Advertisement

تعارفِ نظم :

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”نوجوان سے خطاب“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام اسرار الحق مجاز ہے۔ یہ نظم کتاب آہنگ سے ماخوذ کی گئی ہے۔

Advertisement

تعارف شاعر :

ان کا نام اسرار الحق اور تخلص مجاز تھا۔ وه 1910 میں ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ لکھنو اور آگرہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ وہ ۱۹۴۲ء سے ۱۹۴۷ء کے درمیانی عرصے میں ترقی پسندوں کے اہم شعرا شمار ہوتے ہیں۔ اس دور کی ان کی نظمیں ’’رات اور میل‘‘ ’’انقلاب اور شوق گریزاں‘‘ نے بہت مشہوری حاصل کی۔ مجاز بنیادی طور پر رومانی شاعر تھے لیکن ترقی پسند تحریک کے زیر اثر سماج میں نا انصافیوں اور ظلم کے خلاف آواز بھی اٹھائی اور انقلاب کا نعرہ بھی بلند کیا۔ وہ اپنے وقت کے اہم نظم نگار تھے۔ ان کی نظموں اور غزلوں کے مجموعے آہنگ اور شـب تـاب تقسیم سے قبل شائع ہوئے۔

Advertisement

شعر نمبر ۱ & ۲ :

جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر
اجل بھی کانپ اٹھے، وہ شباب پیدا کر
صدائے تیشہ مزدور ہے تیرا نغمہ
تو سنگ و خشت سے چنگ و رباب پیدا کر

تشریح : ان اشعار میں مجاز نوجوان نسل کو انقلاب کے لیے آمادہ کرنے کے لیے ان سے مخاطب ہیں۔ مجاز کی اس نظم سے اقبال کی وہ نظم یاد آتی ہے جس کا عنوان جاوید کے نام ہے۔ مجاز نے پانچویں عشرے میں اس نظم کی شکل میں اقبال کا تتبع کیا۔ اس نظم میں وہ پوری نوجوان نسل سے مخاطب ہیں۔ مجاز کی اس نظم میں اگر چہ خطاب نوجوان (واحد) ہے مگر ان کا مخاطب پورا نوجوان طبقہ ہے۔ مجاز قوم کے نوجوانوں کو آمادہ کرنے کے لیے انھیں ان کی ذہنی صلاحیتوں اور چھپی قوتوں کا احساس دلاتا ہے کہ تمھارے لہو کی حرارت سراپا آگ ہے۔ تمھارے بدن میں بجلیاں بھری ہیں اور تمھارے اندر بادل کی سی کڑک ہے۔ اگر تم اپنی باطنی قوتوں کو یک جا اور جمع کرلو اور اگر تم ان قوتوں سے کام لینا شروع کر دو تو تمھاری زبردست شخصیت سے موت بھی گھبراہٹ کا شکار رہے گی۔

نوجوانوں کو موسیقی سے لگاؤ بھی ہوتا ہے اور اسے روح کی غذا بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن قوموں کی تاریخ میں شمشیر و سناں کو فوقیت حاصل ہے اور طاؤس و رباب سے زوال کی ابتدا ہوتی ہے۔ شاعر نوجوانوں کو محنت کرنے کے لیے آمادہ کر رہا ہے کہ تیرے لیے تیشہ وسنگ کی آواز ہی چنگ و رباب بن سکتی ہے۔

مجاز کہتے ہیں کہ تیشہ مزدور سے نکلنے والی آواز تمھارے لیے نغمہ بن جانی چاہیے۔ کیا خوب ہوتا اگر تم اسے سکون زندگی سمجھ لیتے۔ یاد رہے کہ مجاز اشترا کی ذہن رکھتے تھے۔ اس لیے انھوں نے تیشہ مزدور کی بات کرنا ضروری سمجھا ہے۔

Advertisement

شعر نمبر ۳ & ۴ :

ترے قدم پر نظر آئے محفل انجم
وه بانکپن، وہ اچھوتا شباب پیدا کر
ترا شباب امانت ہے ساری دنیا کی
تو خار زار جہاں میں گلاب پیدا کر

تشریح : اگر نوجوان اپنے اندر ذرا سرکشی اور بغاوت کے جذبے کو تیز کر دیں یعنی ادھر ادھر کے کھیل تماشے اور فضول کاموں میں الجھنے کے بجاۓ اپنے مقصد پر نظر رکھیں اور ان کی جوانی بے مثال ہو تو وہ اوج ثریا تک جاسکتے ہیں اور پھر ان کی منزل ستاروں سے بھی آگے ہوگی۔
مجاز بھی نوجوان نسل کے لیے ایسی ہی بلند منزل کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ اگر تو ستاروں سے بلند تر ہونے کا ارادہ کر لے تو ستارے تیری منزل ہوں گے اور تیرے قدموں کے نیچے دکھائی دیں گے مطلب اگر نوجوانوں میں انفرادیت اور بانکپن ہو تو وہ بہت آگے تک جا سکتے ہیں۔ مجاز کہتے ہیں کہ اے نوجوان ، تیری جوانی ( اور اس سے وابستہ قوت ، صلاحیت عزم، حوصل، ولولہ وغیرہ ) قوم کی ایک امانت ہے۔

اس امانت کا بہترین مصرف تجھ پر فرض ہے۔ نوجوان قوم کے بازوۓ شمشیرزن ہوتے ہیں۔ وہ صرف اپنی ذات تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ان کی توانائیاں ،طاقت اور ذہنی صلاحیتیں قوم کی اجتماعی امانت ہوتی ہیں۔ اس لیے کڑے وقت میں انھیں استحصالی قوتوں، ناانصافیوں اور جبر کے خلاف چلنے والی تحریکوں کا حصہ بننا چاہیے۔ پھر مجاز کہتے ہیں کہ بدی کے خار زار کو گل و گلزار میں بدلنے کے لیے نوجوانوں کو اپنی توانائیاں کام میں لانے کی ضرورت ہے۔ وہی دکھوں کا مداوا بن سکتے ہیں اور خار زار سے گلاب نکال کر معاشرے اور قوم کو سکھ، چین سکوں اور خوش حالی سے ہم کنار کر سکتے ہیں۔

Advertisement

شعر نمبر ۵ & ۶ :

سکوں خواب ہے بے دست و پا ضعیفی کا
تو اضطراب ہے خود اضطراب پیدا کر
بہے زمین پر جو تیرا لہو تو غم مت کر
اسی زمین سے مہکتے گلاب پیدا کر

تشریح : شاعر ان اشعار میں قوم کے نوجوانوں سے مخاطب ہیں اور انھیں انقلاب اور قوم کے لیے قربانی دینے پر آمادہ کر رہے ہیں۔ مجاز کہتے ہیں کہ سکون، آرام اور سکھ چین کی تلاش صرف کمزور اور بوڑھے لوگوں کو ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں جوان تو سراپا سیماب صفت ہوتے ہیں۔ وہ ہر وقت کچھ کرنے کو مضطرب رہتے ہیں۔ ان کی اس بے قراری اور اضطراب سے انقلاب کے لیے ولولہ و شوق پیدا ہوتا ہے۔
یہی اضطراب اور بے چینی تحریک اور انقلابی جدوجہد کی بنیاد بنتا ہے۔ شاعر نوجوانوں سے قربانی کی توقع کرتے ہیں اور ان سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اس راہ میں تمھاری جان بھی چلی جاۓ تو کوئی بات نہیں کیوں کہ قوم کے لیے بہنے والے خون ہی سے آزادی پروان چڑھتی ہے۔

یوں تیرا خون زمین کو سینچے گا تو اسی خار زار سے مہکتے گلاب پھوٹیں گے۔ وہ انقلاب آئے گا جس میں لوگ سکون اور راحت سے رہ سکیں گے۔

Advertisement

سوال نمبر ۱ : اجل بھی کانپ اٹھے وہ شباب پیدا کر سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

جواب : اس شعر سے شاعر کی مراد یہ ہے کہ قوم کے نوجوان اپنی قوتوں کو اس طرح یک جا کرلیں کہ سراپا آتش و سیماب بن جائیں۔ اس صورت میں ان کے اندر قربانی کا وہ غیر معمولی جذبہ پیدا ہو جائے گا کہ موت بھی ان کے خوف سے کانپ اٹھے گی۔

سوال نمبر ۲ : ’’صداۓ تیشہ مزدور“ کا مفہوم دو سطروں میں بیان کیجیے۔

جواب : مزدور کے مسلسل تیشہ چلانے سے ماحول میں جو آواز پیدا ہوتی ہے، بظاہر وہ تکلیف دہ ہے مگر محنت کی عظمت کے حوالے سے دیکھیں تو اس میں ایک خاص طرح کی نفسگی ، آہنگ اور ترنم بھی موجود ہوتا ہے۔

Advertisement

سوال نمبر ۳ : درج ذیل الفاظ کا تلفظ اعراب کے ذریعے واضح کیجیے۔
برق دسحاب ، چنگ در باب انجم اضطراب

جواب : بَرْقَ و سَحَابْ، چَنْگ و رَبابْ، اَنْجُمْ ، ِاِضْطِرَابْ.

سوال نمبر ۴ :

ترا شباب امانت ہے ساری دنیا کی
تو خار زار جہاں میں گلاب پیدا کر

اس شعر میں شاعر نے نوجوانوں کو بہت پاکیزہ اور تعمیری مشورہ دیا ہے۔ اس کی وضاحت تین چارسطروں میں کیجیے۔

Advertisement

جواب : جوانی ایک نعمت اور بے پناہ قوتوں اور جذبوں کی حامل ہے۔ یہ اللّه کی امانت اور نعمت ہے ۔ دوسری طرف معاشرہ بے انصافی ،بددیانتی اور استحصالی نظام کی وجہ سے جہنم بن چکا ہے۔ نو جوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی قوت سے بدی اور نا انصافی کو ختم کریں تا کہ یہ دنیا گل وگلزار بن جائے۔

سوال نمبر ۵ : ’’نوجوان سے خطاب“ میں شاعر نوجوانوں کو کیا پیغام دیتا ہے؟

جواب : اس نظم میں شاعر نوجوانوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ قوم کے نوجوانوں کو اپنی توانائیاں قوم کی بہتری ، انقلاب اور مثبت تبدیلی کے لیے وقف کردینی چاہئے اور انھیں معاشرے میں موجودہ ظلم اور استحصال کو ختم کرنے کے لیے اپنی جدو جہد اور کوشش جاری رکھنی چاہیے۔

Advertisement

سوال نمبر ۶ : اس نظم میں شاعر نے انقلاب کے حوالے سے کیا باتیں کی ہیں انھیں اپنے الفاظ میں لکھیں۔

جواب : انقلاب ہمیشہ قوت کا طالب ہوتا ہے۔ اس لیے کہ نوجوانوں کے پاس جوانی کی قوت اور توانائیاں موجود ہیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ پوری قوت سے اٹھ کھڑے ہوں اور معاشرے میں موجود ظلم، ناانصافی اور استحصال کا قلع قمع کر دیں۔ ضرورت پڑے تو جان کی قربانی دینے سے بھی نہ ڈریں کیونکہ خون دے کر ہی چمن کے مقدر کو سنوارا جاسکتا ہے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement