Advertisement
  • سبق : تشکیلِ پاکستان
  • مصنف : میاں بشیر احمد
  • ماخوذ از : کارنامہ اسلام

حوالہ سبق :

یہ جملہ ہماری بارہویں جماعت کی کتاب کے سبق ”تشکیلِ پاکستان“ سے لیا گیا ہے۔ اس سبق کے مصنف کا نام ”میاں بشیر احمد“ ہے۔ یہ سبق محمد حسین آزاد کی کتاب ” کارنامہ اسلام “ سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

Advertisement

تعارفِ مصنف :

میاں بشیر احمد سچے مسلمان اور اسلام کے شیدائی تھے۔ آپ ساری عمر کے فروغ اور مسلمانوں کی خاطر قلمی و علمی جہاد میں مصروف رہے۔ نظریہ پاکستان سے انھیں والہانہ لگاؤ تھا، ان کی تحریریں اسلامی اقرار و تعلیمات کی اشاعت اور نظریہ پاکستان کی وکالت کرتی نظر آئی ہیں۔ ان کی تحریریں سادہ زبان اور بیان کی روانی کے ساتھ ساتھ زورِ اثر کی حامل ہیں۔ خلوص و دیانت بے باکی اور دو ٹوک بات کہنا ان کی عادت ہے۔

Advertisement

خلاصہ :

اس سبق میں مصنف کہتے ہیں کہ ہندوستان میں اسلامی حکومت کہنے کو اورنگ زیب عالمگیر کی وفات کے ڈیڑھ سو سال بعد تک قائم رہی مگر وہ فقط مسلمان حکمرانوں کی سلطنت تھی اسلامی ریاست نہیں تھی۔ جو دھیرے دھیرے پستی کی جانب گامزن ہو گئی۔ مسلمانوں کی کمزوری کو انگریز نے دہلی میں داخل ہو گیا تھا۔

Advertisement

اس دور میں سید احمد بریلوی نے 15 برس تک مسلمانوں کی مذہبی اور معشرتی خرابیوں کو دور کرنے کی بےلوث خدمات انجام دیں۔ اسی دور میں سید احمد بریلوی بالاکوٹ کے ایک معرکہ میں جام شہادت نوش کر گئے۔ اس شکست کے بعد مسلمان اندھیر کنویں میں گر گئے اور انگریزی نے بچی کچی مسلمان تہذیب کو منہدم کر نا شروع کر دیا۔

سرسید احمد خان نے مسلمانوں کی توجہ علم و ادب کی جانب مبذول کروائی۔ جس میں انھوں نے اپنی مذہبی تہذیب رسالہ "تہذیب الاخلاق” شائع کیا۔ سر سید نے مسلمانوں کی تعلیم کے لیے ادارے تشکیل دیے۔ سرسید نے ہر محاذ پر مسلمانوں کا مقدمہ اچھے سے لڑا پھر بلآخر وہ بھی اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔ مگر ان کے جانے کے بعد ان کے رفقا نے ان کا مشن جاری رکھا اور شان دار کام کرتے رہے۔

Advertisement

محسن الملک نے علی گڑح کالج کی ترقی کی بھاگ دوڑ سنبھالی۔ ان کے بھائی وقار الملک نے مسلم لیگ کی بنیاد فراہم کی۔ حالی نے مسدس "مدوجز اسلام” لکھ کر مسلمانوں میں انقلاب کی لہر دوڑا دی۔ امیر علی اور ریگر بزرگوں نے اسلام کو مغربی زبان میں ترجمہ کرکے اسلام کے اقدار سے آشنا کیا۔علامہ اقبال نے آکر اسلامی و مغربی علوم کا غائر مطالعے کے بعد اپنا خاص اسلامی فلسفہ قوم کے سامنے پیش کیا۔ اقبال نے مسلمانوں میں خودی کی روح پھونکی اور ان کو اپنے حق کے واسطے بیدار کیا۔بنگال کی تقسیم پر زبردست تحریک چلائی۔ بعد ازیں اردو ہندی تنازعہ فسادات میں بدل گیا۔

