Advertisement

مغل سلطنت کے کمزور ہونے کے ساتھ ہی بدیسی طاقتوں نے ہندوستان پر قبضہ جمانے کے لیے ریشہ دوانیاں شروع کر دی تھیں ۔انگریز، فرانسیسی اور پرتگیزی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔بالآخر ۱۸۵۷ء کی جنگ پلاسی نے ہندوستان کی قسمت کا فیصلہ کر دیا اور شمالی ہندوستان پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا اقتدار قائم ہو گیا۔

Advertisement

یورپی اقوام نے بہت پہلے ہی سمجھ لیا تھا کہ ہندوستان زیادہ  دیر تک مغلوں کے زیر نگیں نہ رہ سکے گا اور کوئی یورپی قوم ہی اس پر حکمران ہوگی۔ اس حقیقت سے بھی سب واقف تھے کہ حاکم قوم کو آخرکار ہندوستانی زبانوں سے واقفیت ضروری ہوگی۔ اس وقت فارسی حکومت کی سرکاری زبان تھی۔ایک طبقے کی زبان سنسکرت بھی تھی لیکن ایک بول چال کی زبان تھی جسے سارے ملک میں بولا اور سمجھا جاتا تھا یہ ‘اردوز’ زبان تھی جسے ہندی اور ہندوستانی زبان بھی کہا جاتا تھا۔چنانچہ بعض بدیسیوں نے اس زبان کو سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی۔ نیز اپنے ہم وطنوں کو اسے سکھانا چاہا۔سب سے پہلے ایک ڈچ کیٹلر نے ۱۷۱۵ء میں ہندوستانی زبان کی قواعد سے متعلق چھوٹی سی کتاب لاطینی زبان میں لکھی۔

Advertisement

ایک پادری پنجمن شلر نے ۱۷۴۴ء میں ایک قواعد لکھی اور ۱۷۴۸ء میں انجیل کا اردو میں ترجمہ کیا۔گلسٹن، ہڑلے اور فرگوسن کے نام بھی قابل ذکر ہیں لیکن سب سے اہم کام ڈاکٹر جان گلکرسٹ کا ہے،جو ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازم تھے اور ۱۷۸۳ء میں ہندوستان آے۔ہندوستانی قواعد اور لغت کے سلسلے میں انہوں نے نہایت بیش قیمت کام کیا۔

Advertisement

ان سب کاموں نے ہندوستانی زبانوں کو سیکھنے کے لیے راستہ ہموار کردیا تھا لیکن انگریز تاجروں نے سمجھ لیا تھا کہ ان چھوٹی چھوٹی کتابوں سے کام نہیں چلے گا۔اب ہندوستانی کتابوں کو سیکھنے کا باقاعدہ بندوبست کرنا ہوگا۔چنانچہ جنوری ۱۷۹۹ء میں کلکتہ میں اورینٹل سمندری کا قیام عمل میں آیا۔اس میں انگلستان سے آنے والے انگریز افسروں کو اتنی ہندوستانی سکھائی جاتی تھی کہ وہ منشی سے فارسی پڑھ سکیں۔ آخر اس کو بھی ناکافی سمجھا گیا۔

ہندوستانکے مغل شہنشاہ شاہ عالم نے بنگال اور بہار کی مالگزاری وصول کرنے کا کام ایسٹ انڈیا کمپنی کو سونپ دیا تھا۔اس لیے نووارد انگریز افسروں کے لیے ہندوستانی زبانوں کی واقفیت زیادہ ضروری ہوگئی تھی۔اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے گورنر جنرل نے کلکتہ میں ایک کالج قائم کرنے کا منصوبہ بنایا۔

Advertisement

لارڈ ویلزلی کا یہ منصوبہ۱۰ جولائی ۱۸۰۰ء کو منظور ہوا۔لیکن اس پر ۴ مئی ۱۸۰۰ء کی تاریخ ڈالی گئی ۔کیونکہ ٤ مئی کو سرنگا پٹنم کی جنگ میں سلطان ٹیپو کو شکست ہوئی تھی اور ویزلی اس تاریخ کو انگریزی ہندوستان کی تاریخ میں امر کر دینا چاہتا تھا ۔کیونکہ اسی دن یہ فیصلہ ہوا تھا کہ آئندہ ملک کے حکمران انگریز ہونگے۔اور اسی دن یہ بات سمجھ لی گئی تھی کہ ملک پر راج کرنے کے لیے ملک میں بولی جانے والی زبانوں کو سمجھنا ضروری ہوگا۔۴مئی ۱۸۰۰ء اس کی پہلی سالگرہ تھی ۔

یہ کالج فورٹ ولیم نام کے قلعے میں قائم ہوا اس لئے فورٹ ولیم کالج کہلایا۔ لارڈ ویزلی نے کالج کے معاملات میں بہت دلچسپی لی۔انہوں نے کالج میں بہت سے شعبے قائم کیے اور لائق اساتذہ کا انتخاب کیا۔کالج کے پہلے پرنسپل ڈیوڈ براؤن مقرر ہوئے۔ڈاکٹرجان گلکرسٹ ہندوستانی زبان کے شعبہ کے صدر منتخب ہوئے۔ہندوستانی زبان سے اس وقت اردو زبان مراد لی جاتی تھی۔گلکرسٹ بہت ذہین اور محنتی انسان تھے انھوں نے بڑی محنت سے علم حاصل کیا تھا بہت شوق کے ساتھ اردو زبان سیکھی تھی اور کئی کتابیں لکھی تھیں۔ بعد کو وہ ایک کتاب میں لکھتے ہیں۔

