شیخ سعدی شیرازی کی سوانح حیات

0

سعدی شیرازی کے حالات زندگی

سعدی فارسی ادبیات کے شہرہ آفاق ہستیوں میں سے ہیں۔ انہوں نے فارسی نظم و نثر دونوں میں بلند پایا تخلیقات کا اضافہ کیا اور فارسی زبان کو فصاحت کے درجے کمال پر پہنچایا۔

سعدی کا پورا نام مشرف الدین مصلح بن عبداللہ سعدی شیرازی تھا اور وہ شیخ سعدی اور سعدی شیرازی دونوں ناموں سے مشہور تھے۔سعدی کی تاریخ ولادت کے سلسلے میں کاف اختلاف پایا جاتا ہے۔

سعدی ایران کے مشہور شہر شیراز میں پیدا ہوئے۔ وہ بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے۔ لیکن ان کے آبا و اجداد نہایت علم و فضل والے تھے، اس لیے سعدی کو علم حاصل کرنے کا نہایت شوق تھا۔سعدی کی ابتدائی تعلیم ایران کے اسی شہر شیراز میں ہوئی جس کے بعد وہ بغداد کی مشہور درسگاہ مدرسہ نظامیہ میں زیر تعلیم تھے۔ بغداد کے مختلف علمی محفلوں سے بھی انہوں نے بے انتہا فیض حاصل کیا اور ان کی ذات علوم و فضائل کا خزانہ بن گئی۔

سعدی کو شدید خواہش تھی کہ ساری دنیا کو گھوم پھر کر دیکھیں اور مختلف جگہوں کے لوگوں سے مل جل کر زندگی کے بارے میں گہری واقفیت حاصل کر سکیں۔اس لیے اپنی عمر کا زیادہ تر حصہ انہوں نے سفر و سیاحت میں گزارا۔چنانچہ وہ تقریبا 30 تا 40 سال تک بغداد شام اور مکہ سے لے کر شمالی افریقہ تک گھومتے پھرتے رہے۔

سعدی نے سفر کے دوران مختلف مذہبوں اور فرقوں کے لوگوں کو دیکھا تھا، مختلف انسانی طبقات سے ربط پیدا کیا تھا اور وسیع تجربات حاصل کیے تھے معلومات کا ایک بیش بہا ذخیرہ ان کے ذہن میں محفوظ ہو گیا تھا چنانچہ جب وہ شیراز واپس ہوئے تو انہیں خیال آیا کہ تصنیف و تالیف کا کام شروع کردیں۔

انہوں نے اپنے کلام کو اکٹھا کیا، اشعار و قطعات یکجا کۓاور معرکتہ آلارا کتابیں “بوستان” اور “گلستان” تخلیق کیں۔ وہ ایک زبردست نثر نگار اور شاعر تھے۔ نثر نگاری میں بوستان اور شاعری میں گلستان دونوں نے ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ دراصل وہ ایک ایسے خوش نصیب ادیب بن گۓ تھے جنہوں نے اپنی جوانی ہی میں اپنی شہرت کا غلغلہ سن لیا تھا۔ یہ شہرت حاکم اتابک ابوبکر کے زمانے میں درجہ کمال کو پہنچ گئ تھی۔

ایران اور کئی بیرونی ممالک کے علماء و فضلاء سعدی کے خوشگوار اور مراسم تھے۔ تمام اسلامی ممالک اور عالم علم و ادب میں وہ مشہور تھے۔ ہر جگہ ان کے اشعار بڑے شوق سے پڑھے جاتے تھے اور ان کے نظریات کو عزت و فخر کے نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کے اپنے زمانے کے لوگوں کے علاوہ ان کے بعد آنے والی نسلوں نے بھی ان کا بے حد اثر قبول کیا اور ایرانی ادویات ان کے نام سے پہچانی جانے لگیں‌۔ان کی مقبولیت اور قدر و منزلت کا یہ عالم رہا کہ دنیا بھر کے عالموں اور فاضلوں نے ہمیشہ ہی ان کی بزرگی کا اعتراف کیا ہے اور اپنی تحریروں اور اشعار میں ان کے لیے نذرانہ عقیدت پیش کیا ہے۔ ایران کے مشہور عالم شاعر لسان الغیب خواجہ حافظ سعدی کو استاد سخن مانتے ہیں۔

ہندوستان کے مقبول عام شاعر حضرت امیر خسرو نے بھی طرح طرح سے ان کی خدمت میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ غیاث الدین بلبن کے بیٹے نے جو ملتان کا حاکم تھا، امیر خسرو کا کلام تحفہ کے طور پر سعدی کو بھیجا تھا اور دو مرتبہ انہیں ملتان انے کی دعوت دی تھی لیکن سعدی ضعیفی کی وجہ سے آنہ سکے اور انہوں نے دونوں ہی بارجواب میں خود اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا اپنا دیوان تحفہ کے طور پر اسے بھیجا۔

سعدی نے 655 ہجری میں”بوستان” مکمل کی تھی جو نظم کے پیرائے میں ہے ۔بوستان ایک نہایت طویل مثنوی ہے جس میں کئی اہم اور سود مند حقائق کو حکایتوں کے روپ میں پیش کیا گیا ہے اس تصنیف میں سعدی کی مثنوی گوئی کا فن کمال کو پہنچا ہوا ہے۔ یہ کتاب دس ابواب پر مشتمل ہے اور سعدی نے ایک دانشور کی حیثیت سے اس میں عدل اور تدبیر، احسان کی فضیلت، عشق و مستی، تواضع اور رضا کی فضیلت اور قناعت جیسے پہلووں کو موضوع بنایا ہے۔تکمیل بوستان کے ایک سال بعد سعدی نے “گلستان” مکمل کی جسے فارسی نثر میں فصاحت و بلاغت کا بہترین نمونہ تسلیم کیا گیا ہے۔ سعدی نے اس تصنیف کو اپنے فراغ البالی کے زمانے میں لکھا تھا۔

بوستان اور گلستان کے علاوہ سعدی نے کئی قصائد، غزلیات، رباعیات، قطعات ،ترجیع بند مقالات اور عربی قصائد بھی تصنیف کیے تھے جو ان کے کلیات میں شامل ہیں۔ وہ پہلے شاعر تھے جنہوں نے بڑی بے باکی کے ساتھ حق گوئی کو اپنایا تھا اور اپنے زمانے کے حکمرانوں کے آگے حیات و کائنات کے عبرت انگیز حقائق کو بڑی آزادی اور جرات کے ساتھ بیان کیا تھا۔

آخر میں ہمیں کہہ سکتے ہیں کہ شیخ سعدی کی تصانیف خواہ نثر میں ہو کے نظم میں ان کے علمی تجر، اور ادبی عظمت کا زبردست ثبوت ہیں۔ یہ ایک حکیم اور دانہ ہستی کے غور و فکر وسیع تجربات، گہرے مشاہدات اور گوناگوں معلومات کا نادر و نایاب ثمرہ ہیں۔ اسی لیے یہ فارسی کے کلاسیکی ادب کا انمول حصہ ہیں اور سعدی کا شمار ان کے اپنے زمانے سے لے کر آج تک بھی گنتی کے چند بڑے بڑے دانشوروں اور نامور شاعروں میں ہوتا ہے۔اور سعدی کی تصانیف کا ترجمہ دنیا کی تمام اہم زبانوں میں ہو چکا ہے۔

آخر میں گلستان کے بعض اشعار کی روشنی میں کئی محققوں اور مورخوں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ 606 ہجری سعدی کی صحیح تاریخ پیدائش ہو سکتی ہے۔ سعدی کی وفات 693ہجری میں اپنے وطن شیراز میں ہوئی اور وہی دفن ہوئے۔

از قلم تحسینہ ماونکٹی