فردوسی کی حالات زندگی

0

فردوسی

فردوسی ایران کے ایک عظیم المرتبت شاعر تھے انہوں نے شاہ نامہ لکھ کر ایران کے قومی تاریخ اور داستان سرائی کے فن کو از سر نو زندہ کیا تھا۔ فردوسی کا پورا نام حسن بن اسحاق بن شرف کنیت عبدالقاسم اور تخلص فردوسی تھا۔ فردوسی کی تاریخ پیدائش کے بارے میں کوئی سند نہیں پائی جاتی۔ صرف اتنا معلوم ہے کہ ان کی ولادت شاید 330 ہجری میں ہوئی ہوگی۔ وہ صوبے طوس کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے اور اس سے قریب ایک مقام طابران میں مقیم رہے۔

“شاہ نامہ فردوسی” فردوسی کا زندہ جاوید کارنامہ ہے۔ فردوسی نے اپنے ملک کا نام زندہ رکھنے کے لیے اسے بادشاہ کے حکم سے بڑی محنت سے تخلیق کیا تھا۔ شاہنامہ نویسی کا رواج ایران میں کافی قدیم تھا اور شاہ ناموں میں بادشاہوں اور پہلوانوں کی طرح طرح کی داستانیں ہوتی تھیں اور یہ مثنوی کے پیرائے میں لکھی جاتی تھیں۔ فردوسی کے شاہ نامے میں یہ فن اپنے کمال عروج پر پہنچ گیا۔

فردوسی نے اپنے شاہ نامے کی ابتدا میں حمد و ثنا نعت و منقبت، دانش و خرد کی تعریف اور شاہ نامے نویسی کی تاریخ نظم کی ہے۔ انہوں نے مخلوقات کی پیدائش، وجود کا عناصر، ان کی ترتیب اور انقلابات زمانہ جیسے فلسفیانہ نکات و مسائل کو اتنے سادہ اور صاف الفاظ میں بیان کیا ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ ان باتوں کے بعد اصل داستان شروع کی گئی ہے پہلے کیومرث کا ذکر آیا ہے جو ایران کا پہلا داستانی بادشاہ تھا۔ اس کے بعد اختتام تک 50 بادشاہ کا ذکر، ان کے عہد کے حالات، ان کے وزیروں اور پہلوانوں کے بزم و رزم کی داستانیں اس طرح قلم بند کی گئی ہے کہ ایران کی ایک مکمل تفصیل و قدیم تاریخ سامنے آجاتی ہے۔ آخر میں عربوں کے ہاتھوں ایران کے آخری بادشاہ کی شکست اور ایران پر ان کے قبضہ کا ذکر ملتا ہے۔ 50 بادشاہوں کے ذکر کے لیے شاہ نامے کو 50 فصلوں میں ترتیب دیا گیا ہے اور ہر فصل ایک بادشاہ کے لیےمخصوص ہے۔ افسانوی اسلوب اور شاعرانہ خوبیوں کی بنیاد پر اس شاہنامے کو ادبی کارنامہ کہا جاتا ہے اور ایران کی کسی بھی قدیم تاریخ کو شاہ نامہ فردوسی سے زیادہ صحیح اور مفصل نہیں سمجھا جاتا۔ فردوسی کے دور سے لے کر آج تک بھی ایران کی تاریخیں لکھنے والوں نے شاہ نامہ فردوسی کو نظر انداز نہیں کیا ہے، وہ اپنے تاریخوں میں جا بجا شاہنامے کا حوالہ دیتے ائے ہیں۔

شاہنامے کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ فردوسی کا مطالعہ کافی وسیع تھا، انہیں فارسی زبان کے استعمال پر کافی قدرت حاصل تھی اور شاعری کے فن پر عبور تھا۔ فردوسی کو واقعہ نگاری اور جذبات انسانی کے اظہار میں پیشرو اور امام کی حیثیت حاصل ہے۔ وہ واقعات اور حالات کے جزئیات اس طرح بیان کرتے ہیں کہ پوری تصویر انکھوں کے اگے گھومنے لگتی ہے۔ فطری مناظر کی عکاسی مثلاً آفتاب کے طلوع و غروب کا سماں، رات کی تاریکی، افق کی رنگا رنگی اور باغ و کوہسار کے نظارے وغیرہ میں فردوسی نے کمال دکھایا ہے۔

شاہ نامے میں اختصار اور زور و بیان کی بھی بہترین مثالیں ملتی ہیں۔ فردوسی نے جوانوں کے مارے جانے، پہلوانوں کی دنیا سے اٹھ جانے، خاندانوں کے اجڑ جانے اور سرداروں کے اقتدار حاصل کرنے وغیرہ واقعات میں ڈوب کر انہیں اس طرح بیان کیا ہے کہ ان سے عبرت انگیز اور حکیمانہ نتائج برآمد ہوتے ہیں جو ساری متمدن دنیا کے لیے دستور زندگی بن سکتے ہیں کئی مقامات پر فردوسی کے اسلامی علوم و معارف اور قرآنی نکات سے گہری واقفیت کا پتہ چلتا ہے اور جادو بھری کارآمد نصیحتیں ملتی ہیں۔ فردوسی نے یہ شاہکار اس وقت لکھا ہے جب ایرانی زبان اور ادبیات کی اہمیت عربی ادبیات کے زیر اثر گھٹ کر رہ گئی تھی۔ انہوں نے اپنے کلام کی پختگی، اسلوب کی دلکشی اور ادبی لطافتوں سے فارسی زبان کو حد کمال تک پہنچا کر آنے والی نسلوں کے لیے ایک نادر نمونہ پیش کر دیا۔

فردوسی کے کلام میں کئی مثنویاں، قصائد، قطعے، رباعیاں اور غزلیں شامل ہیں۔ ایران میں 1313 ہجری میں اپنے اس عظیم المرتبت شاعر کا ہزار سالہ جشن منایا گیا جس میں 16 ملکوں کے نمائندے بڑے بڑے عالم اور مستشرق مدعو تھے۔

تحریرتحسین فاطمہ