مولانا جلال الدین رومی

0

مولانا جلال الدین رومی کے حالات زندگی

مولانا جلال الدین رومی ایران کے سب سے بڑے صوفی شاعر تھے۔ وہ 604 ہجری میں ایران کے شہر بلخ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام محمد بن حسین اور لق بہاؤ الدین ولد تھا۔ ان کے والد اپنے زمانے کے بہت بڑے عارفوں اور عالموں میں شمار ہوتے تھے۔

617 ہجری کے قریب جلال الدین نے اپنے والد کے ہمراہ بلخ سے ہجرت کی اور حج بیت اللہ کے لیے روانہ ہوئے راستے میں نیشاپور میں انہوں نے صوفی بزرگ شیخ فرید الدین عطار کی زیارت کی جنہوں نے جلال الدین کو اپنے سینے سے لگا کر دعا دی اور اپنی مثنوی بھی تحفے میں دی۔ حج بیت اللہ سے مشرف ہونے کے بعد جلال الدین اپنے والد کے ساتھ مختلف شہروں میں قیام کرتے رہے اور آخر میں ایشاۓ کے کوچک کے بادشاہ کی دعوت پر اس کے پایا تخت قونیہ پہنچے اور وہیں پر ان کے والد رشد و ہدایت کے کام میں مشغول ہو گئے۔ انہوں نے جلال الدین کو بھی خود ہی تعلیم دی۔

628 ہجری میں جب جلال الدین باپ کے سائے سے محروم ہو گئے تو ان کے ایک شاگرد سید برہان الدین کی سرپرستی سے نو سال تک فیض یاب ہوتے رہے۔ اس کے بعد انہوں نے شام اور دمشق وغیرہ مقامات کا سفر اختیار کیا اور علوم و تصوف میں کمال مہارت حاصل کر لی۔ پھر وہ قونیہ لوٹ آئےاور یہیں پر کئ سالوں تک تعلیم و تدریس میں مشغول رہے۔ اسی دوران ایک بہت بڑے صوفی پیر شمس الدین تبریزی سے ان کی ملاقات ہو گئی۔

شمش الدین تبریزی کی ذات میں ایک زبردست کشش، سانس میں گرمی اور بیان میں غیر معمولی تاثیر تھی، ایک شہر سے دوسرے شہر تک راہ پیمائی کر کے درویشوں، عارفوں اور صاحب راز لوگوں سے راہ و رسم پیدا کرنا ان کا شیوہ تھا، اس غرض سے وہ جلال الدین کی تلاش میں قونیہ بھی تشریف لائے تھے۔ چنانچہ ایک ہی نظر میں انہوں نے جلال الدین کے دل میں عشق حقیقی کا شعلہ بھڑکا دیا۔

آخری عمر تک جلال الدین ان کو اپنا روحانی پیشوا اور مرشد مانتے رہے۔ انہوں نے جس ادب اور احترام کے ساتھ اپنے اشعار و اقوال میں شمس تبریزی سے اپنے آپ کو نسبت دی ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے صحبت نے ان کے دل پر کتنا گہرا اثر قائم کیا تھا مولانا جلال الدین رومی ایک مدت تک اس عارف سوختہ کی رفاقت میں اپنی آتش عشق کو شعلہ اور بناتے رہے۔

مولانا رومی نے ان مراحل سے گزرنے کے بعد ایک انتہائی طویل مثنوی تخلیق کی ہے۔ جو ان کے افکار کا گراں بہا ثمرہ ہے۔ یہ مثنوی، مثنوی مولانا روم کے نام سے مشہور ہے اور فارسی زبان میں تصوف کا مکمل ترین دیوان ہے۔ اس میں 26 ہزار اشعار ہیں جو چھ دفتروں میں قلم بند کیے گئے ہیں۔

فارسی زبان میں فردوسی کو داستانی اور رزمیہ شاعری کا استاد مانا جاتا ہے۔ خیام کو حکمیانہ رباعی کا ماہر تسلیم کیا جاتا ہے۔ نظامی کو بزمیہ اور عشقیہ داستان کا استاد کہا جاتا ہے اور حافظ کو عرفانی غزل کا آقا سمجھا جاتا ہے تو مولانا روم کو عرفانی مثنوی میں یکتا تصور کیا جاتا ہے۔

مولانا رومی کی تصانیف میں اس مثنوی کے علاوہ غزلیات کا مجموعہ اور نثر میں ایک کتاب “فیہ مافیہ” شامل ہیں۔غزلیات کا مجموعہ دیوان شمس تبریزی کے نام سے بھی جمع کیا گیا ہے۔ اس دیوان میں 30 ہزار اشعار ہیں جو ان کے محبوب مرشد شمس تبریزی کے نام منسوب ہیں “فیہ مافیہ” مولانا کے اقوال کا مجموعہ ہے جو عرفان سے متعلق ہیں۔ چند خطوط اور مقالات بھی مولانا کی تصانیف میں شامل ہیں۔

مولانا رومی نے 672 ہجری میں قونیہ ہی میں وفات پائی اور بادشاہ وقت نے ان کے والد بزرگوں کا جو مقبرہ تعمیر کروایا تھا اسی میں دفن کیے گئے۔

از قلمتحسینہ ماونکٹی