Back to: تحسینہ ماوینکٹی کے نوٹس
حالات زندگی:
جلال الملک ایرج مرزا عہد حاضر میں ایران کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ اکتوبر 1874 ء کو شہر تبریز میں پیدا ہوئے ۔ ان کا نسبی سلسلہ فتح علی قا چار سے ملتا ہے جو قا چار خاندان کے دوسرے شهنشاه ایران(1854-1797) ء تھے۔ ان کے والد کا نام غلام حسین مرزا تھا۔ وہ مظفر الدین مرزاولد ناصر الدین شاه، بادشاه ایران کے دربار میں ملک الشعراء کے منصب پر فائز تھے۔ ایرج مرزا کی تعلیم تبریز ہی میں دارالفنون میں ہوئی۔ بہت کم سنی میں انہوں نے فرانسیسی، عربی اور ترکی زبانوں میں مہارت حاصل کر لی تھی۔ وہ بہت اچھے خوش نویس بھی تھے۔ سولہ برس کی عمر میں ان کی شادی ہوگئی اور بد قسمتی سے انیس برس میں والدین کی سر پرستی سے محروم ہو گئے ۔ اسی عمر میں انہیں اپنے والد کے منصب جلیلہ پر فائز کیا گیا یعنی وہ ملک الشعراء مقرر ہو گئے جو بہت بڑا اعزاز تھا۔ جب مظفر الدین شاہ 1894ء میں تخت نشین ہوئے تو انہیں صدر الشعراء کا منصب تفویض کیا گیا اور جلال الممالک کے خطاب سے نوازا گیا۔
چند ہی برس گزرے تھے کہ انہوں نے اس منصب کو خیر باد کہا اور مشرقی آذربائجان کے گورنر امین الدولہ کے دربار سے وابستہ ہو گئے ۔ اس دوران انہوں نے روسی زبان پر بھی عبور حاصل کر لیا تھا۔ 1905 ء میں جب امین الدولہ کو تہران منتقل کر دیا گیا تو وہ بھی اس کے ہمراہ تہران آگئے۔ اس دوران ایرانی مشروطیت کا غلغلہ بلند ہو چکاتھا یعنی ملوکیت کے خلاف جمہوریت کے قیام کی تحریک شروع ہوگئی تھی۔ ایرج مرزا بھی ملوکیت سے آزادی کی اس تحریک میں شامل ہو گئے۔ 1907ء میں وہ احمد غوم شاہ کے ہمراہ یوروپ کے دورے پر گئے۔ تہران کو واپسی کے بعد ایرج مرزا دارالانشاء سے وابستہ ہو گئے۔
1917ء میں وہ ایران میں نو قائم شدہ وزارت ثقافت سے وابستہ ہوئے اور وہاں سے وزارت مالیہ و مال گذاری میں 25-1920ء تک کار گزار رہے۔ 14مارچ 1926ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔
ایرج مرزا کی شاعری
ایرج مرزا ایران کے نہایت قد آور شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے فارسی کے شستہ اور نفیس اسلوب کو ترک کر کے عوامی زبان میں شعر کہنے کا اجتہاد کیا۔ عوام نے اس اسلوب کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور یہ اس قدر مقبول ہو گیا کہ اس کا نام ہی اسلوب ایرج پڑ گیا۔ فارسی کی کلاسیکی شاعری میں لب و لہجے کی نفاست و بلاغت پر بہت زور دیا گیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرز نے فارسی شاعری کی معنی خیزی میں غضب کا اضافہ کیا ہے لیکن بدلتے ہوئے زمانے کے تقاضوں کے نتیجے میں یہ نستعلیق لب ولہجہ اپنی چمک دمک کھونے لگا تھا بلکہ کسی حد تک موجودہ حالات میں قدیم اور مصنوعی معلوم ہونے لگا تھا۔ اس تبدیلی کو ایرج مرزا نے محسوس کیا اور اپنی شاعری کو عوام سے قریب کرنے کی کوشش کی۔ اس تجربے میں وہ نہایت کامیاب رہے۔
ایرج مرزا اپنی شاعری میں لطیف طنز اور طباعی کے لئے بھی مشہور ہیں۔
ملوکیت اور جمہوریت کی آویزش ان کی شاعری میں نمایاں طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ ملوکیت نے ایران کو جس فرسودہ نظام زندگی میں جکڑ رکھا تھا ، ایرج اس کے خلاف تھے۔ انہوں نے اپنے عہد کی سماجی ابتری کو بڑی بے باکی سے نشانہ بنانا شروع کیا۔ وہ خصوصاً عورتوں کی زبوں حالی، پستی اور ان پر معاشرے کے ظلم وستم کے سخت خلاف تھے ۔ اپنی مثنوی “زہرہ و منوچہر” میں انہوں نے پہلی بار ایک ایرانی عورت کو با اختیار دکھایا ہے۔ نظم چادر میں یہ بتایا ہے کہ حجاب عورت کی عصمت کی ضمانت نہیں ہو سکتا ۔ حجاب کے ہوتے ہوئے بھی وہ اخلاق سے بے پر وا ہو سکتی ہے۔ ایرج نے اپنی شاعری میں بددیانت اور ریا کار ملاؤں، بے ایمان تاجروں ، سیاست دانوں اور دولت مندوں کو طنز کا نشانہ بنایا ۔ جدید تصورات و خیالات کو اپنی شاعری کے ذریعے پڑھنے والوں تک پہنچایا۔ وہ ایران میں جدید فارسی ادب کے قدآور معماروں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ ایرج مرزا کی مشہور نظموں میں “ابلیس”، “مادر”،” مثنوی عارف نامہ”،”تصویر زن”، “چادر”، “حجاب”، “داستان زیرہ و منوچر” شامل ہیں۔ جو ان کے نام کو زندہ جاوید رکھنے کے لئے کافی ہیں ہے۔
| تحسین فاطمہ | تحریر |