مسلمانوں کی جماعت مسلم لیگ بنی اور قائد اعظم محمد علی جناح جیسے لیڈر اس میں شامل ہوئے۔ پنڈت جواہرلال نہرو نے نہرو رپورٹ کی پیش کش کی۔ جواباً قائد نے اپنے 14 نکات پیش کیے۔
قائدین کی گول میز پر جداگانہ مملکت کے تصور پر گفت و شنید ہوئی۔ 23 مارچ 1940 کو قرار داد پاکستان منظور ہوئی۔ 1945 میں شملہ کانفرنس ناکام ہوئی۔ 1946 میں انتخابات ہوئے اور فیصلہ ہوا۔ جس سلسلے میں 14 اگست 1947 میں پاکستان بنا اور 15 اگست کو ہندوستان آزاد ہوا۔

Advertisement

مسلمانوں کا نصب العین کو اسلام ہے۔ یہ ایک ایسی ریاست کا قیام تھا جہاں مسلمان اکثریت سے تھے اور اپنے مذہبی اصولوں پر زندگی گزارنے کو آزاد تھے۔مسلمانوں کو آزادی سے اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کو ایک ماحول چاہیے تھا جو قیام پاکستان کی صورت میں پورا ہوا۔

سوال 1 : مختصر جواب دیجیے۔

الف۔ سید احمد بریلویؒ کے مقاصد کیا تھے؟

جواب : سید احمد بریلوی ؒ کا مقصد مسلمانوں میں مذہبی اور معاشرتی اصلاح تھا۔

Advertisement

ب۔ سید احمد بریلویؒ نے کن حالات میں جام شہادت نوش کیا؟

جواب : سید احمد بریلوی شہید نے سکھوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے 6 مئی 1831 کو بالاکوٹ کے مقام پر جام شہادت نوش کیا۔

ج۔ سر سید احمد خاں نے اپنی قوم کی کیا خدمات سر انجام دیں؟

جواب : سر سید احمد خاں نے اپنی قوم کے لیے مندرج ذیل خدمات انجام دیں :
سرسید احمد خان نے تہذیب الاخلاق کے نام سے رسالہ جاری کیا۔
انھوں نے ایم ۔اے۔ او ہائی اسکول اور کالج کی داغ بیل ڈالی۔
مسلمانوں میں دینی لگن اور تعلیمی امنگ جگانے کے لیے انتھک محنت کی جو ان کے بڑے کارناموں میں شامل ہے۔

Advertisement

د۔ اس سبق میں سر سید احمد خاں کے جن رفقا کا ذکر آیا ہے، ان کی کیا خدمات ہیں؟

جواب : سرسید احمد خاں کے دوست و رفقا محسن الملک، ذکااللہ شبلی، حالی، نذیر احمد وغیرہ نے تعلیمی، سیاسی اور ادبی خدمات انجام دیں۔

ہ۔ علامہ اقبالؒ کی تعلیمات کا نچوڑ کیا ہے؟

جواب : علامہ محمد اقبالؒ مسلمانوں کے مذہبی پیشوا اور لیڈر تھے۔ ان کی تعلیمات میں فلسفہ خودی نمایاں ہے۔

Advertisement

و۔ قائداعظمؒ نے کن حالات میں قوم کی ڈانواں ڈول کشتی کا پتوار اپنے ہاتھ میں لیا؟

جواب : جب ہندوؤں کی جماعت کانگریس نے مسلمان قوم کو دیوار سے لگانا چاہا ، تب مسلمانوں کے لیڈر کے طور پر قائد اعظم محمد علی جناح نے قوم کی ڈانواں ڈول کشتی کا پتوار اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

ز۔ پاکستان کے قیام کے مقاصد کیا تھے؟

جواب : چونکہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں، ان کا ایک جگہ اکھٹا رہنا ممکن نہیں تھا۔ اسی لیے قیام پاکستان کا مقصد بھی مسلمانوں کے لیے ایک ایسے ماحول کا حصول تھا جہاں مسلمان اپنے دینی اصولوں پر زندگی بستر کر سکیں۔

Advertisement

ح۔ پاکستان کے مسلمانوں کا نصب العین کیا ہے؟

جواب : پاکستان کے مسلمانوں کا نصب العین اسلام ہے۔

سوال 2 : مندرجہ ذیل جملوں کی وضاحت کیجیے :

  • الف۔ "مسلمانوں کی مساعی خود مسلمانوں ہی کے ہاتھوں برباد ہو گئیں۔”

جواب : سر سید احمد نے ایک نظام حکومت قائم کیا جس میں قبائل کے اتحاد اور معاشری اصلاح کے احکام نافذ کیے، مگر بعض قبائل کے سرداران نے غداری کی اور سکھوں میں جا کر شامل ہو گئے اور مسلمانوں کو شکست سے دو چار ہونا پڑا اور ان کا رہنما بھی بالاکوٹ میں شہید ہوا۔

Advertisement
  • ب۔ "ملک ہاتھوں سے گیا ، ملت کی آنکھیں کھل گئیں۔”

جواب : مسلمانوں پر انگریزوں اور ہندوؤں دونوں نے ہی مظالم کیے۔ ایسے میں سر سید ایک امید کے طور پر ابھرے اور بکھرے ہوئے مسلمانوں کو یکجا کیا اور ان کا حوصلہ بلند ہوا۔

Advertisement
  • ج۔ "پنجاب کے مسلمان سر سید کی منادی پر اس طعح دوڑے جس طرح پیاسا پانی پر دوڑتا ہے۔”

جواب : جب سر سید نے تعلیمی ادارے قائم کیے تو پنجاب کو اپنی ضرورت پوری ہوتی محسوس ہوئی۔ انھوں نے لاہور میں انجمن جمایت اسلام کا ادارہ قائم کیا اور علی گڑھ کالج سے وابستہ ہو گئے۔

  • د۔ "۱۸۹۸ء میں جب سر سید نے انتقال کیا تو اسن کی قوم اپنے خواب گراں سے جاگ چکی تھی۔”

جواب : سرسید احمد خان نے تہذیب الاخلاق کے نام سے رسالہ جاری کیا۔ انھوں نے ایم ۔اے۔ او ہائی اسکول اور کالج کی داغ بیل ڈالی۔ مسلمانوں میں دینی لگن اور تعلیمی امنگ جگانے کے لیے انتھک محنت کی جو ان کے بڑے کارناموں میں شامل ہے۔

Advertisement
  • ہ۔ "یہ پہلا موقع تھا جب مجھے یقین ہو گیا کہ اب ہندومسلمانوں کا بطور ایک قوم کے ساتھ چلنا محال ہے اور دونوں قومیں کسی کام میں دل سے شریک نہ ہو سکیں گی۔”

جواب : ۱۸۴۷ میں بنارس کے بعد ہندوؤں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ اردو کو موقوف کرکے ملک میں ہندی زبان رائج کی جائے۔ جس سے سر سید کو یقین ہو گیا کہ دونوں قوموں کا ساتھ چلنا محال ہے۔

Advertisement
  • و۔ "امیر علی نے اپنی انگریزی تصانیف سے مغربی حلقوں میں اسلام کی وقعت پیدا کی۔”

جواب : امیر علی کی انگریزی تصانیف "سپرٹ آف اسلام” سے یہ فائدہ ہوا کہ مغرب میں اسلام کی دعوت عام ہوئی۔

Advertisement
  • ز۔ "جب تک قوم سیاسی حیثیت سے مضبوط و متحد نہ ہوگی، اس کی ساری روایات اکارت جائیں گی۔”