Advertisement

"جس گاؤں میں اور جس شہر میں مجھے جانے کا اتفاق ہوا وہاں میں نے زبان اردو کو مقبول پایا”۔

گلگرسٹ نے فورٹ ولیم کالج میں رہ کر اردو زبان کی زبردست خدمت کی۔انہی کی کوششوں سے کالج کے ساتھ ساتھ ایک بڑا کتب خانہ اور پریس بھی قائم کیا گیا جس میں نستعلیق ٹایپ سے کتابیں چھاپی جاتی تھیں ۔ جب کالج شروع ہوا اور اُردو پڑھانے کا وقت آیا تو ایک اور دشواری سامنے آئی۔معلوم ہوا کہ اردو میں ایسی کتابیں موجود نہیں جو کالج میں پڑھائی جا سکیں ۔اب ان اہل قلم کی تلاش شروع ہوئی جو کتابیں لکھنے کا کام انجام دے سکیں ۔مصنیفین کی خدمات حاصل کرنے کے لیے اشتہار جاری کیا گے۔اس طرح گلگرسٹ کی کوشش سے کلکتہ میں سارے ملک کے ایسے اہل قلم جمع ہوگئے جو کتابیں لکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ان میں میر امن، میر شیر علی افسوس، مرزا علی لطف، میر بہادر علی حسینی،میر حیدر بخش حیدری،کاظم علی جوان، نہال چند لاہوری،اور بینی نارائن جہاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

Advertisement

کتابیں تیار ہونے لگیں تو انہیں چھاپنے کے لیے کتب خانے اور پریس قایم کیے گئے۔گلکرسٹ کی سفارش پر کالج میں قصہ خواں ملازم رکھے گےجو نووارد انگریزوں کو آسان زبان میں قصے سنا کر اردو کا ذوق بھی پیدا کرتے تھے ۔اور انھیں لفظوں کے درست تلفظ کی تربیت بھی دیتے تھے۔غرض اردو کے اس محسن نے اردو زبان کے فروغ کے لیے کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔بابائے اردو مولوی عبدالحق نے ان کے بارے میں درست فرمایا ہے کہ:

"جو احسان ولی نے اردو شاعری پر کیا تھا وہی احسان گلگرسٹ نے اُردو نثر پر کیا ہے”.

Advertisement

گلکرسٹ کی خواہش تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کالج کی طرف زیادہ توجہ کرے اور اس کے اخراجات کے لیے زیادہ روپیہ منظور کرے۔ مگر کمپنی کی نظر تجارت پر تھی وہ روپیہ خرچ کرنا نہیں بلکہ کمانا چاہتی تھی۔آخر کار بد دل ہوکر ڈاکٹر جان گلکرسٹ نے کالج سے استعفیٰ دے دیا اور جلد ہی وہ دن بھی آگیا جب کالج ہی بند ہوگیا کیونکہ کمپنی کا بورڈ آف ڈائریکٹرز کالج کے اخراجات سے عاجز تھا ۔

 فوٹ ولیم کالج انگریزوں کو ہندوستانی زبان سکھانے کے لیے قائم ہوا تھا ۔اس لیے کالج میں جتنی کتابیں لکھی گئیں وہ عام ،فہم، آسان اور بول چال کی زبان میں لکھی گئیں ۔میر امن نے اس پر فخر کیا ہے کہ انہوں نے باغ و بہار بولی ٹھولی کی زبان میں لکھی ہے ۔

Advertisement

یہ درست ہے کہ کالج میں اعلی درجے کی کتابیں نہیں لکھی گئیں ۔قصے کہانیوں کی کتابوں پر زیادہ زور رہا اور ان میں بھی بیشتر تراجم ہیں۔دراصل کالج کا مقصد محدود اور ضرورت واضح تھی۔انہی کو پیش نظر رکھا گیا۔یہ بھی درست ہے کہ کالج میں جو کتابیں لکھی گئیں کالج سے باہر اس وقت ان کا چرچا نہیں ہوسکا لیکن ان کے اثرات دیرپا اور دور رس ثابت ہوئے۔ کالج کی کتابوں میں میر امن کی باغ و بہار،حیدر بخش حیدری کی آرائش محفل،مرزا علی لطف کا تذکرہ گلشن ہند،میر شیر علی افسوس کی باغ اردو،مرزا کاظم علی جوان کے ڈرامہ شکنتلا اور للو لال جی کی سنگھاسن بتیسی کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔

فوٹ ولیم کالج میں سنسکرت کی طرف بھی توجہ دی گئی۔یہاں سنسکرت کے قصے بول چال کی زبان میں سنائے جاتے تھے تاکہ اردو کے مصنف ان کو اپنی زبان میں لکھ لیں اور للو لال جی جو سنسکرت کے ماہر تھے اس کام میں مدد کرتے تھے۔ فوٹ ولیم کالج لارڈ ولزلی کا لگایا ہوا پودا تھا۔ان کی خواہش تھی کہ یہ برقرار رہے اور دن دونی رات چوگنی ترقی کرے۔انہوں نے ایک بار یہاں تک لکھا تھا کہ:

Advertisement

"اگر یہ کالج ختم ہوگیا تو انگریزی عملداری ہندوستان سے اُٹھ جائے گی”

مگر ان کی رائے کو اہمیت نہیں دی گئی۔اور ۱۸۵۴ءمیں اس کالج کو فضول شے سمجھ کر بند کردیا گیا۔اس کالج کی خدمات نے اردو نثر کے دامن کو وسیع کیا اور جو نثری سرمایہ یہاں وجود میں آیا وہ ہمارے ادب کا انمول ذخیرہ ہے اور اس پر ہمیشہ فخر رہے گا۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement