Advertisement

تعارفِ سبق : سبق ”دستک“ کے مصنف کا نام ”میرزا ادیب“ ہے۔ یہ سبق آپ کی کتاب ”پسِ پردہ“ سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

Advertisement

تعارفِ مصنف :

میرزا ادیب کا اصل نام مرزا دلاور حسین علی اور قلمی نام میرزا ادیب ہے۔ آپ کی ولادت ۱۹۱۶ء میں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام میرزا بشیر علی تھا۔ اسلامیہ کالج لاہور سے آپ نے بی اے آنرز کا امتحان پاس کیا۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے آپ کو لکھنے لکھانے کا بہت شوق تھا۔ اس لیے مختلف رسائل میں مضامین بھی لکھے۔ رسالہ ”ساقی“ میں افسانہ نگاری شروع کی۔ مشہور رسالے ”ادبی دنیا“ میں بھی آپ کے مضامین اور افسانے شائع ہوئے۔ آپ ”ادبِ لطیف“ کے مدیر بھی رہے۔ اس دوران آپ ریڈیو کے اسکرپٹ بھی لکھنے لگے۔ ایک ایکٹ ڈرامہ لکھنے میں انھیں بڑی مہارت حاصل تھی۔ آپ کی شہرت کی ایک وجہ آپ کی کتاب ”صحرا نورد کے خطوط“ بھی ہے۔

Advertisement

”جنگل ، کمبل ، خاک نشین ، مٹی کا قرض ، مٹی کا دیا، آنسو اور ستارے، شیشہ میرے سنگ، خوابوں کے مسافر اور پس پردہ فصیل شب، شیشے کی دیوار اور ماموں جان“ آپ کی مشہور تصنیفات ہیں۔

Advertisement

خلاصہ :

ڈاکٹر زیدی بیماری کی وجہ سے پلنگ پر تکیہ لگا کر لیٹے ہوئے تھے۔ فرنچ کٹ داڑھی اور چہرے پر نقاہت نمایاں نظر آرہی تھی۔ کمرے کے باہر آندھی اور طوفان برپا تھا۔ بیگم زیدی کرسی پر بیٹھی کسی رسالے کا مطالعہ کر رہی تھیں کہ اتنے میں ڈاکٹر زیدی دروازے پر کوئی دستک سنتے ہیں۔ڈاکٹر زیدی بیگم زیدی کی توجہ دستک کی جانب مبذول کرواتے ہیں مگر بیگم وضاحت کرتی ہیں کہ کوئی دستک نہیں ہوئی۔

اتنے میں ڈاکٹر زیدی خود اٹھنے کی کوشش کرتے ہیں تو بیگم زیدی انھیں ٹوک دیتی ہیں اور خود باہر جا کر دیکھتی ہیں۔ وہاں واقعی کوئی دستک نہیں ہوئی تھی۔ بیگم زیدی انہیں کہتیں ہیں کہ آپ ڈاکٹر ہو کر وہم کررہے ہیں۔

Advertisement

مگر ڈاکٹر زیدی کو دستک مسلسل سنائی دیتی ہے، وہ بیگم سے کہتے ہیں تو بیگم ان کی بات کی تردید کردیتی ہیں اور آرام کی تلقین کرتی ہیں۔
اس بار کال بیل بجتی ہے اور بیگم زیدی دروازہ کھولتی ہیں اور ڈاکٹر برہان کو وہاں کھڑا پاتی ہیں۔ ڈاکٹر برہان آکر ڈاکٹری زیدی کی خبرگیری کرتے ہیں اور مکمل آرام کا مشورہ دیتے ہیں۔

بیگم زیدی ڈاکٹر برہان کو ڈاکٹر زیدی کے وہم کے بارے میں بتاتی ہیں ، جس کے بعد ڈاکٹر زیدی بیس سال ماضی میں چلے جاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہ کلینک سے تھکے ہوئے واپس گھر آتے ہیں اور ایک بوڑھا شخص ان کو اپنے بیٹے کی بیماری کے لیے لے جانے آیا تھا مگر ڈاکٹر زیدی نے انکار کر دیا۔نوکر نے بوڑھے کو کمرے سے نکال دیا مگر وہ باہر دستک دیتا رہا۔

