Advertisement
  • شاعر : علامہ اقبال
  • ماخوذ از : بالِ جبریل

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام علامہ اقبال ہے۔ یہ غزل بالِ جبریل سے ماخوذ کی گئی ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر :

شیخ محمد اقبال سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا ، ضربِ کلیم ، بالِ جبریل اور ارمغان حجاز ان کے اردو کلام پر مشتمل کتابیں ہیں۔ پہلے وطن دوستی پھر ملت دوستی اور پھر انسان دوستی ان کی شاعری کے اہم موضوعات ہیں۔ آپ نے مسلمانوں کے سیاسی شعور کو صحیح سمت عطا کی۔

Advertisement

شعر نمبر ۱ :

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی

تشریح : اس شعر میں علامہ اقبال نے عشقِ حقیقی کا ذکر کیا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ عشق کا جذبہ انسان کو اپنی ذات کی پہچان دیتا ہے شعور عطا کرتا ہے۔ اور انسان کو اس کی اصلیت بتاتا ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے اسے اللہ نے تمام مخلوقات میں بلند درجہ دیا ہے اور جب کسی میں یہ جذبہ بیدار ہوجاتا ہے تو اس میں غلامی سے نجات کے لیے قوت پیدا ہوجاتی ہے۔ اور یہی خودی اس کی غلامی سوچ کو بدل کر بادشاہت کی طرف لاتی ہے اور اس میں بادشاہت کرنے کے جوہر پیدا ہوجاتے ہیں۔ تاریخ میں کئی ایسے نام ہیں جہنوں نے آگاہی کے بعد شہنشاہوں کی سی زندگی گزاری ہے۔

Advertisement

شعر نمبر ۲ :

عطّارؔ ہو، رومیؔ ہو، رازیؔ ہو، غزالیؔ ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحَرگاہی

تشریح : اس شعر میں علامہ اقبال کہتے ہیں کہ انسان کتنا بھی دانشور اور علقمند کیوں نہ ہو جب تک وہ اللہ کے دربار میں نہیں جھکتا دین کی طرف رغبت نہیں کرتا ، اور رات کے آخری پہر رب سے ملاقات نہیں کرتا تو وہ کچھ بھی نہیں ہے۔

علامہ اقبا اس شعر میں مشہور صوفی شعراء فرید الدین عطار ، مولانا جلال الدین رومی اور مفسر فخرالدین رازی اور ماہر حکمت و فلسفہ امام غزالی کا ذکر کرتے ہوئےکہتے ہیں کہ ان کا تصوف ، شاعری ، مفسری ،حمکت اور فلسفہ کچھ بھی نہیں جب تک ان کے دل میں قرب اللہ نہیں۔
سحر گاہی انسان کو اللہ کا قرب عطا کرتی ہے۔

Advertisement

شعر نمبر ۳ :

نَومید نہ ہو ان سے اے رہبرِ فرزانہ!
کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی

تشریح:اس شعر میں علامہ اقبال کہتے ہیں کہ قوم کے رہبروں کو اپنی قوم کی نااہلی سستی اور لاپرواہی والی زندگی ہر بہت افسوس اور اعتراض ہے۔ اقبال رہنماؤں سے کہتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کی حالت سے مایوسی کا شکار نہ ہوں۔ ان کی قوم آرام طلبی کی عادت کی وجہ سے زندگی کے مقاصد کی طرف راغب نہیں ہورہی مگر وہ اپنی زندگی کے حقیقی مقاصد سے بخوبی واقف ہیں ضرورت ہے تو اس کے سوئے جذبے بیدار کرنے کی ، ان کو محنت کی طرف راغب کرنے کی ان کو صحیح راہ دیکھانے کی اور ان کی اصلاح کرنے کی پھر وہ آپ کے ساتھ چل کر کامیابی کی منزل پر پہنچیں گے۔

شعر نمبر ۴ :

اے طائرِ لاہُوتی! اُس رزق سے موت اچھّی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

تشریح : اس شعر میں علامہ اقبال اپنی قوم کو طاہر لاہوتی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ علامہ اقبال قوم سے کہتے ہیں کہ اس وقت ہمارا مسئلہ رزق اور روٹی کا ہی ہے۔ حصول رزق آسان کام نہیں ہے اس کے لیے انسان اپنی زندگی کا آرام سکون سب برباد کرتا ہے۔ اور حصولِ رزق کے لیے صبح سے شام تک کام کرتا ہے۔ لیکن تلاش رزق میں اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ رزق حلال ہو۔ کیونکہ تلاش رزق انسان کو اچھے برے کی تمیز بھلا دیتی ہے اور وہ اس کے لیے ہر غلط صحیح کام کا جائز سمجھ کر کرتا ہے۔ اس لیے اقبال نے قوم کو تنبیہہ کی ہے کہ وہ رزق جس کے حصول کے لیے غلط راہ کا انتخاب کیا گیا ہو یا جس سے انسان اپنے رب سے دور ہوجائے سیدھی راہ سے ہٹ جائے ایسے رزق کا نہ ہونا ہی بہتر ہے۔

Advertisement

شعر نمبر ۵ :

دارا و سکندر سے وہ مردِ فقیر اَولیٰ
ہو جس کی فقیری میں بُوئے اسَد اللّٰہی

تشریح : اس شعر میں علامہ اقبال نے دنیا کے دو بڑے بادشاہوں دارا اور سکندر کا ذکر کیا ہے۔
اقبال کہتے ہیں کہ یہ دو بادشاہ ہیں جنہوں نے اپنے وقت پر ایک بہت بڑی سلطنت پر حکمرانی کی ہے اور نہایت شان و شوکت والی زندگی بسر کی ہے جن کی بادشاہت کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ لیکن ان کی مقابلے میں وہ فقیر بہتر ہے جس کے پاس بادشاہوں جیسا مال و زر نہیں روب و دبدبا نہیں مگر انہیں اللہ کا قرب حاصل ہے۔ جس کے اندر حضرت علی کرم اللہ وجہہ جیسی شجاعت اور درویشی صفات ہوں۔ کیونکہ یہ دنیاوی عیش و عشرت انسان کے کسی کام کی نہیں یہ یہی رہ جائیں گی وہاں صرف انسان کے اعمال اس کے ساتھ جائیں گے۔

شعر نمبر ۶ :

آئینِ جوان مرداں، حق گوئی و بےباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں رُوباہی

تشریح :اس شعر میں علامہ اقبال نے قوم کو ہمت اور حوصلے کا پیغام دیا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ انسان کو زندگی میں کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان مشکلات سے نمٹنا پڑتا ہے۔
اقبال کہتے ہیں کہ زندگی میں مشکلات کیسی بھی آجائیں اگر ہم بے خوفی کے ساتھ ان کا مقابلہ کریں گے اور دل میں اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہیں رکھیں گے تو وہ باآسانی ان حالات سے نمٹ سکیں گے۔ اقبال کہتے ہیں کہ جو حق کی راہ پر چلتا ہے اور جس کے دل میں الله سبحان تعالیٰ کی ذات پختہ یقین ہوگا انہیں کوئی چیز کامیابی پانے سے روک نہیں سکتی ان کو ڈرا نہیں سکتی۔ اور ان کے دل و دماغ میں کبھی مکاری نہیں آتی۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement