پروین اعتصامی کی حالات زندگی

0

پروین اعتصامی

جدید ایران کے فارسی ادب میں پروین اعتصامی کا نام خصوصی امتیاز کا حامل ہے وہ ایران کی پہلی خاتون شاعر ہیں جنہیں کسی صنفی امتیاز کے بغیر ایران کی ایک عظیم شاعرہ تسلیم کر لیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری کی بنیاد روز مرہ زندگی کی حقیقتوں پر رکھی جس کی وجہ سے وہ عام انسانوں کے احساسات کی زبان بن گئیں۔ انہوں نے اپنی شاعری کے لیے سعدی و حافظ کی اس کلاسیکی اسلوب کا انتخاب کیا جس سے معمولی فارسی پڑھنے والے بھی صدیوں سے مانوس ہے۔

حالات زندگی:

پروین کی پیدائش 16 مارچ 1907ء کو ایران کے مشہور شہر تبریز میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام مرزا یوسف اے اعتصامی اشتیانی ہے۔ ان کے دادا مرزا ابراہیم خان مصطفوی اشتیانی کو قاچار حکومت کی طرف سے اعتصام الملک کا خطاب عطا ہوا تھا۔ وہ صوبہ ء آذربائیجان کے مہتمم مالیات کے عہدے پر فائز تھے۔

پروین کی کم سنی ہی می یعنی 1912ء میں ان کے خاندان تہران کو منتقل ہو گیا۔ ان کے والد نہایت روشن خیال تھے اور اپنے زمانے کی ایک ممتاز ادبی شخصیت تھے۔ ان کےا پنے گھر میں سید نصر اللہ تقاوی،‌ علی اکبر دہ خدا اور ملک الشعراء بہار جیسے جید علمائے عصر، ادیبوں اور شاعروں کی آمد و رفت رہتی تھی۔ وہ عربی اور فرانسیسی زبان کے ماہر تھے اور ان کے ہاں قاہرہ، دمشق، بغداد، کاکیشیا(قفقاز)اور یوروپ کےمختلف شہروں سے نہ صرف یہ کہ عصری رسائل آتے رہتے تھے بلکہ ان کا کتب خانہ تازہ با تازہ کتابوں سے مزین رہتا تھا۔

پروین کی تربیت اسی علمی اور ادبی ماحول میں ہوئی اور ان کے خداداد جوہر کو جلا حاصل ہوئی۔ مطالعے اور بلند پایا ادبی شخصیتوں کی ہم نشینی میں پروین کو اپنے عہد کا افکار و تصورات سے بلا راست آگاہی حاصل کرنے کا موقع ملا اور ان کے ادبی صلاحیتیں روز بروز نکھرتی چلی گئیں۔ ان کے والد نے بچپن ہی سے اپنی بیٹی کو عربی زبان کے علاوہ کلاسیکی فارسی ادب کے رموز و نکات کا گہرا شعور بخشا۔ اس کے علاوہ انہیں صغرا سنی ہی سے ادبی محفلوں میں اپنے ہمراہ رکھتے تھے۔ اس کے نتیجے میں پروین کو فارسی ادب سے غیر معمولی دلچسپی پیدا ہو گئی۔ بہت کم سنی میں انہوں نے شعر کہنا شروع کر دیا تھا۔ ان کے والد نے بعض مغربی ادب پاروں کا ترجمہ کیا تھا اور پروین نے آٹھ برس کی عمر میں اپنے والد کی رہنمائی میں ان کو منظوم صورت عطا کی۔

چونکہ پروین کا تعلق طبقہ ء اشرفیہ سے تھا۔ اس لیے ان کی تعلیم بھی اعلیٰ پیمانے پر ہوئی۔ تہران میں ان کی تعلیم امریکن گرلس اسکول میں ہوئی۔ اسی دوران انہوں نے اپنے والدین کے ساتھ ایران کے مختلف صوبوں اور مغربی ممالک کی سیاحت کی۔ انہوں نے 1923ء میں گریجویشن کیا اور کچھ عرصہ اپنے مادر علمی میں معلمی کے فرائض انجام دیں۔ 28 سال کی عمر میں ان کی شادی والد کے ایک عزیز سے ہوئی جو پولیس میں افسر تھے۔ بدقسمتی سے ان کے شوہر میں دو عیب ایسے تھے جو پروین کسی طرح برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔ یعنی منشیات کی لت اور رشوت خوری۔ پروین نے تنگ آ کر صرف ڈھائی ماہ کی ازدواجی زندگی کے بعد شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی اور باپ کے گھر لوٹ آئیں۔

پروین کی نظموں کا مجموعہ دیوان اشعار کے نام سے 1935 عیسوی میں شائع ہوا۔ اس وقت تک ان کی شہرت بام عروج پر پہنچ چکی تھی۔ ان کے دیوان پر ملک الشعراء بہار نے مقدمہ لکھا۔ اس تصنیف پر پروین کو حکومت ایران نے 1936 عیسوی میں آرٹ اینڈ کلچر کا انعام عطا کیا۔ اسی سال انہوں نے دانش سرائے عالی سے ملحق اساتذہ کی تربیتی کالج میں لائبریرین کی ملازمت اختیار کی لیکن کچھ عرصے بعد اسے بھی خیر بات کہہ دیا۔ 1938 عیسوی میں ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس صدمے نے انہیں جھنجوڑ کر رکھ دیا شفیق باپ کی سرپرستی سے محرومی کا غم ان کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ ثابت ہوا۔ وہ دینوی بھی معاملات اور بیرونی دنیا سے تقریباً کنارہ کش ہو کر گوشہ نشین ہو گئیں۔ تین ہی سال کے اندر اندر وہ بخار میں مبتلا ہو کر 34 سال کی ناپختہ عمر میں 5 اپریل 1941 عیسوی کو اس دارفانی سے کوچ کر گئیں۔ وہ شہر قوم میں اپنے والد کے پہلو میں مدفون ہیں۔

تحسین فاطمہتحریر