Advertisement

صبح کو ڈاکٹر زیدی اٹھے تو ان کا ضمیر بھی بیدار ہو گیا۔ ڈاکٹر برہان نے قصہ سنا اور بتا کر حیران کر دیا کہ وہ اسی بوڑھے کے پوتے ہیں جن کا بیٹا اس رات تکلیف سے مر گیا تھا۔ ڈاکٹر برہان نے ڈاکٹر زیدی کو تسلی دیتے ہوئے کہا اب وہ دستک نہیں ہونی چاہئے آرام کریں۔ شب بخیر ، کل حاضر ہوں گا۔

۱ : ڈاکٹر زیدی دروازے پر جو دستک سنتے تھے، اس کی اصل وجہ کیا تھی؟

جواب : ڈاکٹر زیدی دروازے پر جو دستک سنتے تھے وہ دراصل ان کا خیال ہے جو برسوں پہلے جب وہ کام سے تھکے ہوئے واپس آتے ہیں اور ایک بوڑھا انھیں اپنے بخار میں تپتے بیٹے کے لیے ساتھ لے جانا چاہتا تھا، مگر ڈاکٹر زیدی نے نوکر کو کہہ کر اسے کمرے سے نکلوادیا تھا اور خود سونے چلے گئے۔ وہ بوڑھا وہاں مسلسل دستک دیتا رہا، یہ وہی دستک ہے جو آج بھی انھیں سنائی دیتی ہے۔

Advertisement

۲: "دستک” کے سلسلے میں ڈاکٹر زیدی اور بیگم زیدی کے درمیان جو مکالمے ہوئے ان کا خلاصہ تحریر کیجیے۔

جواب : ڈاکٹر زیدی دروازے پر ایک دستک مسلسل سنتے ہیں اور اپنی بیوی سے کہتے ہیں کہ دروازے پر کوئی دستک دے رہا ہے۔ مگر بیگم زیدی ان کی اس بات کو ٹال دیتی ہے اور کہتی ہے کہ اس نے کوئی دستک نہیں سنی مگر ڈاکٹر زیدی اس سے مطمئن نہیں ہوتے تو بیگم دروازہ کھول کر دیکھتی ہے مگر وہاں کوئی بھی نہیں ہوتا۔ مگر ڈاکٹر زیدی اس بات پر اعتبار نہیں کرتے۔

۳ : اس ڈرامے سے آپ کون سا اخلاقی سبق اخذ کرتے ہیں؟

جواب : اس ڈرامے سے یہ اخلاقی سبق اخذ ہوتا ہے کہ ایک مسیحا کو اپنے فرض کو باقی چیزوں پر ترجیح دینی چاہئے۔ اسے اپنے آرام سے زیادہ اپنے مریضوں کی دیکھ بھال کرنی چاہئے، اپنے مریضوں کو اپنے آرام پر ترجیح دینی چاہیے۔

Advertisement

۴ : اس ڈرامے سے وہ فقرہ تلاش کیجیے جس میں اس کا مرکزی خیال پوشیدہ ہے۔

جواب : ڈرامے میں وہ فقرہ جو اس کا مرکزی خیال ہے وہ یہ ہےکہ جب ڈاکٹر برہان، ڈاکٹر زیدی سے کہتے ہیں کہ :
"کبھی کبھی آپ کا ضمیر آپ کے دروازے پر دستک دیتا رہتا ہے۔”

۵ : مندرجہ ذیل الفاظ کے متضاد لکھیے :

تیزسست
مستقلعارضی
سردیگرمی
وہمیقین
مصروفبےکار
آرامبےچینی
اطمینانبےقراری

٦ : مندرجہ ذیل الفاظ و محاورات کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے :

فرض شناس عصر حاضر میں فرض شناسی نا بود ہو کر رہ گئی ہے۔
نقاہت مہینہ بھر کے بخار کی نقاہت تھی جو دانیہ کا چہرے پر نمایاں نظر آرہی تھی۔
دستک ہمیں کسی کے ہاں جا کر دروازے پر تین بار دستک دینی چاہئے۔
تانتا بندھنا صبح کی ورزش سے ارباب صاحب کا منیر صاحب سے مستقل تانتا بندھ گیا۔
سرکھجانے کی فرصت نہ ملنا شہر میں بڑھتی ہوئی وارداتیں دیکھ کر پولیس کو سر کھجانے کی فرصت نہ ملنا عام فہم بات ہے۔
ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا مشرقی ممالک میں ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔
خیالوں میں غرق ہونا باپ کی موت کے بعد جب سے ذمہ داری عدنان پر پڑی وہ تو مانو خیالوں میں غرق ہو گیا ہے۔
Advertisement

Advertisement

Advertisement