوۓ؟

مولانا برکت اللہ بھوپالی 1862ء میں بھوپال میں پیدا ہوئے۔

مولانا نے اپنے انقلابی مشن کو کامیاب بنانے کے لیے کن کن ملکوں کا سفر کیا؟

مولانا نے اپنے انقلابی مشن کو کامیاب بنانے کے لیے ترکستان ، روس ، سوئزر لینڈ اور افغانستان کا سفر کیا۔

اخبار اسلامک فریٹرنٹی کس لیے جاری کیا گیا؟

اخبار اسلامک فریٹرنٹی اسلامی بھائی چارے اور ہندوستان کو برطانیہ کی غلامی سے آزاد کرانے کے لیے یہ مہم چلائی۔

مولانا نے امریکہ میں کون سا اخبار جاری کیا ؟

مولانا نے امریکہ میں ‘غدر’ کے نام سے اخبار جاری کیا۔

مولانا نے اپنے کس قول کو پورا کر دکھایا؟

مولانا نے اپنا قول پورا کر دکھایا کہ ”جب تک سرزمین ہند پر آزادی کا سورج نہ چمکے گا ، برکت اللہ کے قدم وہاں نہ پڑیں گے۔”

ہمارے ملک میں ان کے نام سے کون کون سی خدمات یادگار ہیں؟

ان کی خدمات کے اعتراف میں بھوپال یونیورسٹی کا نام ‘ برکت اللہ یونیورسٹی ‘ رکھا گیا۔ لال قلعہ دہلی میں مجاہدین آزادی کے میوزیم میں مولانا برکت اللہ کے نام سے ایک گوشہ قائم کیا گیا۔بھوپال میں ایک کمیونٹی ہال اور دوسری یادگاریں بھی ان کے نام سے منسوب ہیں۔

خالی جگہوں کو صحیح الفاظ سے پر کیجیے۔

  • وہ اپنے ملک کو آزاد اوراہل وطن کوخوش حال دیکھنا چاہتے ہیں۔
  • انگریزی تعلیم نے ان کے ذہن کو روشن کردیا۔
  • برکت اللہ بھوپالی کا اصل مقصد ملازمت نہیں بلکہ اپنے مشن کو آگے بڑھانا تھا۔
  • جلا وطن انقلابیوں کے ساتھ مل کر مولانانے ایک انقلابی پارٹی کی بنیاد ڈالی۔
  • انھوں نے انگریزی حکومت کے خلاف اپنی سرگرمیوں کو تیز تر کردیا۔

نیچے دیے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔

ایک آنکھ نہ بھانا مجھے علینہ کا بھائی ایک آنکھ نہیں بھاتا۔
تختہ الٹ دیناوزیر نے بادشاہ کا تختہ الٹ دیا۔
ہمت نہ ہارناکیسی ہی مشکل کیوں نہ ہمت نہیں ہارنا چاہیے۔
ٹکر لیناہمیں اپنے سے طاقتور سے ٹکر نہیں لینی چاہیے۔

کالم الف اور ب کے صحیح جوڑ ملائیے۔

الفب
کابل میں آزاد ہندوستان کی پہلی عارضی حکومت قائم کی گئی تو مولا نا برکت اللہ بھو پالی کو اس حکومت کا زیر اعظم بنایا گیا۔
راجا مہندر پرتاب سنگھ کوصدر بنایا گیا
مولا نا عبید اللہ سندھی کووزیر خارجہ بنایا گیا۔

خالی خانوں کو صحیح لفظ سے بھریے۔

مشکلاتمشکل
رکنارکان
تعلیمتعلیمات
قوماقوام
مدارسمدرسہ
وزراءوزیر
تقاریرتقریر
مقاصدمقصد

مولانا برکت اللہ بھوپالی کی قائم ہوئی تین تنظیموں اور جاری کردہ تین اخباروں کے نام لکھیں۔

تنظیم: اسلامک فریٹرنٹی ، انقلابی پارٹی ، غدر پارٹی ۔
اخبار: الانقلاب ، اسلامک فریٹرنٹی ، غدر۔

اس سبق میں دو لفظوں سے مل کر بنے کچھ الفاظ آئے ہیں جیسے خوش حال اور بے باک اسی طرح خوش اور بے لگا کر چار چار الفاظ بنائیے۔

خوش: خوش طبیعت ، خوش مزاج ، خوش آمدید ، خوش و خرم ، خوش خبری
بے: بے باک ، بے ایمان ، بے دین ،بے تکی

مولانا برکت اللہ بھوپالی کے بارے میں پانچ جملے لکھیے۔

مولانا برکت اللہ بھوپالی 1862ء میں بھوپال میں پیدا ہوئے۔بچپن سے تعلیم حاصل کرنے اک شوق تھا۔ اردو فارسی کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مدرسہ سلمانیہ بھوپال میں مدرس کے فرائض سنبھالے۔جلا وطن انقلابیوں کے ساتھ مل کر مولانانے ایک انقلابی پارٹی کی بنیاد ڈالی۔ کابل میں آزاد ہندوستان کی پہلی عارضی حکومت قائم کی گئی تو مولا نا برکت اللہ بھو پالی کواس حکومت کا زیر اعظم بنایا گیا۔

بلند آواز سے پڑھیے اور خوش خط لکھیے۔

جلاوطن ، ترجمان ، مرد آہن ، اعتراف ، حریت۔