Advertisement

تعارفِ غزل :

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام شیخ غلام ہمدانی مصحفی ہے۔ یہ غزل دیوانِ مصحفی سے ماخوذ کی گئی ہے۔

Advertisement

غزل نمبر ۱

دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا
غم دل سے اور دل سے میرے غم قریں رہا

تشریح :غم ، دکھ اور المیہ انسانی زندگی کا ایک فطری حصہ ہے۔ اس شعر میں شاعر نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انسانی زندگی دکھوں اور مسائل سے گھری ہوئی ہے۔ چناں چہ شاعر کہتا ہے کہ میں جب تک آلام و مصائب کا شکار غم میرے دل کے آس پاس رہے اور اس حد تک رہے کہ دل کو ان کی رفاقت میں مزہ آنے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کبھی رنج و الم نے میرے دل کا ساتھ چھوڑنے کا ارادہ کیا بھی تو دل ان کے قریب ہونے لگا۔ گویا دل اور غم ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہو گئے۔ جب غم انسان کے دل کا رفیق ہو جاۓ تو یہ غم غم نہیں رہتا۔

Advertisement
رونے سے کام بسکہ شب اے ہم نشیں رہا
آنکھوں پہ کھینچتا میں، سرِ آستیں رہا

تشریح : شاعر کہتا ہے کہ بدقسمتی نے مجھے ہر طرف سے ناکام و نامراد کر دیا ہے اور مایوسیوں نے میرے تمام راستے بند کر دیے ہیں۔ ان حالات میں شب بھر آہ و زاری کرنا میرا معمول بن چکا ہے۔ چناں چہ میں ساری ساری رات روتا رہتا ہوں۔ آنکھوں سے آنسوؤں کی ندیاں رواں دواں رہتی ہیں اور ایسے میں، جیسا کہ انسانی مزاج ہے ، وہ ان آنسوؤں کو صاف کرنے کے لیے بار بار اپنی آستیں کا استعمال کرتا ہے۔ آنکھوں کو خشک کرنے کے لیے بھی آستین استعمال کرتا ہے، لیکن گریہ و زاری کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لیتا۔ محبوب کے فراق میں اس رنج والم کا اظہار اردو شاعری کا ایک روایتی انداز رہا ہے۔

Advertisement
نازک مزاج تھا میں بہت اس چن کے بیچ
جب تک رہا تو خندۂ گل سے حزیں رہا

تشریح : اس شعر میں شاعر اپنے مزاج کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں نے اس قدر نازک طبیعت پائی ہے کہ کسی کے جنبش ابرو کا اثر بھی قبول کرتا ہوں۔ چناں چہ اس باغ میں پھولوں کے کھلنے کو میں ان کے جسم کے مترادف سمجھتا رہا۔ مجھے یہی محسوس ہوتا رہا کہ پھول میری مجبوریوں ، میری تکالیف اور میرے مصائب پر ہنس رہے ہیں۔ گویا شاعر لوگوں کی مسکراہٹوں کو طنز سے تعبیر کرتا رہا اور اسے احساس ہوتا رہا کہ لوگ ان کی بدقسمتی پر مسکرارہے ہیں۔
یہ انسانی نفسیات کا ایک اہم پہلو ہے کہ دل خوش ہو تو ہر طرف پھول کھلے نظر آتے ہیں۔ بہار ہی بہار دکھائی دیتی ہے اور دل دکھی ہو تو دکھی آنکھ کی طرح دل میں ہوا سے بھی درد لگتا ہے۔

ہمدم جو دیکھتا ہوں تو پہلو میں دل نہیں
بیٹھا تھا اس کے پاس، مرا دل وہیں رہا

تشریح : اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے اور بجا طور پر سمجھتا ہے کہ اس کا دل ، اس کا رفیق ، ہمدرد اور دم ساز ہے۔ آزمائش و مصیبت میں اس کی دل داری کرے گا، ڈھارس بندھائے گا تسلی دے گا۔ چونکہ دل ، انسانی جسم کا اٹوٹ انگ ہے، اس لیے ہم تصور نہیں کر سکتے کہ وہ بھی ہم سے جدا ہو گا لیکن میری ہستی اس حد کو پہنچ گئی ہے کہ جب میں نے جائزہ لیا تو میرا وہ ہمدم دیرینہ غائب تھا اور مجھے چھوڑ کر جا چکا تھا۔ مجھے سخت تشویش ہوئی کہ میرا غم گسار کہاں گیا؟ جب مجھے یاد آیا کہ میں تو محبوب دل پذیر کی محفل میں گیا تھا، وہاں سے میں تو واپس آ گیا لیکن میرا دل اس انجمن میں پڑا رہ گیا۔

