Advertisement

نظم : حمد

تعارفِ نظم :

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”مستقبل کی جھلک“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام مولانا ظفر علی خان ہے۔ یہ نظم کتاب ”حبسیات“ سے ماخوذ کی گئی ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر :

ظفر علی خان شاعر بھی تھے ، مدیر بھی اور آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے والے ایک سرگرم سیاسی کارکن بھی۔ مولانا ظفر علی خاں اس وقت کے مشہور روزنامے ’’ زمیندار‘‘ کے مدیر رہے ، مولانا کا سیاسی مسلک گاندھی جی کی عدم تشدد کی حکمت عملی سے بہت مختلف تھا ، وہ برطانوی حکمرانوں سے براہ راست ٹکراؤ میں یقین رکھتے تھے۔

Advertisement
پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دورِ جام اس کا
کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطف عام اس کا

تشریح :

حمد کے اس مطلع میں شاعر نے اللہ تعالی کی عظمت و کبریائی اور اس کی رحمتِ عام کا ذکر کرتے ہوۓ کہا ہے کہ اللہ تعالی کی شان ربوبیت یہ ہے کہ وہ کسی کو بھی اپنی رحمتوں سے محروم نہیں کرتا اور مخلوق کے ایک ایک فرد کو رزق اور دیگر نعمتوں سے نوازتا ہے۔ اس کی رحمتوں کا دورِ جام بلا تفریق اور امتیاز ہر کس و ناکس کی تشنگی کو دور کرتا ہے۔ نہ رنگ ونسل کا امتیاز ، نہ چھوٹے بڑے کی تفریق اور نہ کوئی شرط۔ اللہ تعالی سے قربت ، وابستگی او تعلق صرف بندے کی چاہت اور طلب پر قائم ہے۔ وہ ذات اکمل بہت رحیم و کریم ہے، وہ پتھر میں کیڑے کو روزی پہنچاتا ہے اور ہر کہ و مہ کو خواہ وہ ادنی ہو یا اعلی رزق پہنچاتا ہے۔

Advertisement
گواہی دے رہی ہے اس کی یکتائی پہ ذات اس کی
دوئی کے نقش سب جھوٹے‘ ہے سچا ایک نام اس کا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کی قدرت اس کے یکتا، بے مثل ، منفرد اور وحدہ لاشریک ہونے پر گواہ ہے۔ یہ دریاؤں کا چلنا ، سیاروں اور ستاروں کی گردش ، موسموں کا تغیر و تبدل، کائنات کے ذرے ذرے کا قوانین فطرت کا پابند ہونا اور سیکڑوں ہزاروں سال ایک ہی پابندی کے ساتھ نظام فطرت کا رواں دواں رہنا، اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ یہ سب کچھ کسی بے مثال ہستی کا پیدا کردہ ہے اور اس نظام کے بنانے اور چلانے میں اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ شان یکتائی تسلیم کرنے کے لیے کسی بڑی بصیرت کی بھی ضرورت نہیں۔ اس کی بے مثال صناعی کی ایک ہی علامت اس کی پہچان کے لیے کافی ہے۔

ہر اک ذرہ فضا کا داستاں اس کی سناتا ہے
ہر اک جھونکا ہوا کا آکے دیتا ہے پیام اس کا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک ایک ذرہ اپنے بنانے والے کی صناعی اور قدرت کاملہ کی داستان سناتا ہے کہ وہ بڑا خالق ہے۔ اسی طرح ہوا کا ایک ایک جھونکا اس ذات یکتا کے ہونے اور ہر شے پر کامل قدرت رکھنے کی گواہی دیتا ہے۔ یہ سیاروں اور ستاروں کا چلنا ، یہ دریاؤں کا بہنا، یہ ہواؤں کی سرسراہٹ ، سورج کی چمک ، فصلوں کی لہلہاہٹ ، یہ پہاڑوں کی استقامت ، سمندر کا مد و جزر اور کائنات میں ہر چیز کا ایک مقررہ اصول و ضابطے کی پابندی اس ذات باری کے زبردست متنظم ہونے پر شاہد ہیں اور اس کے موجود ہونے کا پیغام دیتے ہیں۔ یہ سب اس بات کی شہادت بھی کہ یہ سب کچھ بلا مقصد اور اتفاقی نہیں ہے بلکہ سارا نظام فطرت ایک منصوبے کے تحت چل رہا ہے۔