جواب : علم و ادب کی دنیا میں مسلمانوں نے کامیابی حاصل کر لی مگر مسلمان لیڈروں نے محسوس کیا کہ ابھی سیاسی بیداری کا فقدان ہے، اس پر انھوں نے مسلم لیگ قائم کی تاکہ سیاسی بیداری اجاگر ہو۔

سوال 3 : درست بیان کے سامنے”درست” اور غلط کے سامنے”غلط” لکھیے :

الف۔ مذموم معاشرتی رسموں میں مسلمانوں اور ہندوؤں میں بہت فرق تھا۔ (غلط)
ب۔ سید احمد بریلوی ۲۔مئی ۱۸۳۱ کو بالا کوٹ میں شہید ہوئے۔ (درست)
ج۔ فرائضی تحریک کا مقصد مسلمانوں کی ناگفتہ بہ حالت کی اصلاح اور ان کی امداد تھا۔ (درست)
د۔ ۱۸۳۷ میں فارسی زبان عدالتی زبان قرار پائی۔(غلط)
ہ۔ سرسید نے مسلمانوں کو انڈین نیشنل کانگرس میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔ (غلط)
و۔ حالی کی مسدس نے ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی میں انقلاب کی لہردوڑادی۔ (درست)

Advertisement

سوال 4 : واقعات کے سامنے درست سن لکھیے :

الف۔ سر سید احمد بریلویؒ نے سکھوں کے خلاف جہاد کا آغاز کیا۔ (1826ء)
ب۔ جنگ بلقان وطرابلس۔ (1912ء)
ج۔ علی گڑھ کالج یونیورسٹی کے درجے تک پہنچا۔(1920ء)
د۔ جامعہ عثمانیہ کا شاندار ادارہ قائم ہوا۔ (1918ء)
ہ۔ قائد اعظمؒ کے چورہ نکات۔ (1929ء)
و۔ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کا نفاذ۔ (1935ء)
ز۔ پنجاب میں مسلم لیگ کی آزادی کی تحریک۔ (جنوری 1947ء)

سوال 5 : اس سبق میں جن شخصیات کا ذکر آیا ہے، ان کی فہرست مرتب کیجیے اور ان کے بارے میں سبق میں دی ہوئی معلومات کے علاوہ کتب خانے سے مزید معلومات حاصل کرکے انھیں اپنے رجسٹر میں لکھیں۔

جواب :
اس سبق میں مندرجہ ذیل شخصیات کا ذکر آیا ہے :
شاہ ولی اللہؒ ،
شاہ عبدالعزیزؒ،
سید احمد بریلویؒ،
سرسید احمد خاںؒ،
فرائضی تحریک کے بانی حاجی شریعت اللہ،
محسن الملک،
وقار الملک،
ذکا اللہ،
شبلی نعمانی،
حالی،
امیر علی،
علامہ اقبالؒ،
قائداعظم ؒ،
علی برادران (مولانا شوکت علؒی اور مولانا علی جوہرؒ) اور
ہندو لیڈر گاندھی۔

Advertisement

سوال 6 : "پاکستان کا قیام ناگزیر تھا” کے موضوع پر ایک مضمون لکھیں۔

پاکستان کا قیام ناگزیر تھا

تقسیم برصغیر یا مطالبہ پاکستان کی اصل وجہ ہندوؤں کی تنگ نظری یا انگریزوں کی چال نہیں تھی۔ اس امر کا جائزہ لینے کیلئے تاریخ کے اوراق کی روگردانی مناسب ہو سکتی ہے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد جب مسلمانوں پر قیامت ٹوٹی، ان کو پھانسی کے تختوں پر چڑھایا گیا، ان کی املاک کو نذر آتش کیا گیا، شہزادوں کے سر کاٹ کر بادشاہ کے سامنے پیش کئے گئے۔

اردو کو کہا گیا یہ قرآن کے رسم الخط میں لکھی جاتی ہے، اس کی جگہ ہندی یا دیوناگری رسم الخط جاری کیا جائے۔ اس طرح ہندوؤں اور انگریزوں کی ہر نفرت اور تعصب شکار مسلمان بنے رہے۔ یہ ایک ایسی فضا بن چکی تھی جب مسلمانوں کم پڑھے لکھے تھے۔ مسلمانوں میں سیاسی شعور نہ ہونے کے برابر تھا۔ پھر مسلمان لیڈران میں سر سید احمد خان کا نام نمایاں ہے، انھوں نے انتھک محنت کرکے مسلمانوں کی سمت درست کی۔ یوں مسلمانوں میں علم و ادب سے دلچسپی پیدا ہو گئی۔

Advertisement

پھر ہر قسم کی مشکلات سے دوچار مسلمانوں کی نمائندہ جماعت بنائی گئی جس کے سربراہان میں قائد اعظم محمد علی جناح ، علامہ اقبال، مولانا محمد علی جوہر ایسے رہنما سامنے آئے۔ اور مسلمانوں کے لیے الگ ملک کا مطالبہ کیا۔ پاکستان بنناکی راہ میں سب سےبڑی رکاوٹ ہندو اور سامراج کا کھٹ جوڑ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے لیے ہر جگہ سے دھتکار دیا جاتا، ہر جگہ ہندوؤں اور سیکھوں کو نوکریاں دی جاتیں۔ مسلمانوں کی نمائندہ جماعت مسلم لیگ نے لازوال قربانی سے پاکستان مسلمانوں کے لیے لے کر دکھایا۔ کروڑوں مسلمانوں کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر دیا گیا۔

سوال 7 : مندرجہ ذیل محاورات کو اپنے جملوں میں اس طرح استعمال کیجیے کہ ان کا مفہوم واضح ہو جائے :

عزت خاک میں ملنا گزشتہ روز مدرسے کے محتتم کا فعل لواطت علماء کی عزت خاک میں ملانے کے مترادف تھا۔
ذلت کے درپے ہونا خدا کے علاوہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا ذلت کے در پر ہونے کے مماثل ہے۔
زخموں پر نمک چھڑکنا دکھ کی کیفیت میں کو مزید دکھی کرنا زخموں پر نمک چھڑکنا ہوتا ہے۔
زندگی پھونکنا قرآن و حدیث کی روشنی میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خداوند تعالیٰ نے حضرت مسیح کو زندگی پھونکنے کا معجزہ دیا تھا۔
خواب گراں سے جاگنا پاکستانی عوام کو دہشت گردی کے خواب گراں سےجاگنے میں بیس برس کی مسافت کرنی پڑی۔
علم کا چراغ روشن کرنا علی گڑھ یونی ورسٹی کا قیام سر سید احمد خان کا مسلمانوں میں علم کا چراغ روشن کرنے کی بہترین کوشش تھی۔
ٹھوکریں کھانا جو نوجوان والدین کی نصحیت پر عمل نہیں کرتے، در در کی ٹھوکریں کھانا ان کا مقدر بن جاتا ہے۔
اظہر من الشمس ہونا علماء حق نوجوانوں کے لیے علم و معرفت کے اظہر من الشمس ہونا کی مثل ہیں۔
ارادے دھرے کے دھرے رہ جانا دادا جی کی سانسیں ابھی بحال ہیں، یہ خبر ملتے ہی جائداد پر نظر رکھے سارے لواحقین کے ارادے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
ہاتھ بڑھانا سارے تنازعہ کو پس پشت رکھ کر ہمیں اپنے ہمسایہ ممالک کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہئے۔
سر پھر جانا بال بال قرض میں ڈوب جائے تو سر پھر جانا کوئی نئی بات نہیں۔
طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لینا ادھار لینے کے بعد لوگ طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔
ڈنکا بجنا پاکستان نے بھارت کو کبڈی میں شکست دی جس کا ڈنکا شہر بھر میں بجنا لازم و ملزوم تھا۔
Advertisement

Advertisement