Back to: تحسینہ ماوینکٹی کے نوٹس
ابوالکلام آزاد کا ایک معروف خطبہ صدارت “خطبۂ صدارت رام گڑھ” ہے، جو انہوں نے 1940ء میں انڈین نیشنل کانگریس کے رام گڑھ اجلاس میں دیا تھا۔ اس خطبہ میں انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کی سیاسی صورتحال، قومی یکجہتی، اور آزادی کی تحریک پر روشنی ڈالی تھی۔ یہاں اس خطبہ کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے:
ابوالکلام آزاد نے اس خطبہ میں زور دیا کہ ہندوستان کے مسلمان اور ہندو دونوں ایک ہی ملک کے باشندے ہیں، اور ان کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک ایک مشترکہ جدو جہد ہے اور مسلمانوں کو اس میں مکمل حصہ لینا چاہئے۔
آزاد نے برطانوی حکومت کی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ ہندوستان کی قومی یکجہتی کے لیے خطرناک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان کی آزادی کے لیے تمام قوموں، مذاہب، اور زبانوں کے لوگوں کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ کانگریس میں شامل ہوں اور آزادی کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔ آزاد نے زور دیا کہ ہندوستان کے مسلمان نہ صرف اپنے مذہب کی حفاظت کے لیے، بلکہ قومی اتحاد اور آزادی کے حصول کے لیے بھی کام کریں۔
آزاد کے اس خطبہ میں ان کی دور اندیشی، قومی یکجہتی پر ایمان اور مسلمانوں کے لیے حقیقی رہنمائی کی جھلک نظر آتی ہے۔ انہوں نے برطانوی سامراج کے خلاف ایک متحدہ محاذ بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ صرف متحد ہو کر ہی ہم آزادی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ خطبہ ابوالکلام آزاد کی فکری گہرائی اور قومی اتحاد کے لیے ان کی وابستگی کا بہترین نمونہ ہے۔
| ✍ | Tahaseena Mavinkatti |