Advertisement
سراپا معصیت میں ہوں سراپا مغفرت وہ ہے
خطا کوشی روش میری خطا پوشی ہے کام اس کا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ خطا کاری اور غلطی انسان کے خمیر میں شامل ہے اور اللہ تعالی کی ذات جسے حفظ و امان میں رکھے وہ تو بچ سکتا ہے ورنہ خطا کاری سے بچنا محال اور ناممکن ہے۔ یہ بھی صفت اسی کی ہے کہ اللہ تعالی کی ذات خطاؤں سے پاک اور بالا ہے۔ جب کہ مخلوق سے غلطی کا ہر لمحے امکان رہتا ہے۔ شاعر نہایت عاجزی سے اپنی خطاؤں کا اقرار کرتے ہوۓ اس ذات بابرکات کی رحمتوں کا اعتراف بھی کر رہے ہیں کہ انسان بار بار خطا کرتا اور رب بار بار معاف کرتا ہے۔ انسان بار بار خطا کاری کرتا ہے جب کہ رب العزت ستار العیوب ہے اس لیے وہ انسان کو بار بار معاف فرما دیتا ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالی اپنی مخلوق سے ماں سے بھی ستر گنا زیادہ محبت کرتا ہے اور وہ سراسر رحمت ہے لیکن اگر انسان خطا کاری کو وتیرہ بنالے تو اللہ کو یہ سخت ناپسند ہے۔ خطاکاری کو بطور روش اپنانا غلط ہے۔ اللہ تعالی پچھتانے والے اور مغفرت طلب کرنے والے کو ہی معاف کرتا ہے۔

مری افتادگی بھی میرے حق میں اس کی رحمت تھی
کہ گرتے گرتے بھی میں نے لیا دامن ہے تھام اس کا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ بعض اوقات ایک بات انسان کو وقتی طور پر گراں گزرتی ہے اور انسان کے لیے باعث پریشانی یا ندامت کا سبب بنتی ہے لیکن اس میں سے خیر کا پہلو نکل آتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میرا گرنا اور بھٹک جانا بھی اسی طرح میرے لیے بہتر ثابت ہوا۔ میں گناہوں میں مبتلا ہوا، مقام انسانیت سے گرا، اللہ تعالی کے بتاۓ ہوۓ راستے سے ہٹ گیا۔ پھر یوں ہوا کہ مجھ میں احساس ندامت پیدا ہوا اور میں نے اللہ تعالی کی طرف رجوع کیا ، اس کا دامن پکڑا، اس سے مغفرت طلب کی ۔اللہ تعالی نے میری عاجزی کو قبول کیا اور مجھے اپنی رحمت کے ساۓ میں لے لیا۔ یوں میرا گرنا میرے حق میں رحمت ثابت ہوا کہ انجام کار کے لحاظ سے میں باری تعالی سے قریب ہو گیا۔

Advertisement
ہوئی ختم اس کی حجت اس زمیں کے بسنے والوں پر
کہ پہنچایا ہے ان سب تک محمدؐ نے کلام اس کا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ خالق کائنات نے زمین بنائی ، اس میں انسان کو اتارا۔ آبادی بڑھی تو انسان کی ہدایت کے لیے اللہ نے نبی بھیجے اور ان پر صحیفے اور کتابیں نازل کیں۔ لیکن کچھ ناشکرے انسانوں نے ہدایت کی بجاۓ مخالفت کا راستہ اختیار کیا۔ چنانچہ نبی آخرالزمان سے پہلے ہر طرف کفر و شرک کا دور دورہ تھا۔ لوگ کفر میں بہت آگے بڑھ چکے تھے۔ ایسے میں اللہ تعالی نے نبی آخرالزمان کو ہدایت کے لیے بھیجا۔ آپ نے ۲۳ سال تک دعوت دین کا کام کیا۔ یہاں تک کہ اللہ پاک نے حجتہ الوادع کے روز یہ آیت نازل کی۔ الیـوم اكـمـلـت لکم دینکم، یعنی آج کے دن میں نے تمھارا دین تمھارے لیے مکمل کر دیا۔ اب کسی کے پاس انکار کی کوئی دلیل باقی نہیں رہی۔ تمام حجت ہوگئی اور دین کی تکمیل بھی۔ ظفر علی خاں کہتے ہیں کہ نبی کریم نے پوری زندگی اور آخر کار حجتہ الوداع کے روز اللہ کی وحدت کا پیغام بنی نوع انسان تک پہنچایا اور قرآن کریم کی صورت میں کلام الہیٰ سے ہمیں سرفراز فرما کر بنی نوع انسان پر حجت تمام کر دی۔

بجھاتے ہی رہے پھونکوں سے کافر اس کو رہ رہ کر
مگر نور اپنی ساعت پر رہا ہو کر تمام اس کا۔

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ حق و باطل کے درمیان کشمکش ہمیشہ سے رہی ہے۔ باطل کی یہ کوشش ہمیشہ رہی کہ نور حق کو پھیلنے سے روکا جاۓ مگر حق تو ہے ہی اس لیے کہ اسے مانا جاۓ چنانچہ حق کا چراغ ہمیشہ جلتا رہتا ہے۔ یہ کشمکش اس وقت سے جاری ہے جب سے معاشرہ وجود میں آیا اور جب تک انسان کا وجود ہے جاری رہے گی۔ شعر کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ہر دور میں انسان کی ہدایت کے لیے نبی مبعوث فرماۓ جنھوں نے انسان کو صراط مستقیم دکھائی۔ اللہ تعالی کا پیغام عام کیا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اللہ کا پیغام عوام تک پہنچایا تو مخالفین نے حق کو روکنا چاہا مگر حق غالب ہو کر رہا اور اللہ تعالی کی وحدانیت کا پیغام لاکھ مخالفتوں کے باوجود عام ہو کر رہا۔

Advertisement

1 : شاعر نے حمد میں باری تعالیٰ کی کون کون سی صفات بیان کی ہیں ؟

جواب : شاعر نے اس حمد میں باری تعالیٰ کی یہ صفات بیان کی ہیں کہ وہ رازق ہے، وحدہ لاشریک ہے۔ محمود ہے، رحیم ہے اور ستار العیوب بھی ہے۔

2 : مندرجہ ذیل تراکیب کے معنی لکھیے :

دور جام :شراب کے پیالے کی گردش
لطف عام :ایسی عنایت جس سے ہر کوئی فیض اٹھائے
تشنہ لب : نہایت پیاسا
خطاکوشی :غلط کاری
خطا پوشی :عیبوں پر پردہ ڈالنا

3 : مندرجہ ذیل الفاظ کا تلفظ اعراب کی مدد سے واضح کیجیے :

تَشْنَہُ
مَعْصِیَتُ
رَوِشُ
مَحبَّتُ
سَاعَت
تَحَمُّل

4 : اس شعر کی تشریح اپنے استاد کی مدد سے خطبہ ججۃ الوداع کے حوالے سے کیجیے:

ہوئی ختم اس کی حجت اس زمیں کے بسنے والوں پر
کہ پہنچایا ہے ان سب تک محمدؐ نے کلام اس کا۔

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ خالق کائنات نے زمین بنائی ، اس میں انسان کو اتارا۔ آبادی بڑھی تو انسان کی ہدایت کے لیے اللہ نے نبی بھیجے اور ان پر صحیفے اور کتابیں نازل کیں۔ لیکن کچھ ناشکرے انسانوں نے ہدایت کی بجاۓ مخالفت کا راستہ اختیار کیا۔ چنانچہ نبی آخرالزمان سے پہلے ہر طرف کفر و شرک کا دور دورہ تھا۔ لوگ کفر میں بہت آگے بڑھ چکے تھے۔ ایسے میں اللہ تعالی نے نبی آخرالزمان کو ہدایت کے لیے بھیجا۔ آپ نے ۲۳ سال تک دعوت دین کا کام کیا۔ یہاں تک کہ اللہ پاک نے حجتہ الوادع کے روز یہ آیت نازل کی۔ الیـوم اكـمـلـت لکم دینکم، یعنی آج کے دن میں نے تمھارا دین تمھارے لیے مکمل کر دیا۔ اب کسی کے پاس انکار کی کوئی دلیل باقی نہیں رہی۔ تمام حجت ہوگئی اور دین کی تکمیل بھی۔ ظفر علی خاں کہتے ہیں کہ نبی کریم نے پوری زندگی اور آخر کار حجتہ الوداع کے روز اللہ کی وحدت کا پیغام بنی نوع انسان تک پہنچایا اور قرآن کریم کی صورت میں کلام الہیٰ سے ہمیں سرفراز فرما کر بنی نوع انسان پر حجت تمام کر دی۔

Advertisement

5 : اس حمد کے قوافی اور ردیف کی نشان دہی کیجیے۔

ردیف :
اس کا
قوافی :
جام
عام
نام
پیام
کام
تھام
کلام
تمام

Advertisement

Advertisement

Advertisement