نام و نسب :☜

امام ابن ماجہ کا پورا نام اس طرح ہے؛ حافظ عبد اللہ بن یزید الربعی ابن ماجہ القزوینی؛ لقب حافظ ؛ کنیت عبداللہ ؛ نام محمد ؛ آپ کے والد کا نام یزید ہے۔اور ربعی ؛ ربعہ بن نزار کی جانب نسبت ہے۔قبیلہ ربعیہ سے نسبت ولاء کی بناء پر انکو ربعی کہتے ہیں۔جس طرح امام بخاریؒ کو نسبت ولاء کی وجہ سے جعفی کہتے ہیں۔اور قزوینی ؛ قزوین کی طرف نسبت ہے۔جو عراق و عجم کا مشہور شہر ہے۔یہ ایران کے صوبہ آذر بائیجان میں واقع ہے جو امام ابن ماجہؒ کا وطن ہے۔

ولادت اور حالات زندگی:☜

امام ابن ماجہ 209ھ عراق و عجم کے مشہور شہر قزوین میں پیداء ہوۓ۔عام دستور کے مطابق ابتدائی تعلیم کی تکمیل کے بعد انھوں نے علم حدیث کی طرف رجوع کیا۔وطن اور بیرون وطن ہر جگہ روایت حدیث کو تلاش کیا اور دور دراز علاقوں میں جاکر علم حدیث حاصل کیا۔ تحصیل علم کے سلسلے میں انہوں نے خراسان ؛ عراق ؛ حجاز ؛ مصر ؛ اور شام کے متعدد شہروں کا سفر کیا۔ جن میں مکہ معظمہ  ؛ مدینہ طیبہ  ؛ کوفہ  ؛ بصرہ ؛ بغداد اور ظہران کے نام قابل ذکر ہیں۔

امام ابن ماجہ کے اساتذہ و شیوخ کے اوطان پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے ان اساتذہ سے حصول علم کی خاطر اور شہروں کا بھی سفر کیا۔ جن میں اصفہان  ؛ ہوازن ؛ ایلہ ؛ بلخ ؛ بیت المقدس ؛ حران  ؛ دمشق ؛ فلسطین  ؛ عسقلان ؛ مرو اور نیشاءپور کا نام خاص طور پر لیا جاتا ہے۔

اساتذہ :☜

  • امام ابن ماجہ کے اساتذہ کی بھی ایک کثیر تعداد ہے۔ جن میں چند حضرات کے اسماء درج ذیل ہیں۔
  • محمد بن عبد اللہ بن نمیر
  • جبارہ بن المفلس
  • ابراہیم بن منذر الخزامی
  • عبد بن معاویہ
  • ہشام بن عمارہ
  • محمد بن رمح
  • داؤد رشید
  • ابو خیصمہ زہیر بن حرب
  • عثمان بن ابی شیبہ
  • عبد اللہ بن احمد بن بشیر ذکوان دمشقی وغیرہ ۔

تلامذہ:☜

امام ابن ماجہ سے فیض حاصل کرنے والے اور ان سے احادیث کی روایت نقل کرنے والے حضرات کی بھی ایک طویل فہرست ہے جن میں چند حضرات کے اسماء درج ذیل ہیں۔

  • علی بن سعید عبد اللہ الفلانی
  • ابراھیم بن دینار الجرشی الصمدانی
  • احمد بن ابراھیم قزینی
  • ابو طیب احمد روح الشعرانی
  • اسحاق بن محمد القزوینی
  • جعفر بن ادریس
  • حصین بن علی بن برانیاد
  • سلیمان بن یزید القزوینی
  • محمد بن عیسی الصغار
  • حافظ ابو الحسن علی بن ابرھیم بن سلمہ القزوینی وۼیرہ ۔

تصانیف:☜

امام ابن ماجہ کی تین کتابیں یادگار ہیں۔

  • 1:☜ سنن ابن ماجہ
  • 2:  ☜تفسیر ابن ماجہ
  • 3:☜التاریخ صحابہؓ سے لیکر مصنف کے عہد تک کی تاریخ ۔

وصال:☜

چونسٹھ64 سال کی زندگی گزار کر 22 رمضان المبارک 273ھ پیر کے دن امام ابن ماجہؒ کا انتقال ہو گیا اور منگل کے دن آپکوؒ دفن کیا گیا۔ حافظ ابوالفضل مقدسی شروط الائمہ الستہ میں لکھتے ہیں کہ آپؒ کے بھائی ابو بکر نے آپؒ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپؒ کے صاحبزادے اور دو بھائیوں نے مل کر قبر میں اتارا۔

مرثیہ:☜

متعدد شعراء نے آپؒ کی وفات پر دردناک مرثیہ لکھے ہیں۔محمد بن الاسود کے مرثیے کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:☜      

لقد ادھی دعائم۞وضعضع رکنه فضواابن ماجه
﴿ابن ماجہ کے وصال نے سریر علم کے ارکان توڑ ڈالے ہیں﴾

الا اللہ ما جنت المنایا۞علینا تحظم یاابن ماجه
﴿موت نے ابن ماجہ کو ہم سے چھپا کر زیادتی کی ہے۔        اس کی فریاد بس اللہﷻ ہی سے ہیں﴾

فمن یرجعی لعلم او لحفظ۞بشرح بین مثل ابن ماجه
﴿اب علم اور حفظ کے باب میں کس سے توقع کی جاۓ کہ وہ ابن ماجہ کی سی شرح کر سکیں﴾

اباعبدالإله مفیت فردًا۞وما خلقت مثلک یا ابن ماجہ!
﴿اے ابو عبد اللہ! تم اپنے دور میں یگانہاور منفرد تھے۔اور تم نے اپنے بعد اپنی نظیر نہیں چھوڑی﴾

بعض مرثیوں کے اشعار حافظ ابن حجر نے بھی تیذب التھذیب میں نقل فرمائے ہیں۔بہر حال ان اشعار سے پتہ چلتا ہے کہ امام ابن ماجہ اپنے دور کی محبوب اور ہر دل عزیز شخصیت تھے اور اہل قزوین میں ان کے لئے بے حد خلوص اور احترام پایا جاتا تھا۔

Advertisements