فارسی میں غزل کی روایت

0

فارسی میں غزل کی روایت

ایران ایک ایسا ملک ہے جہاں غزل جیسی عشقیہ شاعری کو اتنی ترقی ہوئی کہ کسی دوسری صنف سخن کو نہیں ہوئی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایران میں مدت دراز کے تمدن نے انسانی جذبات کو نہایت لطیف اور زود اشتعال بنا دیا تھا اور ذرا سی تحریک پر یہ شعلہ بھڑک اٹھتا تھا۔

فارسی شاعری کی ابتداء قصید سے ہوئی اور قصیدے کی ابتداء عشقیہ اشعار لکھ کر کی جاتی تھی جسے تشبیب کہا جاتا تھا۔ ایک مدت کے بعد جب اسی قصیدہ کے ابتدائی حصے کو الگ سے لکھا جانے لگا تو غزل بن گئی۔

سب سے پہلے رودکی کے زمانے میں فارسی میں غزل ملتی ہے جو تیسری صدی ہجری کی یادگار ہے۔ اس کے بعد چوتھی صدی ہجری میں دقیقی کی غزل ملتی ہے۔ اس زمانے میں فارسی میں غزل قصیدہ کی روش پر ہی چلتی رہی یعنی جس طرح قصیدہ میں ممدوح کی تعریف ہوتی ہے اسی طرح غزل میں معشوق کی تعریف ہوتی تھی۔ محبوب کے حسن و جمال، ناز و ادا اور جور و جفا کا بیان ہوتا تھا۔

ایک مدت تک فارسی میں غزل اسی نج پر پنپتی رہی، اس میں کوئی نمایاں ترقی نہ ہوئی اس کا ایک سبب یہی تھا کہ ایک مدت تک قصیدہ ہی کو شاعری کا کمال سمجھا جاتا تھا۔ قصیدہ گو شعراءپر زوروگوہر کی بارش ہوتی تھی اور اسی میں ایک شاعر دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتا تھا۔

اس دور میں غزل کی ترقی میں رکاوٹ کا دوسرا سبب یہ تھا کہ غزل کی تحریک کے لیے عشق و محبت کے جذبات کی فراوانی چاہیے جبکہ ایران میں ایک مدت تک صرف جنگ و جدل کا زور رہا اور چین و آرام کی زندگی کے لیے فضا ہموار نہ رہی۔ چنانچہ پانچویں صدی ہجری تک غزل کی ترقی رکی رہی لیکن اس کے بعد غزل کی روایت میں بڑی تیزی سے ترقی ہونے لگی۔

پانچویں صدی میں ہوا یہ کہ تصوف کو کافی ترقی ملی۔ تصوف کا تعلق تمام تر واردات قلبی اور جذبات عشق سے ہوتا ہے اور عشق و محبت کی تعلیم تصوف کا نمایاں عنصر ہے اور یہی سے صنف غزل کی بھی بنیاد بنتی ہے۔

چنانچہ سب سے پہلے صوفی شاعر حکیم سنائی نے غزل کو ترقی دی۔ ان کے بعد بہت بڑے صوفی عالم اوحدی نے غزل کو جذبات سے لبریز کر دیا اور زبان کے نزاکت، صفائی، روانی اور سلاست سے بھی غزل کو سنوار دیا۔

اوحدی کے بعد خواجہ فرید الدین عطار، مولانا روم عراقی شعراء نے غزل کو نہایت ترقی دی۔ یہ لوگ چونکہ عشق حقیقی پر جان دیتے تھے اس لیے ان کے کلام میں بھی حقیقت کا پہلو غالب تھا۔

اسی زمانے میں شیخ سعدی بھی غزل میں طبع آزمائی کرنے لگے۔ وہ فطرتاً شاعر تھے انہوں نے عشق و عاشقی میں ایک مدت بسر کی تھی اور آخر کا تصوف کے حلقے میں آگئے تھے، اس کے علاوہ زبان پر خداداد عبور رکھتے تھے۔ ان تمام باتوں نے ان کی غزل میں وہ اثر پیدا کر دیا کہ سارے ایران میں آگ لگ گئی اور لوگوں نے غزل کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔

سعدی کے بعد خسرو اور حسن نے غزل کے نشہ کو تیز کر دیا۔ ان کے بعد سلمان اور خواجو غزل کے کوچے میں آگئے لیکن دونوں میں تصوف سے کوئی خاص لگاو نہ تھا اس لیے ان کی غزل کے پھولوں میں رنگ تو تھا لیکن بو نہ تھی۔ یہ دونوں اس روایت کو آگے بڑھا ہی رہے تھے کہ خواجہ حافظ نے غزل گوئی شروع کر دی اور انھوں نے اس جوش سے یہ نغمہ چھیڑا کہ زمین سے آسمان تک اسی کی گونج سنائی دینے لگی۔ ان کے اثر سے عرفی، نظیری، صائب اور کلیم نے بھی فارسی غزل کو تمدنی، اخلاقی معاشرتی اور پند و موعظت کے مضامین سے آراستہ کرنا شروع کر دیا اور غزل کے تغزل کو دھکا نہ پہنچایا۔

خواجہ حافظ کے بعد فارسی کی غزل گوئی میں تقریبا ڈیڑھ سو برس تک جمود آگیا کیونکہ کوئی ان سے بڑا غزل گو پیدا نہ ہوا مگر اس کے بعد آہستہ آہستہ یہ جمود چھٹنا شروع ہوا حکومت صوفیہ کا اغاز ہوا تو ایران پر ایک پرامن فضا قائم ہونے لگی اور شرافت اور فضل و کمال کی قدردانی بھی شروع ہو گئی۔

اس خاندان کے بعض حکمران ایسے تھے جو شعرا کو راستے میں دیکھتے تو سواری سے اتر کر ان کی عزت افزائی کرتے۔ ہندوستان میں بھی اسی زمانے میں تیموری خاندان کے سلاطین شعراء پر فیاضی کی بارش کر رہے تھے۔ اس زمانے میں حالانکہ تصوف کے اعتبار سے شاعری پر ضرب پڑی لیکن ہر طرز کی غزل پنپنے لگی۔ صوفیہ دور حکومت فارسی غزل گوئی کے حق میں جدید دور تھا۔ بابا فغانی اس دور کے بابا آدم تھے۔

Tahaseena Mavinkatti