نظم نوائے وقت کا خلاصہ

0

نظم نوائے وقت کا خلاصہ

نوائے وقت علامہ اقبال کی ایک شاہکار نظم ہے۔اس نظم میں علامہ اقبال نے بہترین انداز میں وقت کی اہمیت کو ظاہر کیا ہے۔ یہ نظم ایک طرح سے خدا تعالی کے اس قول کی تشریح ہے کہ “زمانے کو برا مت کہو ، میں ہی زمانہ ہوں” یہ نظم علامہ اقبال کے مجموعہ کلام” پیام مشرق ” میں شامل ہے ۔ اس نظم میں اقبال نے نہ صرف اپنے لطیف اور دلکش انداز بیان کا جادو جگایا ہے بلکہ اپنی اعجاز بیانی کا ثبوت بھی پیش کر دیا ہے۔ انھوں نے اس میں الفاظ کو اس کمال مہارت کے ساتھ استعمال کیا ہے کہ صرف پانچ پانچ مصرعوں پر مشتمل پانچ بندوں کو کوزہ میں معانی کا ایک دریا جوش و روانی کے ساتھ موجیں مار رہا ہے۔

اس نظم میں وقت انسان سے مخاطب ہے اور کہہ رہا ہے کہ سورج میرے دامن میں ہے، تارے میرے گریبان میں ہیں، یعنی میں ہی دن ہوں اور میں ہی رات ہوں تو نے اگر مجھے دیکھنا ہے تو میں کچھ بھی نہیں ہوں لیکن اگر تو اپنے اندر دیکھے تو میں ہی تیری روح ہوں۔ میں شہروں میں بھی ہوں، بیابانوں میں بھی ہوں اور محلوں اور شبستانوں میں بھی ہوں، درد بھی میں ہوں اور دوا بھی میں ہوں اور عیش فراواں بھی میں ہی ہوں۔ میں دنیا کو خاک کر دینے والی تلوار بھی ہوں اور اس کو ہمیشہ زندہ رکھنے والا آب حیات کا چشمہ بھی۔

دوسرے بند میں وقت کہتا ہے کہ چنگیز اور تیمور جیسے بادشاہوں کی کیا حقیقت ہے؟ یہ تو میری ایک مٹی خاک ہیں اور یوروپ کے تمام ہنگامے میرے شعلہ سے اڑی ہوئی ایک چنگاری ہیں، انسان اور اس کی سجائی ہوئی یہ دنیا میرے ہی سجائے ہوئے نقش ہیں لیکن با حوصلہ انسانوں کا خون جگر میری بہار کا باعث بن جاتا ہے، میں خاک کر دینے والی آگ بھی ہوں اور راحت پہنچانے والی جنت بھی ہوں۔

وقت مزید یہ بھی کہتا ہے کہ یہ ایک عجیب تماشہ ہے کہ میں ٹھہرا ہوا بھی ہوں اور چلنے والا بھی ہوں، میرے حال کے اندر آنے والے دنوں کی یعنی مستقبل کی جھلک پائی جاتی ہے۔ میرے ضمیر میں صدہا خوشنما دنیائیں بسی ہوئی ہیں، مجھ میں ڈوبنے اور ابھرنے والے کئی ستارے بھی ہیں اور سینکڑوں آسمان بھی ہیں، میں انسان کی پوشاک بھی ہوں اور خدائے تعالی کا جامہ بھی ہوں۔

آگے بڑھ کر وقت کہتا ہے کہ تقدیر جسے کہتے ہیں وہ میرا چلایا ہوا طلسم ہے اور تدبیر جو انسان کرتا ہے وہ تیرا جادو ہے۔ تو لیلیٰ کا عاشق بن کر صحرا انوردی کرتا ہے لیکن تیری دیوانگی کا صحرا دراصل میں ہی ہوں تو میرے اندر ہی دوڑ بھاگ کر رہا ہے۔ میں روح کی طرح پاک ہوں اور تیرے اندر پائے جانے والے کینہ کپٹ کا مجھ میں کوئی گزر نہیں ہے تو میرے سینے کا راز ہے اور میں تیرے سینے کا راز ہوں، میں تیری جان سے ظاہر بھی ہوں اور تیری جان میں پنہاں بھی ہوں۔

میں مسافر ہوں اور تو میری منزل ہے اور میں کھیت ہوں اور تم اس میں بوئی ہوئی فصل ہے، اس کا حاصل ہے۔ تو ایک ایسا ساز ہے جس سے سینکڑوں قسم کے آوازیں نکل سکتی ہیں اور تو ہی اس بزم کی گرمی کا باعث ہے۔ اے آب و گل کی دنیا میں یعنی اس مادی دنیا کی چاہت میں، بھٹکنے والے انسان تو اپنے مقام دل کو سمجھنے کی کوشش۔ اپنے دل کے اندر جو خزانہ پوشیدہ اسے دیکھ۔ اس میں تو ایک بڑا سمندر سمایا ہوا ہے ایک ایسا سمندر جس کے کنارے تجھے دور دور تک دکھائی نہیں دیتے ہیں اور تیرے اس سمندر سے اگر ایک موج بھی بلند ہو جائے تو ایک طوفان پیدا ہو جاتا ہے جو دراصل میں ہوں۔

از قلمتحسینہ ماونکٹی