Advertisement
آخر کو ہو کے لالہ اگا نوبہار میں
خونِ شہیدِ عشق نہ زیرِ زمیں رہا

تشریح : اس شعر میں شاعر نے کائنات میں عشق کی کارفرمائی اور اس کے بلند مرتبہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ عاشق صادق کا خون بھی رائگاں نہیں جاتا۔ اگر محبوب اپنی سنگ دلی کے باعث اسے قتل بھی کر دے تو بہار کی آمد کے ساتھ ہی اس جگہ گل لالہ اگ آتے ہیں، جہاں عاشق کا خون بہایا گیا تھا۔ گویا پھولوں کا حسن اور سرخی عاشق صادق کے لہو سے مشروط ہے۔ اس خیال کو بعد میں مرزا غالب نے اس طور باندھا تھا :
سب کہاں، کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں

دی جان ایسے ہوش سے اپنی کہ خلق کو
جینے کا میرے تا دم آخر یقیں رہا

تشریح : اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ جن کو اپنے نظریات کی صداقت پر یقین ہوتا ہے، وہ اس پر ہر صورت قائم رہتے ہیں۔ تاریخ میں ایسے کتنے ہی واقعات رونما ہو چکے ہیں جب ایک شخص اپنے نظریے، اپنی بات اپنے عشق کی صداقت کے پیش نظر جان کی بازی لگانے کو تیار ہو گیا۔ شاعر کو بھی اپنے عشق کی سچائی ، اس کی بلندی اور اس کی عظمت کا بھر پور احساس ہے ، اس لیے وہ کہتا ہے کہ لوگ سمجھتے تھے کہ میں راہ عشق کی مشکلات سے گھبرا جاؤں گا۔ محبت کی پرخار راہوں میں تھک ہار کے بیٹھ جاؤں گا لیکن پھر سب نے دیکھا کہ جب مجھے جرم محبت میں مقتل کی طرف لے جایا جار ہا تھا تو میں کس شان و شوکت سے جان دینے کو تیار ہو گیا۔ میرے عزم اور میرے استقلال کو دیکھتے ہوئے آخری لمحے تک لوگوں کو یقین رہا کہ میں مر نہیں پاؤں گا۔ دراصل موت کو مردانگی سے قبول کرنا ہی زندگی ہے۔

Advertisement
یاران گرم رو تو سب آگے نکل گئے
ان سے میں ننگِ قافلہ پیچھے کہیں رہا

تشریح : اس شعر میں شاعر اپنے افسوس کا اظہار کررہے ہیں کہ وہ ہر معاملے میں اپنے دوستوں اور شناساؤں سے کیسے پیچھے رہ جاتے ہی۔ں عشق و محبت کے میدان میں وو سب خوش بخت ہیں اور شاعر کی آرزوئیں حسرتوں میں ہی تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور اب اگر دنیا سے نجات پانے کا مرحلہ آیا تو شاعر کی قسمت ملاحظہ ہو کہ اس کے دوست احباب اجسام خالی سے آزاد ہو گئے لیکن شاعر زمانے کے سرد و گرم سہنے کے لیے تہنا بچ گیا۔ یعنی شام زندگی کی مسرتوں کے معاملے میں، عشق و محبت کے سلسلے میں اور پھر دنیا سے کوچ کے اعتبار سے شاعر ہمیشہ ہی بد قسمت رہا اور کاروان حیات کی شرمندگی کا باعث بنا، کیوں کہ وہ اس قافلے کی تیز روئی کا ساتھ نہیں دے سکا۔

رکھوں میں روک کیونکر دل اپنے کو مصحفی
میرے کہے میں اب تو مرا دل نہیں رہا

تشریح : یہ بھی اردو غزل کا روایتی مضمون ہے ، جسے شاعر نے اس مقطع میں قلم بند کیا ہے کہ شاعر کے دل پر وارفتگی کا عالم اس قدر طاری ہے کہ اس پر قابو پانا خود عاشق کے بس میں بھی نہیں رہا۔ عقل اور دل کو ویسے بھی ایک دوسرے کے متضاد سمجھا جاتا ہے۔ عقل کے فیصلے منطق اور دلیل کے تابع ہوتے ہیں جبکہ دل کے معاملات میں جذبات کی کارفرمائی ہوتی ہے، وہاں کوئی سائنس تو یہ کام نہیں کرتی۔ عشق کے میدان میں عقل کا فیصلہ تو یہی ہے کہ ہر معاملے میں حالات و واقعات کی نزاکت کو سمجھا جائے اور کوئی بھی ایسا قدم اٹھانے میں احتیاط برتی جائے ، جو جگ ہنسائی کا سبب بن جائے لیکن دل ان تمام معاملات میں فوری کاروائی کا حامی ہے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement