الفاظ کا ایسا مجموعہ جس سے لغوی معنی کے بجائے ایک قرار یافتہ (مجازی) معنی نکلتے ہوں محاورہ کہلاتا ہے۔ محاورے میں عموماً علامت مصدر "نا” لگتی ہے جیسے اپنے منہ میاں مٹھو بننا، آب آب ہونا، سبز باغ دکھانا، ہاتھ بٹانا، ہاتھ مانگنا، گل کھلانا وغیرہ۔

محاورے میں تذکیر و تانیث، واحدوجمع اور ماضی و حال و مستقبل کے اعتبار سے حسب ضرورت اور حسب موقع صیغہ میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ نیز جملے میں محاورے کی علامتِ مصدر "نا” اسی خیال کے مطابق بدل دی جاتی ہے جو اس جملے میں استعمال ہو رہا ہو۔ جیسے پانی پانی ہونا سے پانی پانی ہو گیا پانی پانی ہو جاتا ہے، وہ اپنے منہ میاں مٹھو بن رہا تھا وغیرہ۔

محاورے میں ہمیشہ حقیقی معنی کے بجائے مجازی معنی مراد ہوتا ہے۔ اہل زبان تو اپنے محاورات کے مجازی معنی خوب سمجھتے ہیں مگر غیر زبان والے کو ان کا معنی سمجھنا دشوار ہوتا ہے۔ہم یہاں یہاں کچھ مشہور محاورات کے معنی مع ان کے جملوں کے پیش کر رہے ہیں۔محاورات کو بلحاظ حروف تہجی پڑھنے کے لئے نیچے کے اسباق کی طرف رجوع کریں۔

Advertisements