Back to: تحسینہ ماوینکٹی کے نوٹس
عمر خیام
عمر خیام فارسی کے مشہور رباعی گو شاعر تھے۔ اکثر قدیم شعراء اور ادباء کی طرح خیام کی تاریخ پیدائش کا بھی ٹھیک علم نہیں ہے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ سلجوقی دور میں شاید 440 ہجری میں ان کی ولادت ہوئی ہوگی مقام ولادت ایران کے صوبے خراسان کا ایک گاؤں تھا جو علم و فضل کے مشہور مرکز نیشا پور سے قریب تھا۔ ان کا مکمل نام ابو الفتح عمر بن ابراہیم تھا اور وہ عمر خیام کے نام سے مشہور تھے۔ ایران میں خیمے سینے والوں کو خیام کہا جاتا تھا اور ایک روایت کے مطابق چونکہ قیام کے آباواجداد کا یہی پیشہ تھا، انہوں نے یہی اپنا تخلص رکھ لیا تھا۔
عمر خیام کافی ذہین آدمی تھے اور اپنے زمانے کے بڑے بڑے عالموں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے زمانے کے مشہور علماء مثلا غزالی اور طوسی وغیرہ سے خیام کے قریبی تعلقات تھے اور علوم و فنون کے مباحث میں اکثر ان تمام لوگوں میں تبادلہ خیال ہوا کرتا تھا۔
خیام نے خراسان کے مختلف شہروں مثلا طوس، بلغ، بخارا اور دیگر دور دراز مقامات کا سفر کیا تھا اور ایک روایت کے مطابق انہوں نے حج کا فریضہ بھی انجام دیا تھا۔ بادشاہوں کی محفلوں اور ادبی مجلسوں میں بھی خیام کا اٹھنا بیٹھنا ہوتا تھا اور لوگ ان کا بہت احترام کرتے تھے۔ اس زمانے میں طب، نجوم، ہیٔت اور حکمت جیسے علوم کی بڑی قدر کی جاتی تھی اور ان تمام علوم میں خیام کو بھی ماہر سمجھا جاتا تھا۔ ایران کے بادشاہ ملک شاہ نے جب اپنے دور میں تقویم کو اصلاح کرانی چاہیے اور اپنے وقت کے ماہر منجموں کو اس کام کے لیے مقرر کیا تو ان میں قیام کا نام بھی شامل تھا۔
خیام کو حالانکہ نجوم، حساب، طب اور حکمت میں دسترس حاصل تھی لیکن ان کے عالمگیر شہرت کا دارومدار صرف ان کی تخلیق کردہ رباعیوں پر ہے۔ خیام کی رباعیاں ان کی مفکر اور فلسفی ہونے کا ثبوت دیتی ہیں۔خیام کی رباعیوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
خیام کی رباعیوں کا ترجمہ دنیا کی کئی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ فٹزجیریلڈ نے انگریزی میں ان کی رباعیوں کا ترجمہ کیا تھا جو ایک مدت تک یوں ہی پڑا رہا لیکن ینبر نے جب اس پر ایک تنقیدی مضمون لکھ کر شائع کیا تو اس کے ہاتھوں ہاتھ لیا جانے لگا اور خیام کی شہرت چاروں طرف پھیل گئی۔ خیام پر لندن میں تحقیقی مقالے اور کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور ان کی رباعیوں کو نہ صرف ایران کے کلاسیکی ادب میں شمار کیا جاتا ہے بلکہ علمی ادب کا بھی حصہ بن چکی ہیں ہندوستان میں ان کے بارے میں سید سلیمان ندوی کی ایک تصنیف شائع ہو چکی ہے۔
خیام کا ایک شاگرد نظامی عروضی سمر قندی کے مطابق خیام کا انتقال 530 ہجری سے قبل ہو گیا تھا ان کا مدفن نیشاپور سے آدھا میل کے فاصلے پر مقام حیرہ میں واقع ہے۔
| تحریر | تحسین فاطمہ |