تعارف

اردو ادب کے افق پر برصغیر کے بہت سے ستارے جگ مگا رہے ہیں جن میں سے ایک اسرار الحق بھی ہیں۔اسرار الحق مجاز ۱۹ نومبر ۱۹۱۱ کو قصبہ رودولی ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے ان کا نام اسرار الحق ہے اور ان کا قلمی مجاز ہے۔

حالاتِ زندگی

لکھنؤ کی مخصوص تہذیب اور شعر و ادب کی سرزمین ہونے پر ان کو لکھنؤ سے اس قدر لگاؤ ہوا کہ اپنے تخلص میں لکھنؤی جوڑ لیا اور مجاز لکھنؤی کے نام سے مشہور و معروف ہوئے۔ آپ کا تعلق جماعت کے ذہین طالب علموں میں ہوتا تھا ۔ابتدائی تعلیم رودولی کی ایک درسگاہ میں ہوئی۔ پھر وہ لکھنؤ آگئے جہاں ان کے والد محکمۂ رجسٹریشن میں ہیڈ کلرک تھے۔

مجاز نے لکھنؤ کے امین آباد کے ہائی اسکول میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ چونکہ والد کا تبادلہ آگرہ میں ہو گیا، مجاز بھی آگرہ آئے اور ۱۹۲۹ میں اٹھارہ سال کی عمر میں آگرہ کے ایک کالج میں انٹر میڈیٹ میں داخل ہوگئے۔ آگرہ میں سائنس کے موضوعات لیے کیونکہ انہیں انجینئر بننے کا شوق تھا۔ جس محلے میں مکان ملا تھا وہاں مشہور غزل گو شاعر فانی بدایونی پڑوس میں رہتے تھے۔

1935ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کر کے 1936ء میں دہلی ریڈیو اسٹیشن سے شائع ہونے والے’آواز‘ کے پہلے مدیر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ کچھ عرصہ تک بمبئی انفارمیشن ڈیپارٹ منٹ میں بھی کام کیا اور پھر لکھنو آکر ’نیا ادب‘ اور ’پرچم‘ کی ادارت کی۔ اس کے بعد دہلی میں ہارڈنگ لائبریری سے وابستہ ہوگئے، مگر ان کی افتاد طبیعت نے ملازمت کی پاپندیاں برداشت نہ کیں اور اپنے کو پورے طور پر شاعری کے لیے وقف کردیا۔

شاعرانہ عظمت

مجاز کا نرم لہجہ، ان کے چنندہ مضامین کی رومانیت، احساس کا گداز اور تخیل کی سحر انگیزی ان کے اشعار میں اگر ایک سمت اردو غزل کی کلاسیکیت کے قریب تر کرتی ہے تو دوسری جانب اس عہد کے احوال و کوائف جو سیاسی، سماجی اقدار کے حامل ہیں ان کا پتہ دیتے ہیں اور ایسے ہی ترقی پسندی کے انقلابی موضوعات و اسالیب سے بھی متعارف کراتے ہیں۔

مجاز کے یہاں رومان اور انقلاب کا ایک ایسا حسین و دلکش پیرایا ہے جو ان کی انفرادیت کی وجہ ہے عمیق نظر سے دیکھا جائے تو ایسا امتزاج ان کے عہد کے کسی شاعر کے یہاں نہیں ملتا۔ مجاز کی شاعری میں ایک ایسی کسک ہے جسے پانا مشکل ہے۔ رومانس کو ان کے کلام میں مرکزیت حاصل ہے۔ رومانس کے ساتھ جتنی تڑپ مجاز نے پیدا کی اتنی شاید ہی کسی کے نصیب میں آئی ہو۔ اپنے فن کے ذریعے انہوں نے اپنے افکار کو پیش کیا۔ ان کی شاعری ان کی ذاتی زندگی اور خیالات کی عکاسی کرتی ہے۔ رومانی نظم میں پرکاری ہے جو سامعین کا بڑا حلقہ پیدا کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

تصانیف

ان کی مشہور تصانیف میں آہنگ ،کلام مجاز،مجاز اور اس کی شاعری،مجاز حیات اور شاعری،سازنو،شب تاب بہت مقبول ہیں اس کے ساتھ ساتھ ان کی کلیات مجاز ۲۰۰۲ میں شائع ہوئی۔ مجاز کی 44 سالہ زندگی پر نظر ڈالیں تو بحیثیت شاعر ان کی عمر اور بھی مختصر نظر آتی ہے۔

وصال

1955 کےدسمبر کی ایک رات چھت پر شراب نوشی شروع ہوئی اور دیر رات تک جاری رہی۔بدمستی کے عالم میں ان کے ساتھی ان کو چھت پر ہی چھوڑ کر اپنے اپنے گھروں کو چلے گئےاور اگلے دن وہ نیم مردہ حالت میں بےسدھ پڑےتھے۔ہسپتال پہنچایا گیا مگر وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔۵ دسمبر ۱۹۵۵ کو وہ اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔

منتخب کلام

اسرار الحق مجار کی خوبصورت غزل مندرجہ ذیل ہے۔

اسرار الحق مجاز کی نظم گریز

یہ جا کر کوئی بزم خوباں میں کہہ دو
کہ اب درخور بزم خوباں نہیں میں
مبارک تمہیں قصر و ایواں تمہارے
وہ دلدادۂ قصر و ایواں نہیں میں
جوانی بھی سرکش محبت بھی سرکش
وہ زندانی زلف پیچاں نہیں میں
تڑپ میری فطرت تڑپتا ہوں لیکن
وہ زخمیٔ پیکان مزگاں نہیں میں
دھڑکتا ہے دل اب بھی راتوں کو لیکن
وہ نوحہ گر درد ہجراں نہیں میں
بہ ایں تشنہ کامی بہ ایں تلخ کامی
رہین لب شکر افشاں نہیں میں
شراب و شبستاں کا مارا ہوں لیکن
وہ غرق شراب شبستاں نہیں میں
قسم نطق کی شعلہ افشانیوں کی
کہ شاعر تو ہوں اب غزل خواں نہیں میں

Quiz on Asrar Ul Haq Majaz

اسرار الحق مجاز 1
Advertisements