حافظ شیرازی کی حالات زندگی

0

حافظ شیرازی

جس طرح میر کو اردو میں خدائے سخن مانا جاتا ہے۔ اسی طرح حافظ کو فارسی میں خدائے سخن مانا جاتا ہے۔ حافظ نے فارسی غزل میں کچھ کا جادو جگایا تھا کہ انہیں لسان الغیب کا لقب دیا گیا ہے۔ حافظ کا پورا نام شمش الدین محمد حافظ تھا۔ وہ 726ہجری میں ایران کے مشہور شہر شیراز میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام بہاؤالدین تھا۔حافظ نے اپنے وطن کے مشہور زمانہ علماء و فضلاء سے علوم و فنون میں مہارت حاصل کی تھی۔ انہوں نے قرآن شریف کا نہ صرف گہرائی سے مطالعہ کیا تھا بلکہ اسے حفظ بھی کر لیا تھا اور اسی اعتبار سے حافظ تخلص کرتے تھے۔ وہ اس بات پر فخر بھی محسوس کرتے تھے۔

حافظ کے زمانے میں ایران لگاتار انقلابات سے دو چار ہوتا رہا اور وہاں خون کی ہولیاں کھیلی جاتی رہیں۔ ان کی زندگی میں ایک کے بعد دیگر اتابک بادشاہوں، مغلوں، چوپانیوں، اور پھر اینجو خاندان کے حکمرانوں نے حکومت سنبھال لی تھی۔ ابواسحاق اینجو پاکیزہ ادبی ذوق رکھتا تھا۔ وہ بڑا علم پرور بادشاہ تھا اور اس کے دل میں حافظ شیرازی کے لیے بڑی قدر و منزلت تھی۔ اس دور میں ایران میں علماء فضلاء صوفیا اور اولیاء اور شعراء و ادباء کی کثرت تھی جس کے نتیجہ میں حافظ کا حلقہ اثر کافی دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔

حافظ کو اپنے شہر شیراز سے بے حد لگاؤ بلکہ عشق تھا۔ انہوں نے کبھی وہاں سے کوچ کرنے کی بات نہیں سوچی تھی۔وہ ایسا محسوس کرتے تھے گویا کہ شیراز کے نظارے انہیں کہیں جانے کی اجازت نہیں دیتے۔

شیخ سعدی کے برخلاف حافظ نے اپنی زندگی میں صرف تین سفر کیے تھے، اصفہان، یزد اور بندرگاہ ہر مزد تک حافظ کے شہرت ایران بھر میں ہی نہیں بلکہ بنگالہ اور ہندوستان تک بھی پہنچ چکی تھی لیکن بغداد کے حکمران سلطان احمد نے انہیں بغداد آنے کی دعوت دی تو انہوں نے سفر کرنا منظور نہ کیا اور ایک غزل لکھ کر بھیج دی۔ تاریخ فرشتہ کے مصنف سے روایت ہے کہ سلطان محمود شاہ نے حافظ کو دکن آنے کی دعوت دی اور زادراہ بھی روانہ کیا تھا لیکن جب وہ بندرگاہ ہر مزد سے کشتی پر سوار ہوئے تو کشتی طوفان میں پھنس گئی اور حافظ نے خشکی کے حادثات کو یاد کر کے دریا کی بلاؤں سے محفوظ رہنے ہی میں غنیمت سمجھی اور واپس شیراز چلے گئے۔

حافظ کو اپنی زندگی میں اپنے بیٹے کی موت کا سامنا بھی کرنا پڑا اور اس غم کو وہ عمر بھر بھلا نہ سکے۔ انہوں نے کہیں کہیں اپنے اس غم کا بھی اظہار کیا ہے۔
حافظ نے 791 ہجری میں تقریبا 65 سال کی عمر میں شیراز ہی میں انتقال کیا۔ شیراز کی مقبول تفریح گاہ “مصلے” میں ان کی تدفین ہوئی۔ ان کے قبر پر ایک شاندار مقبرہ تعمیر کیا گیا ہے۔ آج بھی اسے شیراز کی ایک مقبول عام زیارت گاہ کی حیثیت حاصل ہے۔ ایک شاعر نے اس مقام کی نسبت سے “خاک مصلی” کی ترکیب وضح کر کے حافظ کی تاریخ وفات نکالی تھی۔

حافظ کو صوفی شاعر تسلیم کیا گیا ہے۔ ان کے کلام میں غزلوں کو اولیت حاصل ہے لیکن ہمیں ان کے ہاں قصیدے بھی ملتے ہیں مگر ان میں کہیں بھی مبالغے اور چاپلوسی کی چھاپ نہیں دکھائی دیتی بلکہ سعدی کی طرح ممدوحوں کے لیے پند و نصیحت کا سامان بھی ملتا ہے اور وہ کہیں متانت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

حافظ شیرازی کا اسلوب اچھوتا اور طرز جدت آمیز ہے۔ وہ جگہ جگہ ظاہر پرستی اور ریاکاری پر ضربیں لگاتے ہیں۔ زاہد، صوفی اور شیخ کی ظاہر داریوں کی انہوں نے خوب خبر لی ہے اور وہ دین و مذہب کے اختلافات، جنگ و جدل کے حادثات اور بیہودہ وہ دور راز کا مباحث سے بیزار ہیں۔ انہوں نے اپنے کلام میں جا بجا توحید کی حقیقت، اختلاف اور نفاق کی برائی، پیارومحبت کی سحرکاری اور عشق و آرام کے پہلو داری کو بیان کیا ہے اور ہر مرتبہ ان کا ایک نیا رخ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

حافظ کے سوانح ،ان کی شاعری اور ان کے افکار پر کئی ممالک میں مختلف زبانوں میں کتابیں اور مقالے لکھے گئے ہیں۔ زمانہ دراز سے اب تک ان کے کلام یعنی ان کے دیوان کو فال نکالنے اور مستقبل کے واقعات کا پتہ لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے بڑے بڑے بادشاہوں نے دیوان حافظ سے فال نکالنے کا کام لیا ہے۔ مغل شہنشاہ ہمایوں، اکبر، جہانگیر اور اورنگ زیب سب ان کے مداح رہے ہیں۔

تحریرتحسین فاطمہ