Back to: تحسینہ ماوینکٹی کے نوٹس
فارسی میں قصیدہ گوئی
جس زمانے میں فارسی شاعری کا آغاز ہوا عرب کی شاعری مدحیہ قصائد کے حامل تھی اس لیے ایرانی شعراء نے بھی انہی کی تلقید کی اس کے علاوہ صلہ اور انعام کی توقع صرف قصیدہ سے ہوسکتی تھی۔ انہی وجوہات کی بنا پر ایران میں شاعری کی ابتدا قصیدہ گوئی سے ہوئی۔
عرب میں مدحیہ قصائد کا یہ انداز تھا کہ تمہید میں عشقیہ اشعار ہوتے تھے جن کو تشبیب کہتے ہیں، پھر کسی تقریب سے ممدوح کا ذکر کرتے تھے جس کو گریز کہا جاتا ہے۔ مدح کے بعد دعا پر خاتمہ ہوتا تھا۔ فارسی میں بھی ان باتوں کی تلقید کی گئی۔ قصیدے کے حسن کا معیار تین چیزیں سمجھی جاتی تھیں۔
“مطلع” یعنی قصیدہ کا پہلا شعر جسے پرشوکت ہونا چاہیے تھا۔ “گریز” یا “تلخیص” یعنی ممدوح کا ذکر جسے بلاقصد برملا ہوجانا چاہیے گویا کہ بات میں بات پیدا کی جا رہی ہو اور “مقطع” یعنی خاتمہ جس کو نہایت عمدگی کے ساتھ انجام پانا تھا۔
یہی تینوں چیزیں فارسی میں بھی قصیدے کا معیار قرار پائیں۔ قصیدہ گوئی کے تین ادوار ہیں جن کی خصوصیات ایک دوسرے سے علاحدہ ہیں اور یہ ادوار ہیں مقتدمین، متوسطین اور متاخرین۔
خاقانی فارسی قصیدہ گوئی کا امام سمجھا جاتا تھا اس نے فارسی قصیدہ گوئی میں ایک خاص انداز ایجاد کیا جو اس کے ساتھ مخصوص ہیں اس نے پہلی بار اپنے قصیدوں میں نہایت کثرت سے مختلف علوم و فنون کی اصلاحیں تلمیحات اور استعارات کا استعمال کر کے قصیدے کے معیار کو بڑھایا ہے۔
سلاطین صوفیہ کے دور میں فارسی قصیدہ نگاری کو مزید ترقی حاصل ہوئی۔حسین شائی، محتشم کاشی، شنجر کاشانی نے فارسی قصیدہ کو بہت ترقی دی۔ عرفی نے اسے آسمان تک پہنچا دیا۔ اس نے الفاظ کی شان و شوکت، ترکیبوں کی چستی کے علاوہ سینکڑوں نئے مضامین پیدا کیں۔ عرفی کے بعد طالب آملی، مشتاق اصفہانی نے صنف قصیدہ کو چارچاند لگا دئے۔ اس طرح فارسی قصیدہ گوئی ہر دور میں ترقی کی منزلیں طے کرتی چلی گئیں۔
| ✍ | Tahaseena Mavinkatti |